{"product_id":"hassan-ki-suratay-hall-by-mirza-athat-baig-حسن-کی-صورتحال-از-مرزا-اطہر-بیگ","title":"Hassan ki suratay hall by Mirza Athat Baig | حسن کی صورتحال از مرزا اطہر بیگ","description":"\u003cp\u003e\"حسن کی صورتحال(خالی جگہیں پر کرو)\"از مرزا اطہر بیگ\" (تکنیکی جائزہ)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eبیسویں صدی میں جہاں جدیدیت اور روشن خیالی کے نظریات کا پرچار ہوا وہاں اس صدی کے اواخر میں جدید رویوں اور تصورات کی لہر بھی زور و شور سے ابھری آرٹ اور فنون کے تمام شعبے اور زندگی کے بہت سے معاملات جہاں جدیدیت کی دین سے متاثر ہوئے وہاں دوسری طرف مابعد جدیدیت کی واضح جھلکیاں بھی آرٹ اور فن میں برابر محسوس کی گئیں لہذا ادب بھی ان تحریکوں اور مابعد جدید رویوں کا تاثر قبول کیے بنا نہ رہ سکا اور اس کی بعض مثالیں اردو فکشن خصوصا ناول اور افسانے میں دیکھنے کو سامنے آئی جدیدیت کے علمبرداروں روشن خیالی یا خردافروزی کی شمع جلانے والوں كا تقسیم سے پهلے اور تقسیم كے بعد بھی ایك ریلا دكهای دیتا هے اور ان سے متاثر ادیب بھی اپنی تخلیقات كے ذریعے نماینده نظریات كو كسی صورت میں پیش كرتے هیں مگر مابعد جدیدیت جسے تحریك كی بجایے صورتحال یا رویے كا نام دینا زیاده مناسب سمجھاگیا اس كے زیرِاثر لكهنے والوں كا گروه بیسویں صدی میں كم هی نظر آتا هے اور یوں محسوس هوتا هے جیسے اكیسویں صدی كا سورج هی اس كی روشنی اپنے ساتھ لایے گا\u003cbr\u003eمابعدجدیدیت ویسے تو انیس سو پچاس کی دہائی سے ادبی اور فکری منظر ناموں پر موجود تھی مگر اس نے عروج کی منزلیں انیس سو اسی میں طے کیں مگر ہمارے ہاں اس کا شورو غوغا اکیسویں صدی میں هی بلند ہوا اور اب دنیا کے ہر کونے میں ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے کہ ہم مابعد جدید عہد میں رہے ہیں مابعد جدیدیت نے عقل کے فراہم کردہ معیارات کوکڑی تنقیدی نظر سے دیکھا, پرکھا اور جانچا ایک شے اس سے لازم و ملزوم قرار دی گئی جس کو تشکیک کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی ہر شے کو شک كی لیبارٹری سے گزارا جائے مابعد جدیدیت اپنے اندر بہت سے افکار اور نظریات کو سموئے ہوئے ہے جن میں لاکان ,دریدا ,فوکو ,بادریلا اور لیوتار کے خیالات کی واضح بازگشت سنائی دیتی ہے اور ان کے بغیر مابعد جدیدیت کا دائرہ کار مکمل نہیں ہو پاتا دریدا نے رد ساخت یا رد تشکیل کا فلسفہ پیش کیا ردتشکیل کے مطابق متن کے معنی کا کوئی مرکز نہیں ہے اور اسی طریقہ کار میں متن کے متعینہ معنی کو بے دخل کرنے کا رجحان فروغ پاتا ہے دریدا نے ساختیات کے تصورات کو بنیاد بنا کر جن كو سوسیر(sauccer) نے پیش کیا تھا ان کو پلٹ ڈالا رد تشکیل کا بنیادی سروکار معنی سے ہے اور اس بات پر بارہا اصرار کیا جاتا ہے کہ ایک لفظ کے مخصوص معنی نہیں بلکہ ایک سے زائد ہو سکتے ہیں اور ایک متن کی تشریحات بھی ایک سے زائد کی صورت میں ممکن ہے جس کے نتیجے میں پہلے معنی کی موجودگی ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا