{"product_id":"غدار-ناول-کرشن-چندر","title":"غدار (ناول) |  کرشن چندر","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eغدار (ناول)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف: کرشن چندر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات 112\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eبرصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے وقت جو کچھ ہوا، وہ اب تک دونوں مملکتوں کے باسیوں کو بخوبی یاد ہے۔ ایسے تذکرے پڑھ کر، سب کران باسیوں کے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ اُردو کے نامور ناول نگار کرشن چندر بھی اس ناول کی صورت میں زاروں قطار روئے ہیں لیکن ان کے آنسوؤں کا تعلق ماضی میں رونما ہونے والے واقعات سے نہیں بلکہ مستقبل سے ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکرشن \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eچندر سمجھتے تھے کہ بہت سے لوگ ان تلخ واقعات کو بھولتے جا رہے ہیں لیکن اس نفرت کو نہیں بھولتے جس نے ان تلخ واقعات کو جنم دیا تھا... اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان نفرت کی ایک دیوار کھڑی ہے۔ ان کے بقول: ”ہندوستان میں ایک یا دو نہیں لاکھوں انسان ایسے ہوں گے جو پشاور تک اکھنڈ بھارت کو پھیلانے کے خواب دیکھتے ہوں گے۔ پاکستان میں ایسے انسانوں کی کمی نہیں جو دلی پر ہلالی پرچم لہرا دینے کے متمنی ہیں اور اس کے لیے لاکھوں کی تعداد میں جان دینے کے لیے تیار ہیں۔“\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکرشن چندر کا یہ ناول اسی نفرت کو سمجھانے اور اسے قلب و ذہن سے مٹانے کی ایک کوشش ہے۔ ناول بیج ناتھ (برہمن) اور شاداں (مسلمان لڑکی) کے معاشقے سے شروع ہوتا ہے۔ چھٹے باب میں ایک ہندو لڑکی ایک سکھ کی نظروں کا مرکز و محور بنتی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eآٹھویں باب میں ایک ہندو لڑکی پاروتی ایک مسلمان نوجوان امتیاز سے والہانہ محبّت کرتی تھی۔ محبتوں سے اُٹھان لیتی یہ کہانیاں بیان کرتی ہیں کہ کیسے امن اور پیار کے لیے کوشش کرنے والے اپنی اپنی اقوام کے ہاں ”غدار“ قرار دیے جاتے ہیں۔ بیج ناتھ جیسے کردار ہمارے معاشروں میں کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن ایسے کرداروں کی سخت ضرورت ہے کہ معاشرے خوشحال بن سکیں۔ کرشن چندر کی تمنا ہے کہ بیج ناتھ جیسے کرداروں سے نہ صرف ہندوستان اور پاکستان، بلکہ ساری دنیا بھر جائے۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eجیسا کہ سابقہ سطور میں بتایا گیا ہے کہ ناول کی کہانی 1947ء کے رُوح فرسا واقعات کے پس منظر میں لکھی گئی ہے، بلکہ یہ زیادہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ یہ پون صدی قبل رونما ہونے والے شرمناک واقعات میں سے چند واقعات ہیں۔ کرشن چندر نے اس کہانی کے ذریعے ہمیں انسانیت، نیک کرداری، امن اور اخوت کا فلسفہ سکھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا انداز تحریر ایسا مسحور کن ہوتا ہے کہ قاری ہر جملے سے پوری طرح لطف پاتا ہے۔ منظر نگاری ایسی خوبصورت ہوتی ہے کہ پڑھنے والا منظر میں کھوئے رہنا چاہتا ہے۔ اس ناول کو بڑے پیمانے پر پڑھنے اور پڑھانے کی ضرورت ہے\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095052136665,"sku":null,"price":575.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/20221018_113651.jpg?v=1772705180","url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/products\/%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d9%88%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b4%d9%86-%da%86%d9%86%d8%af%d8%b1","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}