{"product_id":"gulami-or-nasal-parsati-dr-mubarak-ali","title":"Gulami Or Nasal Parsati | Dr Mubarak Ali | غلامی اور نسل پرستی از ڈاکٹر مبارک علی","description":"\u003cdiv class=\"product__description rte quick-add-hidden\"\u003e\n\u003cp\u003eا\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eتا\u003c\/span\u003eریخ میں قومیں اور تہذیہیں عروج و زوال سے دو چار ہوتی رہتی ہیں، جب عروج کا وقت ہو ہے تو اس وقت ادارے بنتے ہیں، روایات پروان چڑھتی ہیں ، اور قدریں تشکیل پاتی ہیں ۔ یہ سب مل کر معاشرے کو آپس میں جوڑتی ہیں ۔ اس مرحلہ پر معاشرہ میں تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں ۔ آرٹ اور ادب میں ترقی ہوتی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایجادات ہوتی ہیں۔ معاشرہ ان لوگوں کی قدر کرتا ہے کہ جو اس کی تخلیقی سر گرمیوں میں مدد دیتے ہیں، نئے خیالات و افکار پیدا کرتے ہیں، اور ذہنوں کو تازگی عطا کرتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمگر جب معاشرے زوال پذیر ہوتے ہیں تو ادارے،روایات، قدریں اور لوگوں کو جوڑنے والے یہ تمام عناصر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر ایسے میں کوئی شاعر، ادیب یا آرٹسٹ کوئی چیز تخلیق بھی کرتا ہے تو وہ ویرانے میں گم ہو جاتی ہے۔ معاشرہ اپنی زہن کی پختگی کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ اس کے لئے احساس جمال بے اہمیت ہو جاتا ہے۔ موسیقی کا آہنگ بے معنی ہوجاتا ہے۔ ایک ایسے معاشرہ میں جھوٹ، فریب، سازش، بدعنوانی اور منافقت کے علاوہ اور کچھ نہیں رہ جاتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eپاکستانی معاشرہ کا المیہ یہ ہے کہ اس نے اپنی تاریخ میں کبھی عروج تو دیکھا ہی نہیں، اس لئے میدان مراحل سے نہیں گزرا کہ جن سے عروج کی قومیں گزرتی ہیں ۔ عروج کی یہ تاریخ ان میں ماضی کی یادگاریں ہی چھوڑ جاتی ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاشرہ زوال پر بھی نہیں ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس لئے اس کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک پسماندہ معاشرہ ہے۔ ایک اایسا معاشرہ کہ جس کی نہ تو شاندار تاریخ ہے اور نہ ہی عظمت والا ماضی۔ اس کی ابتداء کھولی بنیادوں سے ہوئی تھی، جو برابر کھوکھلی ہورہی ہیں اور یہ معاشرہ برابر ان میں دھنسا چلا جارہا ہے۔ پس ماندہ معاشرہ، پس ماندہ ذہنیت پیدا کرتا ہے، ایک ایسی ذہنیت کہ جس میں نیکی اور بھلائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ہے۔ ایک ایسے ماحول میں اگر کوئی ایمانداری اور بھلائی پر عمل کرتا ہےتو وہ اس معاشرہ کا اچھوت بن جاتا ہے۔\\nاس لئے ہمارے پس ماندہ معاشرہ میں نیکی ، خیر، بھلائی یہ سب اجنبی ہو کر رہ گئی ہیں۔ لحاظ ، مروت، دوستی اور ایمانداری اس قسم کی خصوصیت کا ذکر اب صرف ڈکشنری میں ہے۔ عملی طور پر ان کا جو نظر نہیں آتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eپس ماندہ رہنے کی کوئی مدت نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ اس پس ماندگی کو تقویت دینے والے ادارے اور افراد ہوتے ہیں، جو معاشرہ میں صاحب اقتدار، صاحب مراعات اور صاحب طاقت ہوتے ہیں۔ ان کا مفاد یہ ہوتا ہے کہ صورت حال اسی طرح رہے۔ لہذا پس ماندگی اپنی جڑیں اور زیادہ گہری کرتی چلی جاتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eعام لوگ جو اس پس ماندگی کا شکار ہوتے ہیں، ان کی توانائی اور طاقت کو اس قدر سلب کرلیا جاتا ہے کہ ان میں احتجاج اور بغاوت کی ہمت نہیں رہتا ہے۔ پس ماندگی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eان مضامین میں ایسے ہی بہت سے سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جن کا جواب مشکل سے ملے گا۔ اگر جواب مل بھی جائے تو اس کا حل\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"shopify-block shopify-app-block\" id=\"shopify-block-ff69204b-d6f6-41a4-839c-bda1818d3f92\"\u003e\n\u003cdiv data-id=\"8007316504805\" id=\"shopify-product-reviews\"\u003e\n\u003cdiv class=\"spr-container\"\u003e\n\u003cdiv class=\"spr-header\"\u003e\n\u003ch2 class=\"spr-header-title\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/h2\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction house","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48092367683801,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/ghulami_nasl_parsti.jpg?v=1772702076","url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/products\/gulami-or-nasal-parsati-dr-mubarak-ali","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}