معنی یا مفہوم لے لیتا ہے اس کے مطابق زبان افتراقات کا نظام ہے اور یہی نظریہ افتراق دریدا کا مرکزی نقطہ ہے. زبان کے جاری نظام میں معنی دو طریقوں سے پیدا ہوتے ہیں ایک فرق سے دوسرا التوا سے. اور اسی وجہ سے معنی خیزی کا عمل یاكھیل جاری رہتا ہے دریدا اس بات پر بھی اصرار کرتا ہے که معنی پیدا کرنے کا عمل \"موجودگی\" سے جڑا ہوا ہے مگر معنی تفریقی رشتے کے موجود اور ناموجود دونوں عناصر سے قائم ہوتا ہے دریدا کے نظریات كی واضح جھلكیاں \"حسن کی صورتحال (خالی جگہیں پر کرو)\" میں ملتی ہیں جہاں ناول میں ایک نئی بیانیہ تکنیک متعارف ہوتی ہے اور سیدھی سیدھی کہانی بیان کرنے کی بجائے متن کی ایک سے زائد متبادل تشریحات پیش کرنے کا گر اپنایا جاتا ہے ہر واقعے کی مختلف توضیحات پیش کرتے ہوئے\"\"\" ہوسکتا ہے\"\"\"کی تکرار ناول کا حصہ بنتی ہے یعنی واقعہ ایک ہی ہے مگر اس کے پس منظر مختلف نوعیتوں کے بیان کئے جاتے ہیں اور حتمی پیشکش کی بجائے متعدد سطحوں كے معانی اور مفاهیم شامل هوتے هیں مصنف جهاں خود تخیل كے سحر میں گرفتار هو كر ایك واقعے كو بهت سارےمعنی پهناتا هوا آگے بڑھتا هے وهاں وه قاری كو بھی انگلی تھام كر ساتھ چلنے پر مجبور كرتا هے اور قاری ایك هی جست میں مصنف كا هم خیال هو كر هر واقعے كے متعدد پس منظر اخذ كرتا هے قراءت در قرات كا عمل ناول كے آغاز میں بھرپور انداز سے موجود هے مرزا اطهر بیگ لكھتے هیں :\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\"\"\"هوسكتا هے شخصیت كو وهاں قید كرنے كے بعد عام كپڑے پهنایے گیے هوں اور اس كا سوٹ وهاں لٹكتا چھوڑ دیا گیا هوجهاں سے اغوا كندگان كے خیال كے مطابق كوی نهیں دیكھ سكتا.........یه بھی هو سكتا هے یه مكان شهر میں كام كرنے والے كسی درزی نے یه سوٹ دبیی میں كام كرنے والے اور جلد هی چھٹی پر گھر واپس آنے والے بیٹے كے لیے چرایا هو~~~~\"\"\"\"(صفحه نمبر ۱۴,حسن كی صورتحال....)\u003cbr\u003eدریدای نقطہ نظر جس کے مطابق متن معنی کا حامل نہیں ہوتا اور ایک سے زائد متبادلات اور تشریحات متن کے اندر موجود ہوتی ہیں اسی نقطہ نظر کو تکنیک بناکر اس ناول میں متعدد موضوعات کی فہرست ناول میں ملتی ہے اور ناول نگار ایک سے زائد بیانیے ترتیب دیتا ہوا علامتوں کا ایک جہان بھی پیدا کرتا ہے ناول میں جب متن تشکیک کے دوراہے پر کھڑا ہوکر اپنی تشریحات کے در وا کرتا ہے تو قاری بھی مابعد جدید عہد کی آواز پر متوجہ ہوتا ہے حسن کے کردار کے ذریعے ناول نگار اس تکنیک کا استعمال کرتا ہے حسن جو کہ ایک اکاؤنٹنٹ کی ملازمت کرتا تھا اور شہر سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنی کیمیکل فیکٹری تک کے سفر کے دوران متعدد چیزوں کو بطورحیرت دیکھتا تھا اور اپنی قیاس آرائی سے ایک منظر كے تخلیق هونے كی متعدد وجوهات سوچتا تھا:\u003cbr\u003e\"\"\"\"\"حسن نے ایسے مناظر دیكھنے شروع كر دیے تھے جو حقیقت میں كوی وجود نهیں ركھتے تھے بلكه حسن تو خود \" ہو سکتا ہے یہ میری نظر کا دھوکہ ہو\" کو ہمیشہ خوف کے آخری ناقابل تردید متبادل کے طور پر قبول کیا کرتا تھا \"\"\"\"\u003cbr\u003eپھر اسی کردار کے اندر ایک تجسس پیدا ہوتا ہے کہ چیزیں یا مناظر جیسے نظر آتے ہیں ویسے کیوں ہیں یا ان کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہوتے ہیں کیا صرف حسن کے واہمے اس كو کسی الجھن میں گرفتار رکھتے ہیں یا واقعتا\" ایك منظر یا چیز كے پیچھے متعدد تشریحات یا توضیحات موجود هو سكتی هیں یهاں حسن كا كردار خود گفتگو كرتا هوا نهیں ملتا بلكه واحد متكلم كی تكنیك اپناتے هویے ناول نگار بار بار خود مخاطب هو كرحسن كی سرگرمیوں پر تبصره كرتا هے ناول نگار لكھتا هے:\u003cbr\u003e\"\"\"\"ہم سمجھتے ہیں کہ یہی وہ وقت تھا جب حسن نے اپنی حقیقی ذاتی زندگی کو زیادہ حقیقی بنانے کا ہلاکت خیز فیصلہ کیا..... حالانکہ اب بھی وہ اپنے اندر قائم ہونے والے متبادل منظر ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر کے مطمین هو سكتا تھا ..... وہ سوچ سکتا تھا کہ ہو سکتا ہے نام کے تینوں الفاظ میں کہیں نہ کہیں کوئی فرق ہو جو کتبے کے پرانے ہونے ,فاصلے اور گاڑی کی رفتار ہونے کی وجہ سے نظر نہ آتا ہو مثلا\" حسن محسن ہو سکتا ہے احسن ہوسکتا ہے\"\"\"\"\"(صفحه نمبر ۲۳ حسن كی صورتحال...,)\u003cbr\u003e ناول نگار نے ناول کے آغاز میں ہی ناول کے آگے آنے والے واقعات یا کہانیوں یا بیانیوں کے بارے میں آگاہ کرنے اور متعارف کروانے کی غرض سے قاری کا ذہن بناتا ہے تاکہ قاری جاری شدہ بیانیے کی تکنیک کو سمجھ کر آگے بڑھے اور بوریت یا اکتاہٹ کا شکار نہ ہو اس لیے حسن کے کردار کو ایک مختصر طریقے سے متعارف کروا کے دوسرے باب\" حیرت کی ادارت\" میں داخل ہوتا ہے جہاں حسن کے حیرانیوں پر تبصرے اور ایک واضح نوٹ دیا گیا ہے که:- \u003cbr\u003e(\"\"\"\"\" مطالعہ اختیاری پچیدہ فکری مباحث سے نالاں قاری اس باب کو نظر انداز کر سکتے ہیں\"\"\"\")\u003cbr\u003e اس نوٹ سے قاری کی دلچسپی میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور کمی بھی ہو سکتی ہے مگر اس طرح کے ابواب جہاں فکری مباحث اور فلسفیانہ مباحث کے در کھولتے ہیں وہاں دوسری طرف ناول کی صنف سے ہٹ کر كوی دوسری شے معلوم ہوتے ہیں ناول نگار کہانی اور حیرانی کے الفاظ کو مخصوص پیرائے میں استعمال کرتے ہوئے اپنی تحریر کو ناول کی صنف میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور حسن کے کردار کو متعارف کروانے والے باب کو بھی کہانی کی بجائے بھرپور حیرانی کا نام دیتا ہے ناول نگار لکھتا ہے:\u003cbr\u003e\"\"\"\"\" ان ممکنہ سوالات کے حوالے سے فی الحال ہم یہ وضاحت پیش کریں گے که کہ اچٹتے خوف کی داستان بھی درحقیقت ایک \"حیرانیه\" ہے.....\u003cbr\u003eگو تمہیدی ہونے کی وجہ سے کہیں کہیں کہانیاں ہونے کا خواندگی واہمہ پیدا کرتا ہے\"\"\"\"\"\",(صفحه نمبر ۳۱,حسن كی صورتحال.......)