{"product_id":"چین-آشنائی-شاہ-محمد-مری-cheen-ashnai-shah-muhammad-marri","title":"چین آشنائی | شاہ محمد مری | Cheen Ashnai | Shah Muhammad Marri","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eنام کتاب : چین آشنائی\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمصنف : شاہ محمد مری\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمبصر : مصباح نوید\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan class=\"html-span xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1hl2dhg x16tdsg8 x1vvkbs\"\u003e\u003ca class=\"html-a xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1hl2dhg x16tdsg8 x1vvkbs\" tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eموضوع : سفر نامہ\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eپہلی اشاعت: ۷۰۰۲ء\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eدوسری اشاعت: ۰۲۰۲ء\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eکچھ چٹکلے، کچھ شہ پارے،\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eکچھ دل سے ٹپکے شنگرفی انار دانے\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’چین آشنائی، محض چین سے آشنائی نہیں ہے۔ اس سفر نامے کے کئی پرت ہیں۔ سیاسی، تاریخی، ثقافتی۔ اس سے بڑھ کر نسوانی حسن کو بے تحاشا سراہنے والی آنکھ ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’حسن اور ریجکشن!!دُھرفٹے منہ‘۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e(ص: ۰۲۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eپریم کی شہنائی پر جھومتا دل بھی ہے اور اس دل کو اپنے وطن کی پسماندگی، نادیدگی، درماندگی رنجور بھی رکھتی ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eشاہ محمد مری اس سفر نامے میں سوشلزم کا سہارا لے کر جی اُٹھنے والی قوم کی داستان بیان کرتا ہے۔ اس کی بنیادوں پر لگی اور تیزی سے پھیلتی ہوئی سرمایہ داری کی دیمک پر بھی نگاہ ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’سوشلزم کے سالن میں سرمایہ داری کی مرچیں کس قدر لگتی ہیں‘۔ (ص: ۷۵۲)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eکیٹپلزم وہ آکاس بیل ہے جو ہرے بھرے درخت پر ایسا جالا بنتی ہے کہ اس پر درد مندی اور انسانیت کے شگوفے کھلنا بند ہو جاتے ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاس سفر میں ہم رکاب چار سنگی ہیں۔ پانچویں ورچوئل سنگت کی چوڑیوں کی کھنک بھی ساتھ ہے۔ سب سے جاندار سنگت بھی یہی ہے جو اپنی غائب موجودی میں بھی موجودگی سے زیادہ حاضر رہی۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’جیسے دو جام ٹکرائے ہوں، جیسے چوڑیاں کھنکی ہوں جیسے موتی کا دانہ فرش پر گر جائے۔(ص: ۵۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمزے کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی سفر نامہ نگار چاہے حقیقی سفر کریں کہ خیالی۔ ہر سنگ میل پر ان کی گود میں ایک دلربا پکے پھل کی طرح آگرتی ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eلیکن شاہ محمد مری دل کی ہتھیلیوں میں چھپا کر اپنی دلربا اپنے ساتھ لے گیا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eیہ چمپا روح و دل مشکبار بھی کرتی رہی اور اشکبار بھی۔شاہ پنل اپنے سکالر، دانشور ہم راہیوں سے نگاہ بچا کر اپنے ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کی نمی خشک کرتا رہا اور مسکراتا رہا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاپنے وطن سے دوری، اپنے اپنوں سے دوری اور پھر اپنے ’مرکز ثقل‘ سے دوری کیا کیا کربناک صورتیں پیدا کرتی ہیں ہم ان کا بھی نشانہ ہے۔(ص:۴۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eیہ روداد محض ’دیکھتا چلا گیا‘ نہیں ہے۔ مصنف سوچتا ہے، نئے ابھرتے امکانات دیکھتا ہے۔ تجزیہ کرتا ہے، تقابلی جائزہ لیتا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’اس جہاز میں ضیاء الحق کا فلسفہ مکمل طور پر نافذ تھا کہ یہاں مرد ہی مدد کی مہمان نوازی کر رہے تھے۔ ایئر ہوسٹیس آگے ’حلال کی کمائی‘ والی کلاس کو جلوے حلوے بانٹ رہی تھیں‘۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eچین میں عوام کی اکثریت کسی مذہب کو سرے سے مانتی ہی نہیں، علامہ اقبال کے فلسفے سے بالکل اُلٹ وہاں دین و سیاست پچاس برس سے جدا جدا ہیں،مگر اس کے باوجود سارے نظریہ پاکستان والے نوائے وقتیئے اس چنگزی والے ملک کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔(ص: ۹۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eانسان کائنات کا سب سے بڑا پٹواری ہے۔ وہ آسمان بانٹنا ہے،زمین بانٹتا ہے، زیر زمین بانٹتا ہے، سمند ر بانٹتا ہے، دل بانٹتا ہے، پتہ نہیں اُسے اجتماعیت سے کیا بیر ہے؟ یہ کیوں نہیں کہتا کہ ہمار ایئر سپیس، انسانوں کی زمین!!۔۔۔(ص: ۲۴)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’لغت کے دو بد بخت الفاظ: ’میرا، تیرا‘۔ (ص: ۲۴)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’ارے ملاؤں میں بھی مسلمان ہوتے ہیں!!‘۔(ص: ۳۸)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eدل میں بستا بلوچستان بھی گاہے گاہے زخم کی طرح ٹیس اُٹھاتا رہا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e”ڈنڈے، چھڑیاں، چاقو، کلہاڑے، تلواریں۔۔۔ہم نے کیا کرنی تھیں یہ چیزیں، کہ ہمارا وطن ان بدبختیوں کا میوزم تھا“۔ (ص: ۲۸)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eراستے میں فربہ بھیڑوں کے ریوڑ دیکھ کر اپنے وطن کی لاغری اور چراہوں کے ننگے زخمی پاؤں یاد آتے ہیں۔ چرواہاعوت نے کوٹ پتلون پہن رکھا تھا اور کندھے پر پانی سے بھرے مشکیزہ کے بجائے ریڈیو رکھا تھا۔مصنف کی حیرت دیدنی ہے اور دلدوز بھی۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’ارے اس عورت نے تو جوتے پہن رکھے ہیں۔ جی ہاں! جوتے! اس کے کپڑے پھٹے نہیں ہیں‘۔ (ص:۸۸)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eشاہ محمد مری اپنی تحریر کو بلوچ کے دل کی کسک اور بلوچی زبان کی ضرب المثل دونوں سے ایک نیا رنگ آہنگ دیتا ہے۔ دو بھائی اور تیسرا حساب۔ گھر میں حساب کتاب نہ ہو تو وہ گھر برباد ہو جاتا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e”55افراد پر مشتمل سفارت خانے میں بلوچ قوم کا ایک فرد بھی نہیں ہے“۔ (ص:۲۸)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eچین کے ماضی میں طویل سلسلے شہنشاہت اور فیوڈلزم کے ہیں۔ محلات کا ذکر آتا ہے تو شیطان کی آنت کا خیال بھی آتا ہے۔ بارہ ہزار مربع میٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے شہرِممنوعہ کے امپیریل پیلس کی رسائی اب ٹکٹوں سے ممکن ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’ارے واہ، دل خوش ہوا۔ ظل الٰہی کے محل کا ٹکٹ دیکھ کر‘۔ (ص: ۰۰۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eشاہی محلات For bidden cityکی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کیا خوب لگا کھاتے عنوان دئیے گئے کہ یہ عنوان ہی ساری کہانی بیان کر دیتے ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’شہر ظلمات کو ثبات نہیں‘\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’کیا کروں روؤں ہنسوں رقص کروں یا ماتم‘۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’ملکہ نہاتی کیسے تھی‘۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’بادشاہ کا مولوی‘۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’ارے ابھی کہاں چل دئیے، ان محلات کا نام پڑھے بغیر میں آپ کو جانے نہ دوں گا۔ آپ کو نہ تو ان میں رہنا ہے نہ انہیں دیکھنا ہے نہ ان کے اندر کے مکینوں کے جاہ و حشمت کو بھگتنا ہے نہ ان کی تعمیر پر لاگت کا حساب لگانا ہے اور نہ ہی ان کوڑوں کا شمارکرنا ہے جو بیگار کرنے والے رعایا کی پیٹھ پر پڑتے تھے۔ نہ ہی ان اموات کی فہرست بنانی ہے جو اس جاں گسل مشقت سے ہوتی رہی تھیں‘۔(ص: ۶۰۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eتفصیلات پڑھتے ہوئے آپ کو قحط زدہ پسماندہ اور افیونی چینوں کا ذلت بھرا ماضی سمجھ میں آجائے گا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e”نوہزار نو سو ننانوے محلات پر مشتمل اس عمارت میں جو چیز بطور سیمنٹ استعمال ہوئی وہ لیس دار چاول اور انڈے کی سفیدی سے بنائی گئی تھی“۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eپھر ذہن کے دریچے میں اپنے وطن کی بدبختی کی تصویر بال بکھیرے نمودار ہوتی ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e“We are the overthrowers of emperors”. [128]\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e”یہ بھی اچھا ہے کہ چینی قوم کسی منظم مذہب کی پیروکار نہیں وگرنہ وہ بھی لاہوریوں کی طرح ہر جابر شاہجاں اور شاطر اکبر بادشاہ کے سارے محلات کو اسلامی فنِ تعمیر قرار دیتے۔(ص: ۷۰۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eارتقاہی تہذیب کو زندہ رکھتا ہے۔ چائنہ کے کلچر کا بیانیہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ کھانا یا خوراک انسانی نسل کی تہذیب ہے اور پکانا ایک آرٹ۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e”یہ لوگ 5000سے زائد ڈشیں پکاتے ہیں اورکھانے میں رنگ، خوشبو، ذائقہ، صورت، نیوٹریشن پر توجہ دیتے ہیں۔(ص: ۴۶۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eچین کا ماضی فیوڈلزم اور بادشاہت کی ہولناکی ہوسناکی اور بے رحمی سے اس قدر لتھڑا ہوا ہے کہ گھن آتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ ان کا گزرا ہوا کل ہمارا ’آج‘ ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’جو شخص غیر ملکی سکول میں غیر ملکی مضامین پڑھتا اسے غیر ملکی شیطانوں کے سامنے اپنی روح بیچنے والا تصور کیا جاتا تھا‘۔ (ص: ۲۷۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’پورے چین میں لازم تھا کہ لوگ اپنے سروں پر ہندو ملاؤں کی طرح چوٹی رکھیں۔ چوٹی کا نہ ہونا بغاوت تصور ہوتا تھا جیسے مغرب زدگی، کفر اور خدا سے بغاوت سمجھا جانا تھا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eدرحقیقت مذہب اور فیوڈلزم کو ہمیشہ عورت سے خطرہ رہا ہے۔ وہ عورت سے نہیں بلکہ اس کی زندگی کرنے کی بے پناہ شکتی سے ڈرتے ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eزمین پر بد صورتیاں بکھیرتا راکشس عورت کی سندرتا سے خوفزدہ رہتا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eفیوڈل چین عورتوں کو انڈر کنٹرول رکھنے کیلئے باقاعدہ نظریہ غلامی کی رواجی، روایتی آئین سازی کرتا نظر آتا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’یہ بدبخت لوگ پیدائش کے وقت سے ہی لڑکی کو لوہے کے جوتے پہنا دیتے تھے۔ اس طرح پاؤں کی فطری نشوونما رُک جاتی تھی۔(ص: ۴۷۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eیہ بدبختی اپنی دھرتی پر اس طرح اپنی انتہاء پر ہے کہ دماغ کی فطری نشوونما روکنے کے لئے نہ نظر آنے والے آ ہنی کنٹوپ کھوپٹریوں پر چڑھا دئیے جاتے ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eچینی عورت کو بارہ چودہ برس کی عمر میں طوائف یا داشتہ کے بطور فروخت کیا جاتا تھا۔ اگر شادی ہو جاتی تو شوہر کو ناخوش کرنے یا نرینہ اولاد پیدا نہ کرنے کی صورت اسے واپس والدین کے پاس بھیج دیا جاتا تھا۔ ساری شادیاں باپ منظم کرتے تھے۔ حتیٰ کہ دلہن دلہا نے شادی کے وقت تک ایک دوسرے کو دیکھا تک نہ ہوتا تھا۔ فیوڈل لوگ ایک سے زیادہ بیویاں کھتے اور داشتائیں ان گنت۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eفرمان سنتے جائیے، چاہے تو تائید میں سر دُھنیے کہ ہمارے سماج میں تو یہ فارمولے کچھ کمی بیشی کے ساتھ اب بھی لاگو ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eبیویوں کے لئے مشہور کہاوت تھی۔ ’اگر تم ایک کتے سے شادی کرو تو کتے کی پیروی کرو۔ اگر تم ایک مرغے سے شادی کرو تو مرغے کی پیروی کرو‘۔ (ص: ۶۷۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’عورتیں تین فرماں برادریاں کریں۔اگر وہ غیر شادی شدہ ہے تو باپ کی فرماں برداری کرے، شادی شدہ ہے تو خاوند کی اور بیوہ ہے تو بڑے بیٹے کی‘۔(ص: ۶۷۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eبے حجاب عورتیں چائینہ میں بھی قدرتی آفات کا سبب بن رہی تھیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eکسی بھی قوم کو ذلت اور درماندگی کی چوکھٹ سے اُٹھانے میں اس کے لکھاری، دانشور اور اُستاد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’ادبی اور ثقافتی اُبھار کے نتیجے میں سینکڑوں نئے رسالے شائع ہوئے‘۔ (ص:۰۸۱)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eچین کے فکری اُفق پر فروزاں تاروں میں نمایاں نام لوہسون، باجین، ماؤٹون،گوومورو ہیں۔ ان میں سے قطبی تارا لوہسون ہی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ لوہسون وہ ادیب اور دانشور تھا جس نے اپنی فکری قوت سے مردہ سماج میں روح پھونکی۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’پاگل کی ڈائری‘ (لوہسون) کو جدید چینی فکشن کے اولین شاہکار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ چین کا فیوڈل معاشرہ آدم خوروں کا معاشرہ ہے۔ جہاں ہر شخص دوسرے شخص کو کھا رہا ہے اور جو شخص اس آدم خوری کی نشاندہی کرے، پاگل کہلاتا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’۷۱۹۱ء اور ۳۲۹۱ء کے درمیان پروفیسروں، طالب علموں، دانشوروں اور انقلابیوں نے تحریک چلائی کہ مغربی سائنس کلچر اور جمہوری اصولوں کو اپنایا جائے۔ ماوزرے تنگ، لانگ مارچ، ریڈ آرمی ان سب ناموں سے تو ’دیوار چین‘ کی طرح کان آشنا ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eایک مقام پہ آکر ماوزے تنگ، کمیونسٹ پارٹی اور چین ایک ہی وجود بن جاتے ہیں۔ یہ لمحہئ نروان ہے، کایا کلپ ہے۔ گراں خواب چینی سنبھلنے لگے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e’گراں خواب چینوں کو دیکھو، دوسروں کو جگاتے پھرتے ہیں، تقدیر نے جب جگا دیا تو کیا رنگ دکھائے، ان افیمیوں نے، ماؤ کا انقلاب، ڈینگ سیاؤپنگ کی ریفارم اوپن ینس، ایک ملک دو نظام، اب پھر سوشلزم، کیپٹل ازم کا Convergenceاور پھر نتیجے میں بے پناہ ترقی‘۔(ص: ۳۱۳)\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e”چین آشنائی“ ایسی کتاب ہے جو قاری کو مکمل اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eبقول ڈاکٹر انوار احمد، ”چین آشنائی“ ایک طرف تو شاہ محمد مری کے افکار و نظریات کا مظہر ہے اور دوسری طرف مستقبل کی پاکستانی اُردُو کے اظہاری امکانات کا بے پناہ ذخیرہ ہے،\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003ePages 352\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48090327449817,"sku":null,"price":950.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/CheenAshniai.jpg?v=1772699851","url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/products\/%da%86%db%8c%d9%86-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b4%d8%a7%db%81-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%d8%b1%db%8c-cheen-ashnai-shah-muhammad-marri","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}