{"product_id":"ابنارمل","title":"Abnermal | ابنارمل | Ashu Lal","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔۔۔۔۔۔۔ابنارمل\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eابنارمل اشو لال کے سرائیکی افسانوں\/کہانیوں کی پہلی کتاب ہے۔اشو سرائیکی کا شہرہ آفاق تخلیقی جوہر کا مالک شاعر ہے جس کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو کر شہرت حاصل کر چکے ہیں\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کتاب میں تیرہ افسانے\/کہانیاں شامل ہیں۔جو1992ء سے2015 ءکے درمیان لکھے گئے ہیں۔لیکن بعض کے واقعات اس سے پہلے کے ہیں۔ جن کے نام یہ ہئیں باوی۔ حافظ ڈاڈے دی شادی۔مسیت دے لٹھے۔پوہ مانہہ دے امب۔خان وڈا۔شیش نانگ۔وتھ متوں ویلا۔جنگل کہیڑ اتے جتاما۔گنگا بشیرا اتے \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eکملی۔بے وطن۔سیربین دا بڈھا۔مکھن۔ابنارمل\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eافسانوں میں لکھاری کے اپنےاردگرد کے علاقے اور لوگوں کی کہانیاں ہیں۔اس کے اپنے شہر کے کردار بھی ہیں اور بہاول پور چولستان کے بھی۔ان کو افسانے کہنے کی بجائے کہانیاں کہنا چاہئے جیسا کہ خود مصنف نے کہا ہے اور یہ ایسی کہانیاں ہیں جن پر گارشیامارکیز کے مطابق یقین کیا جاسکتا ہے اور یہ قول کتاب کے شروع میں درج بھی ہے۔جو ہمارے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکچھ کہانیوں کا تعلق تقسیم سے ہے۔اس تقسیم سے لوگ جس انداز سے گزرے ہیں وہ قاری کے تقسیم کے بارے میں اعتبار کو متزلزل کردیتاہےاور دکھی بھی۔تقسیم کی اذیت کے بعد لوگ پھر ضیا کے دور بھٹو کی پھانسی کے عہد سے بھی گزرے ہیں وہ ان عزابوں کا ذکر کر کے پاکستانی لوگوں کے یاد دلاتا ہے کہ ان کو ان دکھوں سے دوسری بار بچنے کا احساس ہو سکے۔یہ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eافسانے کہانیاں ہی رہتی ہیں اور افسانہ نگارکسی نظریاتی پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوتا\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eHe should like to be a free artist and nothig more لیکن اس کے باوجود فکراپنی روشنی پھیلاتی نظر آتی ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔اور یہی کہانی کا فن ہے کہ وہ چپکے سے قاری کے اندر اترتی ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکہانیوں میں کردار نگاری کا فن اپنے عروج پر ہے بلکہ وہ اکثر کہانیوں کا حاصل ہے۔ان میں شیش نانگ۔حافظ ڈاڈے دی شادی۔خان وڈا خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ان\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکہانیوں سے اس بات کا اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ یہ کس عہد اور کس جگہ کی کہانیاں ہے ضیاء دور کا عہد بھٹو کو پھانسی لگنے کا زمانہ وغیرہ۔اس طرح بی۔وی کا دماغی امراض کا وارڈ اور چولستان میں پنجابی افسر رانا کمال کی تعیناتی جو ابنارمل ہے اور اس بد بخت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ کتاب کا نام اس کردار پر ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاشو جب کسی کہانی کا آغاز کرتے ہیں تو اس کے آغاز یا اس کے نام سے کہانی کے اختتام کا پتہ نہیں چلتا بعض کہانیاں کہانی در کہانی بل کھاتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں جیسے شیش نانگ وغیرہ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاشو کی شاعری کی طرح اس کی کہانیاں بھی اپنی انفرادیت کی حامل ہیں۔ان کا خیال لغت املا سب کچھ اشو کے اپنےمزاج اور فکر کو سمجھنےمیں مدد دیتی ہیں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاسلم رسول پوری\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction house","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48094466015449,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Abnormal-1-scaled.jpg?v=1772704509","url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/products\/%d8%a7%d8%a8%d9%86%d8%a7%d8%b1%d9%85%d9%84","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}