\u003cbr\u003e یہاں ناول نگار کے نقطہ نظر کی واضح شبیه نظر آتی ہے جس کا مقصد قاری كو کہانی سے لطف اندوز ہونے کا موقع مہیا کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد حیرانی کے جہان کے مختلف واقعات سے آگاہ کرنا ہے جہاں ہر واقعہ اپنی جگہ قاری کو حیران کرتا ہوا اور ایک الگ پس منظر اور کہانی کے ساتھ ملے گا مگر حیرانیوں کی یہ عمارت بھی کہانی کے بغیر استوار نہیں ہو سکتی سیدھی سادی کہانی بیان کرنے کی بجائے ناول نگار کی ساری نظر اس کو تکنیکی مہارتوں میں تبدیل کرنے پر صرف ہوتی ہے اور ناول میں بلاجھجک اس کی وضاحت کی گئی ہے ردتشکیل کی اس فلسفیانہ اصطلاح کے استعمال كے بغیر یہ فضا پیدا کرنا ناممکن تھا جہاں ایک سے زائد موضوعات اور ایک سے زائد ہمنام کردار ہر باب میں ایک نئے پس منظر اور نئے زاویوں کے ساتھ موجود ہوں. ہر کردار کی کہانی مختلف اور ورطهء حیرت میں ڈال دینے والی ہوںل ایک ہی نام کے کردار ہر طبقے میں دکھانا اور ان کرداروں کے توسط سے متعدد علامات کا معنی خیز پیرائے میں اظہار ناول کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔\u003cbr\u003e مثال کے طور پر: انیلا بلال کے نام سے کردار سکرپٹ رائٹر بھی ہے اور عوامی تھیٹر میں کام کرنے والی , میلوں میں اداکار انیله سسی بھی ہے اور تیسری صورت میں انیلا بلال سنگ تراشی کی تعلیم حاصل کرنے والی ایک آرٹسٹ اور ایریا مینیجر سعید کمال کے بیوی بھی ہے اسی طرح سعید کمال ,صفدر سلطان كے كردار بھی هم نامی كے پیرایے میں ایك سے زاید كهانیوں یا حیرتوں كے ساتھ ملتے هیں ۔\u003cbr\u003eجہاں ایک بیانیہ دوسرے بیانیے کی جگہ لیتا ہوا اور ایک حیرت دوسری حیرت کو رد کرتی ہوئی قاری کو تیسرے جہان میں لے جاتی ہے جس کی آگاہی ناول نگار نے حیرت کی ادارت باب میں یوں دی :-\u003cbr\u003e\"\"\"\"حسن کی صورت حال میں ایک حیرت سے نجات کسی دوسری حیرت کے ذریعے هو سكتی ہے جبکہ کہانی میں اور خاص طور پر مضبوط کامیاب کہانی میں حیرت کے خاتمے کا جشن منایا جاتا ہے \"\"\"(صفحه نمبر ۳۱ حسن كی صورتحال......)\u003cbr\u003eناول نگار ردتشکیل کے فلسفے کی تکنیک کو ایک طرف رکھتے ہوئے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا تذکرہ کرکے قاری کو ایك ایسے کباڑ خانے میں لے جاتا ہے جہاں ہر شے اپنی جگہ پر مکمل علامت کے طور پر موجود ہے اور جہاں حیرت کی ایک فضا ابھرتی ہے کباڑ خانے میں موجود ہر شے کا ایک پس منظر ہے اس کباڑخانے سے متعارف کروانے والی حسن کی وہی اچٹتی منظر بینی ہے جس کا وہ روز کے سفر کے دوران عادی ہو چکا ہے اور اسی منظر بینی کے دوران قاری اس عہد سے متعارف ہوتا ہے جس میں ایسا کباڑ خانہ ترتیب دیا گیا ہے یہ اسی کی دہائی ہے یعنی ۱۹۸۰ کی. پاکستان میں یہ عہد جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کا تھاجب اظہارو خیال پر سخت پابندیاں عاید کی جا چکی تھیں\u003cbr\u003eاور زبان بندی کی رسم عام تھی ان پابندیوں سے انحراف کے نتیجے میں جو سزائیں دی گییں اور جس طرح سے آرٹسٹوں کو جلاوطن کیا گیا اسی طرح کی ایک مثال اس کباڑ خانے میں موجود بوتل کے ذکر سے ملتی ہے اس بوتل کی