{"product_id":"زوال-the-fall-zawal-البرٹ-کامیو-albert-camus","title":"زوال |  The Fall | Zawal | البرٹ کامیو  | Albert Camus","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003eزوال \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e| \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eتعارف\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003eالبرٹ کامیو کا تیسرا ناول\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e (The Fall ” \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eزوال اس کے جملہ فکشن میں شاید اس سب سے قنوطیت پسند اور تشاومانہ ناول ہے۔ اس کے برخلاف، اس کے پہلے دو ناول\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e ( The Stranger) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eاجنبی اور\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e (The Plague \"\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eطاعون نسبتا مثبت اور روشن پہلوؤں کے حامل ہیں۔ ان دونوں ناولوں میں ہمیں یہ کنا یہ ملتا ہے کہ اپنی سرشت میں عوام الناس بنیادی طور پر معصوم ہیں ۔ اب اگر ان سے ارتکاب شر ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ان غلط نظریات پر عائد ہوتی ہے جن کے زیر اثر وہ آگئے ہوں لیکن ” زوال تک آتے آتے یہ سب بدل جاتا ہے۔ یہاں کا میو اپنے سابقہ موقف سے انحراف کرتا ہے اور ایک ایسا نظریہ پیش کرتا ہے جو اپنے حد سے بڑھے ہوئے تشاؤم کے سبب اس کے گزشتہ نظریے کا بالکل الٹ ہے۔ در حقیقت ژاں با پیست کلامینس، جو نہ صرف ناول ” زوال کا راوی ہے بلکہ اس کا مرکزی کردار بھی اجنبی کے میور سو اور طاعون کے طاغو کے عین بر عکس محض خود غرض، بے ایمان، بزدل، منافق اور خود پسند ہی نہیں بلکہ اس بات پر بھی مصر ہے نظر آتا ہے کہ ان تمام مذموم صفات میں اپنے سابقہ جملہ انسانیت کو بھی شریک ثابت کر دکھائے ۔ اس ناول میں چند مرکزی تصورات ایک بے پناہ حر کی قوت کے ساتھ جاری وساری نظر آتے ہیں اور آخرا انسانی وجود کی ماہیت کے بارے میں کامیو کے قطعی و صریح ترین موقف کا تعین کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں تو یہ موقف کیا ہے؟ کامیو کے خیال میں (1) انسانی وجود اضطرارا گناہ آلود ہے ۔ ( کامیو کے نزدیک گناہ “ اور ” وجود ایک ہی چیز ہیں۔ ) (\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"FA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur'; mso-bidi-language: FA;\"\u003e۲) \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003eگناہ انسانی شعور میں احساس جرم کا محرک ہوتا ہے۔ (\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"FA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur'; mso-bidi-language: FA;\"\u003e۳) \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003eہر چند کہ گناہ کو وجود انسانی سے نہ کبھی خارج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا کفارہ ادا کیا جاسکتا ہے پھر بھی فرد کے تئیں اس کی آگہی کم از کم اس کو ایک دیانت دارانہ وجود تک ضرور لے جاسکتی ہے۔ چنانچہ اس آگہی کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003eرابرٹ لپے کے بقول کلامینس \" تمام خلق و بشر کی طرح بنیادی گناہ کا مجرم ہے، یہی کہ وجود رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eاس خیال کی وضاحت نہایت دوٹوک انداز میں ناول کے اس منظر میں ہو جاتی ہے جہاں کامیو نے دریائے سین کے ایک پل سے ایک نوجوان لڑکی کو چھلانگ لگا کر اپنی موت سے ہمکنار ہوتے ہوئے دکھایا ہے۔ کلامینس اس لڑکی کو پل کی ریلنگ پر جھلے ہوئے دیکھتا ہے، پھر چند ثانیوں کے بعد اس کے جسم کے پانی میں گرنے کے چھپا کے کو سنتا ہے اور اس کے بعد لڑ کی کی وہ دل دوز چیچنیں جو مدد کے لیے بلند ہورہی ہیں۔ بایں ہمہ وہ اس کو بچانے کی سرے سے کوئی کوشش نہیں کرتا اور یوں لڑکی کی موت شعوری طور پر کوئی خواہش نہ کرنے ، نہ ہی اس کے قیام کے لیے کوئی عملی قدم اٹھانے کے باوجود، کلامینس اس کی موت کا سبب بن جاتا ہے اور اگر یہ نہیں تو کم از کم یہ محسوس ضرور کرتا ہے اس کی موت کا سبب وہی ہے۔ بالفاظ دیگر کلامینس کا وجود محض کسی نہ کسی اعتبار ہے اس موت کا ذمہ دار ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003eوجود اور گناہ کی یہ ناگزیر مساوات ناول کے اس حصے میں کچھ اور اثر انگیزی اور شدت سے واضح ہو جاتی ہے جہاں کلامینس ایمسٹر ڈیم کے یہودیوں کے محلے میں اپنی رہائش گاہ کا نقشہ کھینچتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003e\" \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eمیں یہودیوں کے محلے میں رہتا ہوں ۔ ہمارے ہٹلری بھائیوں کی آمد سے پہلے تک اس محلے کا نام یہی تھی۔ انھوں نے اسے ذرا کھلا اور کشادہ بنا دیا ! کیا صفایا ہوا ہے! پھتر ہزار یہودی قتل اور م کلینگ ! میں تو اس ملک بدر ہوئے ۔ اس کا نام ہوا جناب ویکیوم کا مستعد کار کردگی اور با ضابطہ صبر کا قائل ہوں ! جب آدمی کے پاس کردار نہیں ہوتا تو پھر اسے ایک طریقہ کار اور تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے اور میں اس جگہ سکونت پذیر ہوں جو تاریخ کے ایک عظیم ترین جرم کے ارتکاب کا محل وقوع تھی ۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e“\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003eگو کلامینس براه راست یا بلا واسطه ناتنری جرائم اور بربریت کا بالکل ذمہ دار نہیں جن کا مظاہرہ انہوں نے یہودیوں کے خلاف کیا تھا ، با ایں ہمہ اس کا وجود اور اس علاقے میں اس کی رہائش گاہ جو ابھی چند برسوں پہلے تک یہودیوں کا باڑھ\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e (Ghetto) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eرہ چکی تھی ، اسے رہ رہ کر اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ ایک ایسے جرم میں جس کی اس نہ خواہش کی تھی ، نہ چاہا تھا اور نہ جس کا وہ مر تلک ہوا تھا، وہ بھی برابر کا شریک ہے ۔ یہ فکر اور احساس جرم ظاہر ہے کہ کلیتا اخلاقی اور وجودی طور پر ہے۔ یوں کلامینس کی خود کو ملزم گرداننے کی اس کوشش کے ذریعے کامیو تمام انسانیت کی یاد دہانی بھی کراتا جاتا ہے کہ وہ یہودیوں کی بیخ کنی کے موقعے پر مجرمانہ طور پر خاموش رہے ۔ بقول لینے کامیو نے کچھ اس طرح تصویر کشی کی ہے کہ قاری خود آپ کو اور تمام انسانیت کو کسی حد تک کلامینس میں پہچان لے گا ۔ [ ناول کا ] موضوع کا ئنات ہے : ایک اخلاق سوز عہد کے چہرے کی نقاب کشائی ۔ نتیجتاً: چونکہ انسانیت نے یہودیوں کے قتل عام کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی ،\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eاس لیے وہ بھی شریک جرم ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c!----\u003e","brand":"Fiction house","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48091862892761,"sku":null,"price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/TheFall.jpg?v=1772701588","url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/products\/%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-the-fall-zawal-%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%b1%d9%b9-%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d9%88-albert-camus","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}