{"product_id":"شکست-کرشن-چندر","title":"شکست |  |کرشن چندر","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan\u003eشکست | ناول\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول نگار: کرشن چندر\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e’’سچ ہے محبت کو بھی روٹی کی حاجت ہے۔ محبت بھی چاہے وہ کتنی ہی پاکیزہ کیوں نہ ہو، محض خالی خولی ہم بستری کے سہارے نہیں جی سکتی۔ عشق کو بھی روٹی چاہیے۔‘‘\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eکرشن چندر | شکست\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eاُس شعلے کے نام جسے میں کبھی چھو نہ سکا\u003cbr\u003eاُس پھول کے نام جو کبھی نگاہ نہ ہوا\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eانتساب | شکست\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eکم سے کم ایک اُردو ناول ترقی پسند تحریک نے ایسا پیدا کیا جو اُردو زبان کے بہترین ناولوں میں شمار کیے جانے کا مستحق ہے، یہ ناول کرشن چندر کا ’’شکست‘‘ہے۔\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003e(عزیز احمد)\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبرسوں ہوئے میں ایک بار گُل مرگ گیا اور وہاں ایک ہوٹل میں ٹھہرا تو اُس کے منیجر نے بتایا کہ کرشن چندر نے اُس ہوٹل کے ایک کمرے میں اپنا ناول ’’شکست‘‘ مکمل کیا تھا۔ مَیں نے کہا، مجھے وہ کمرہ تو دکھائو۔ اُس کمرے میں دو کھڑکیاں تھیں۔ میںنے ایک کھڑکی کھولی تو سامنے ایک بالکنی تھی (اس بالکنی کی کہانی وہ لکھ چکا ہے) اور اس بالکنی میں سے گُل مرگ کی سرسبز وادی اور کھلن مرگ کی برفیلی چوٹیوں کا حسین منظر دکھائی دیا۔ لیکن دوسری طرف کی کھڑکی کھولی تو دیکھا کہ ہوٹل کا پچھواڑا ہے، جہاں کُوڑا کباڑ پڑا ہے، گھورے کے ڈھیر ہیں، اُن پر بھنبھناتی مکھیاں ہیں، ہوٹل کا ’’کالو بھنگی‘‘ صاحب لوگوں کے کموڈ صاف کر رہا ہے اور ہوٹل کے بیروں کی چھوٹی چھوٹی گندی اندھیری کوٹھریاں ہیں اور مَیں نے محسوس کیا کہ یہ دو کھڑکیاں کرشن چندر کے کمرے ہی میں نہیں اُس کے دل اور دماغ میں بھی کھلی ہوئی ہیں۔ ایک کھڑکی میں سے وہ قدرت اور زندگی کا حُسن دیکھتا ہے اور اُس کا شاعرانہ تخیل جھوم اُٹھتا ہے اور دوسری کھڑکی میں سے وہ انسان کی حالت دیکھتا ہے جو چاروں طرف پھیلے ہوئے قدرتی حُسن اور قدرت کی فیاضی کے باوجود غربت، لاچاری، گندگی اور بیماری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور اُس کا درد آشنا دل دُکھ ہی سے نہیں، غصے سے بھر جاتا ہے۔ ان دونوں کھڑکیوں میں سے دکھائی دینے والے نظاروں کے تضاد نے کرشن چندر کی شخصیت، اُس کے نظریے، اُس کے اسٹائل اور اُس کے آرٹ کی تشکیل کی ہے۔\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003e(خواجہ احمد عباس)\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eکتاب: شکست (ناول)\u003cbr\u003eناول نگار: کرشن چندر\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eضخامت: 336 صفحات\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095055413465,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/20230415_162758.jpg?v=1772705231","url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/products\/%d8%b4%da%a9%d8%b3%d8%aa-%da%a9%d8%b1%d8%b4%d9%86-%da%86%d9%86%d8%af%d8%b1","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}