کباڑ خانے میں آنے سے پہلے كیا جگہ تھی اور کس مقام پر موجود تھی كباڑ خانے میں کس طرح پہنچی اور اس كے ساتھ کیا کیا ہو سکتا تھا ان کی تشریحات ایسی کیء قسم کی تشریحات کے بعد ایسی بوتلوں کو خریدنے والے اور استعمال میں لانے والے کے ساتھ کیا ہوا اس کا ذکر قاری کو اس عہد کے منظرنامے کی واضح تصویر دکھاتا ہے:\u003cbr\u003e\"\"\"\" درحقیقت وہ نوجوان یونیورسٹی کے آرٹس ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم تھا اور مجسمہ سازی کی تربیت حاصل کر رہا تھا فائنل امتحان کا کام جسے وہ\" تھیسز\" کہتا تھا اس نے بوتلوں سے ایک مجسمہ بنانے کا فیصله کیا تھا اس نے سفید سیمنٹ, پلاسٹر اور دوسرے جوڑنے والے کیمیکلز کی مدد سے بوتلوں کو ایک خاص ترتیب میں جوڑا ....اور دیکھنے والے حیران رہ گئے کہ وہ جدید مجسمہ ایک باریش انسانی چہرے جیسا نظر آتا تھا جس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور منہ بھی خون اگل رہا تھا مجسمہ ساز نے اپنے شاہکار کو\" برداشت كا کلچر\" کا عنوان دیا لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے تھیسز کو اپنی ڈگری کے امتحان کے لیے پیش نہ کرسکا طلباء کے ایک گروہ نے راتوں رات ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوکر\" برداشت کا کلچر \" ہتھوڑوں سے چکنا چور کردیا اور ایک طرف دیوار پر لکھ دیا اس ڈیپارٹمنٹ کا بھی وہی حشر ہوگا جو سومنات کا ہوا تھا\"\"\"\"\"\".\u003cbr\u003e ناول ایک جست کے ساتھ علامتی رخ اختیار کرتا ہوا کباڑ خانے میں موجود چیزوں کی سرگزشت کی طرف توجہ دلاتا ہے تہذیبی خردافروزی پر پر مبنی مسودہ جو غلطی سے کباڑ خانے میں بھیج دیا جاتا ہے جو دنیا کی تاریخ بدل سکتا تھا اس کی ضرورت اور تلاش قاری کو حیرت میں ڈال دیتی ہے اور میگا فون کی کہانی جس کی ضرورت تھیٹرکے ایک بونے کو ہے اس کے علاوہ استعمال شدہ جوتوں کے تسمے،\u003cbr\u003eجمع شدہ ڈاک کے ٹکٹ ,عظیم رہنماؤں کے تھوک, عظیم نجات دہندہ سے رہائی کی صورت میں بٹنے والی مٹھائیاں وغیرہ یہ ایسی اشیا ہیں جو قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں ۔\u003cbr\u003eناول نگار کے ہاں طنز کی کاٹ ناول کے اس بیانیہ کو( جس کو وه حیرانیے کا نام دیتا ہے) دلچسپ بنادیتی ہے گوكه ناول میں ربط کے ساتھ کہانی کا عنصر موجود نہیں اور نہ ہی ناول کے پلاٹ پر کوئی خاطر خواہ نظر کرنے کی صورت موجود ہے مگر حقیقت پیش کرتے ہوئے ناول نگار طنزیہ پیرائے میں بے باک ہو کر معاشرے کا نوحہ لکھتا ہے :\u003cbr\u003e\"\"\"آہ ....مثلا\" کیا .....آپ پوچھتے ہیں کیا.... جی مثلا\" عظیم رہنما کا تھوک. دیکھیں میرا نظریہ یہ ہے کہ عظیم رہنما کی ہر چیز عظیم ہوتی ہے اس کی کوئی چیز عامیانہ اور گھٹیا نہیں ہوسکتی اس کا بول و براز بھی نہیں. اس کا فضلہ بھی نہیں .....نہیں جناب میں پاگل نہیں ہوں.... کیا آپ نہیں جانتے عظیم رہنما وہی ہوتا ہے جو تاریخ پر دلیری سے تھوک سکے اور جب چاہے خود سے رہنمائی مانگنے والے ہجوم پر پلٹ کر اسے اپنے پیشاب سے شرابور کرسکتا ہے اور اپنے فضلے سے لت پت کر سکتا ہے .