{"product_id":"مشل-فوکو-طاقت-اساس-فلسفہ-خرم-شہزاد","title":"مشل فوکو | طاقت اساس فلسفہ | خرم شہزاد","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمشل فوکو نے 'دیوانگی' ، 'جرم اور 'جنسیات' جیسے اہم مظاہر کی موجودگی سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ اس کا مقصد تھا کہ فرد کے اُس وجود کو تحفظ فراہم کیا جائے جو سماجی تشکیلات کی زد پر رہتا ہے۔ کیوں کہ ساجی تشکیلات تو بدلتی رہتی ہیں۔ ان کا دارو مدار طاقت کے پیچیدہ جال پر ہوتا ہے۔ البتہ وہ زندگیاں جو تاریک راہوں میں خاموشی کی نذر ہو گئیں ( کسی طور ) اُن کا مداوا ممکن ہو۔ کم از کم اتنا تو ہو کہ خاموش ہو جانے والوں کی خاموشی کو مفہوم ملے۔ لہذا یہ بات بھی غنیمت بن جاتی ہے کہ فلسفیانہ \u003cspan class=\"html-span xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1hl2dhg x16tdsg8 x1vvkbs\"\u003e\u003ca class=\"html-a xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1hl2dhg x16tdsg8 x1vvkbs\" tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eاقلیم میں تاریک راستوں کو روشن کر دیا جائے تا کہ سماجی تشکیلات اور اُن کے پس منظر میں کارفرما طاقت کے رشتے واضح ہو جائیں۔ اس کے علاوہ یہاں موضوع بننے والے تجزیے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ عموماً تاریخ کو ارتقائی عمل کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یعنی تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ انسان نے عہد بہ عہد ترقی کی ہے۔ گویا پہلے اگر انسانوں کو زنجیروں میں جکڑا جاتا تھا تو آج زنجیریں کٹ چکی ہیں۔ تاہم فو کونے جدید دور سے منسوب آزادی کی ماہیت پر توجہ دلائی۔ یہ بتایا کہ زنجیروں اور سلاخوں سے بدتر وہ عذاب ہے جو مختلف سوچ رکھنے والے افراد کو تنہائی اور خاموشی کی صورت میں جھیلنا پڑتا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e___________________________________________\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eخرم شہزاد نو جوان نقاد، مترجم اور افسانہ نگار ہیں لیکن ان کی بنیادی شناخت ایک نقاد کی ہے۔ مابعد جدید تنقیدی تھیوری ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ وہ ان موضوعات کے بنیادی ماخذات تک رسائی رکھتے ہیں۔ اُن کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ژاک دریدا کا تحریر اساس فلسفہ تھا جو انڈیا اور پاکستان سے کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ انھوں نے دریدا کے ایک طویل مضمون کا ترجمہ انسانی علوم کے کلامیے میں ساخت، نشان اور کھیل کے عنوان سے کیا۔ خرم شہزاد آج کل شعبہ اردو، گورنمنٹ گریجویٹ کالج قادر پوررال ( ملتان ) میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمشل فوکو\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eطاقت اساس فلسفہ\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eصفحات 152\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction house","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48091820622041,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/d6d807cff95a97076bf308e99192deab.jpg?v=1772701564","url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/products\/%d9%85%d8%b4%d9%84-%d9%81%d9%88%da%a9%d9%88-%d8%b7%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d8%a7%d8%b3-%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%81-%d8%ae%d8%b1%d9%85-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}