\"\"\"\"\"(صفحه نمبر ۶۴..حسن كی صورتحال....)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eناول نگار ضیاالحق دور کی عکاسی کے لیے جو ایك اور تکنیک ناول میں اپناتا ہے وه سرییلزم کی تکنیک ہے جہاں اس تکنیک کا آغاز ہوتا ہے وہاں قاری کباڑ خانے سے نکل کر ایک فلمی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جو سوانگ پروڈکشنز کی ایسی دنیا هے جو كه ایک فلم بنانا چاہتی ہے فلم کا نام \" \"\"یہ فلم نہیں بن سکتی\"\"\" ہے اس فلم کے بے معنی عنوان کے ساتھ بہت سی چیزیں جڑی هوی ملتی ہیں جس بنا پر یہ عنوان تجویز کیا جاتا ہے اسی فلم کے بننے کے دوران جب کباڑ خانے کی شوٹنگ کی طرف ڈائریکٹر مڑتا ہے تو فلیش بیک کی تکنیک بھی ناول کا حصہ بن جاتی ہے ۔\u003cbr\u003eسرییلزم کی تکنیک جذبات اور احساسات کے خالص اظہار پر اور لاشعوری کیفیات میں کسی بھی قسم کی رنگ آمیزی سے گریز پر زور دیتی ہے اور اس کا واحد مقصد سچائی کی کھوج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی عمل کا آزادانہ اظہار ہے جس بنا پر اس کو مخرب اخلاق پر مبنی اور انتشار پسندی کی حامل تحریک بھی قرار دیا گیا.\u003cbr\u003eایسی ہی انتشار پسندی یا بکھراؤ قاری کو اس ناول میں محسوس ہوتا ہے مگر جہاں کھلم کھلا اظہار و بیان پر پابندیاں عائد ہوں وہاں ایسی تحریکوں اور تکنیک کا رواج پانا عام سی بات ہے ناول نگار اسی تکنیک سے مابعد جدیدیت کے پیدا کردہ اس پہلو پر بھی پہنچتے ہیں جو مقامی ثقافتوں کو فروغ دینے کی طرف انسان کو مائل کرتا ہے۔\u003cbr\u003e کباڑ خانے کی شوٹنگ کے ساتھ ساتھ اس فلم کے لوگ مقامی میلے بھاگاں والے کی بھی شوٹنگ کی طرف جاتے ہیں جہاں سرکس دکھانے والے, موت کا کنواں دکھانے والے, دو سروں والا کھوتا دکھانے والے کردار موجود ہیں یہاں دو قسموں کی دنیا سامنے آمنے سامنے ہوتی ہے ایک فلمی دنیا جو تعلیم یافتہ افراد اور مقامی صنعت کاروں کی ہے مگر ثقافت اور اس سے وابستہ اداروں پر پیسہ خرچ کرنے کی بنا پر مختلف دھمکیوں کا نشانہ بن چکی ہے اور دوسری طرف میں میلے کے وہ چھوٹے اداکار جو کم تعلیم یافتہ بلکہ اکثر ناخواندہ اور اپنی ناٹک منڈلیوں سمیت جگہ جگہ منتقل ہونے کو \"وچھوڑے\" کا نام دیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے ناٹكوں اور میلوں كو \"كنجر خانے\" كه كر بند كروانے كی دھمكیاں ملتی هیں ان دونوں میں ایك گهراتضاد موجود هے مگر دونوں كی صورتحال اس عهد كی عكاسی كر رهی هے جهاں جبر كی فضا عام هے جس كی پیشكش كے لیے ناول نگار آغاز میں حسن كی ذهنی كیفیت اور سوانگ پروڈكشنز میں بننے والی فلم كے كرداروں كے جذبات و احساسات كے ساتھ ان كی لاشعوری كیفیات اور فكر كو سرییلسٹ طریقے سے بیان كرتا هے:-\u003cbr\u003e\"\"\"\"سیفی گھسیٹتا ہے میرا جی چاہتا ہے سیدھا تمہارے جبڑے پر ہیڈ کرو اور کرتا جاؤں عجیب بات ہے ایسے پرتشدد خیال مجھے پہلے تو کبھی نہیں آئی یہ کہاں سے آیا خیر تو کھیل شروع ہو گیا ہے اور لگتا ہے یہ اندر باہر سریلسٹ ہوگا\"\"\"(صفحه نمبر ۱۶۳ حسن كی صورتحال.....)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eسیفی: واہ چیف - یہ تم نے بہت پتے کی بات کی- آپے سے باہر ہونا جب حقیقت آپے سے باہر ہو جاتی ہے ریئل ازم (REALISM)آپے سے باہر ہو جاتی ہے تو سریلسٹ ہو جاتی ہے خطرہ بہت شدید ہے که سرییلسٹ فلم بنانے والوں کی اپنی دنیا بھی آپے سے باہر نہ ہو جائے سکرین پلے آپے سے باہر ہو جائے \"\"\"(صفحه نمبر ۱۷۱ حسن كی صورتحال ....)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eناول نگار مابعد جدید عہد کے تقاضوں اور پاکستان کی موجودہ صورتحال سے بخوبی واقف ہوتے ہوئے ایسی تکنیک کا سہارا لیتا ہے اور عصری صورت حال کی عکاسی کرتے ہوئے تکنیک کا جواز بھی فراہم کرتا ہے ناول نگار نے ایک انٹرویو میں بتایا :\u003cbr\u003eسریلزم کی بیس(base) خواب پر ہے واہمہ پر ہے اور یہ فرائیڈ کے Dreams سے نکلا ہے یہ سرییلزم ایک ڈراؤنا خواب ہے بالکل. اور ہم, ہماری معاشرتی صورتحال ,ہم سب مسلسل ڈراونے خواب میں ہیں یہ آجکل جو بلاسٹ, بم دھماکے وغیرہ ہو رہے ہیں ہمیں واقعی سرییلزم سوٹ کرتا ہے مشرقی معاشرے کے تمام حالات و واقعات ہم سب کے سامنے موجود ہیں\"\"\"\"\"\u003cbr\u003e مابعد جدیدیت ثقافتی نقطہ نظر کی حامل صورتحال ہے اور هم مابعد جدیدیت كے عهد میں زنده هیں اس نقطه نظر كا فروغ ناول نگار كے مطابق انتها پسندی كو ختم كرنے كا ذریعه بن سكتا هے مگر ناول میں موجود واقعات مقامی ثقافت كو ختم كرنے بلكه جڑ سے اكھاڑ دینے والے دلخراش بیانیے كو جنم دیتے هیں پولیس كے افراد مقامی تھیٹر والوں كے ساتھ جو سلوك روا ركھتے هیں اس كابیان یوں ملتا هے:\u003cbr\u003e\"\"\"\"\"\"یه كنجر لوگ هیں ان كاكام هی یه هے بس عمله ذرا شغل میله كر رها هے یك دم سےاپنی بات...شغل میله ...میله هی تو هے شغل ادھرهے ...ویسے میں تمهیں بتادوں تم فلموں والے هو نا....یه سارے بدمعاشی كھاتے ,زانی دھندے,بس سال دو سال كی بات هیں سب بند هو جاییں گے وه سب بند كر دیں گے ...كون?سیفی كے منه سے بے ساخته نكلتا هے رانا حیرت سے ...وه جنهیں نیكی بدی كا پته هے جن كے ااندر حیا هے غیرت هے عالی جاه كهتے هیں یه سب پاك كرنا پڑے گا ..اصل نعره تو یه هے ,پاك كرو صاف كرو ..اور یهی كام تم اس وقت كر رهے هو ...سیفی اپنے اوپر قابو ركھنے میں ناكام رهتا هے\"\"(صفحه نمبر ۴۳ حسن كی صورتحال.....)گیارھواں\u003cbr\u003eناول میں متعدد جگہوں پر عصری صورتحال کی عکاسی کرتے ہوئے ناول نگار نے پاکستان کو فرقہ واریت میں مبتلا ,بم دھماکوں میں گرا ہوا ,خوف اور جبر کا شکار اور کلچر یا ثقافت سے گریز پا, ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا کردہ مسائل کا شکار اور توہمات میں گھرا ہوا پیش کیا. بہزاد ڈائریکٹر اور سعید کمال کا کردار ثقافت اور آرٹ کو فروغ دے کر انتہا پسندی کے تمام مسائل کو ختم کرنے کی جستجو کرتے نظر آتے ہیں:-\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\"\"\" بہزاد: لوک ثقافت میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن مسئلہ یہ ہے ہمارا ایک ہی سگنل پر کچھ بڑے نقش بنانے والوں کے لیے غلط ہو سکتا ہے اور کچھ کے لئے بہت صحیح......\u003cbr\u003e سر: که کلچر آرٹ موسیقی رقص فلم یہ سب خالی جگہیں ہمیں پُر کرنا ہوں گی ہمیں پُر کرنا ہوگی نہیں تو وہاں کچھ اور گھس جائے گا.\u003cbr\u003e آواز :ہاہاہا... ایکسیلنٹ(excellent)... ان کے دماغ میں بات کو ڈال دو بلے.... طریقے سے .\u003cbr\u003eسر: لیکن دیکھ لیں سر .وہاں \"روک دینے والے\" بند کر دینے والے \"بھی ہوں گے .\"\"\"\".\"(صفحه نمبر ۳۰۲ حسن كی صورتحال....)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eبنیاد پرست رویوں میں گهرے ہوئے اور روشن خیالی کی بنیادوں کو تھامے ہوئے کردار بھی فلم میں موجود ہیں فلم کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ناول نگار نے فلمی اصطلاحوں کو بھی مکالمہ کی صورت میں بخوبی برتا ہے اور ایک شوٹنگ كا مکمل انداز ناول میں موجود ہے اردو ناول میں پہلی بار سکرپٹ رائٹر ,سکرپٹ, سکرین پلے اور فلم كے دیگر لوازمات كو بطور تكنیك استعمال كیا گیا هے ایك كامیاب فلم لكھنے والا بهت سے مناظر اور جن اصولوں كو مد نظر ركھتا هے ناول نگار نے ان تمام چیزوں كو ملحوظ خاطر ركھتے هویے اردو ناول كی روایت سے هٹ كر ایك منفرد اور كامیاب تجربه كیا مگر اسی تجربے كی بنا پر وه ناول كی روایتی صنف كے ساتھ انصاف نهیں كر سكے بلاشبه تكنیكی اعتبار سے یه ایك غیر معمولی ناول قرار دیا جا سكتا هے ناول میں شوٹنگ كی اصطلاحات كا ذكر یوں ملتا هے: \u003cbr\u003e\"\"\"مڈ شاٹ: سعید كمال اپنے گھر میں --نچلے طبقے كے گھر كا باورچی خانه .فرش پر دری بچھی هے .سعید كمال...\u003cbr\u003eكٹ\u003cbr\u003eكلوز شاٹ: ایك پیلے رنگ كی گھنٹی كی شكل كا پھول\u003cbr\u003e جس پر سرخ دھبے هیں zoom out پورا پودا سامنے آتا هے .......\u003cbr\u003eپین شاٹ: گلزار نرسری كا اندرونی منظر سامنے آتا هے بلاشبه ایك زبردست نرسری هے پھول دار موسمی......\u003cbr\u003eٹریكنگ شاٹ: ملازم كے POV سے آگے بڑھتے هویے ..ٹیڑھے میڑھے رستے پر سے گزرتے هویے كنول كے پھولوں كا ایك تالاب نظر آتا هے \"\"\"\"\"(صفحه نمبر ۱۵۹حسن كی صورتحال.....)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eتحریر :اقراغفار۔۔۔ملتان\u003c\/p\u003e","brand":"Al hamad pulication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48093947756761,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/IMG_20230713_195740_38183fb9-ef2b-4de2-848c-5dfde7bd0c1b.jpg?v=1772704044","url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/products\/hassan-ki-suratay-hall-by-mirza-athat-baig-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%b1%d8%b2%d8%a7-%d8%a7%d8%b7%db%81%d8%b1-%d8%a8%db%8c%da%af","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}