{"title":"Top Selling","description":"","products":[{"product_id":"تصویر-یار-از-آسکر-وائلڈ-the-picture-of-dorian-gray-by-oscar-wild","title":"تصویر یار از آسکر وائلڈ | The picture of dorian gray by Oscar wild","description":"\u003cp\u003eThe Picture of Dorian Gray جب اوائلِ جوانی میں پہلی بار نظر سے گزری تو اپنے مرکزی کردار اور اُس کی پورٹریٹ کے تناظر میں کچھ دُھندلی سی محسوس ہوئی۔ اب عارف وقار نے اس تصویر کو واضح تو کر دیا ہے لیکن اس کی سفّاکانہ دھندلاہٹ کو بھی برقرار رکھا ہے۔ عارف وقار نے اِس ترجمے میں کلاسیکی ادب کے مطالعے کا حق ادا کرتے ہوے دو باتوں پر توجہ مرکوز رکھی ہے: انفرادی لفظوں کی بُنت اور جملے کی مجموعی ساخت۔\u003cbr\u003eاگر آسکر وائلڈ زندہ ہوتے اور اُن کے پاس وہ سب ڈکشنریاں ہوتیں جو عارف وقار کے پاس ہیں تو وہ اس ترجمے کو دیکھ کر بے اختیار کہہ اٹھتے کہ ہاں یہی ہے میری تصویرِ یار!\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمحمد حنیف\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقیمت: 800\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eآڈر کرنے کے لیے اپنا نام پتہ اور فون نمبر انباکس کریں یا 03019597933 پر وٹس ایپ میسج کریں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089499271385,"sku":null,"price":675.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_09c0fa71-3adf-42a6-8a29-68401334047a.jpg?v=1772698908"},{"product_id":"naimat-khana-by-khalid-javaid-نعمت-خانہ-از-خالد-جاوید","title":"Naimat khana by Khalid Javaid| نعمت خانہ از خالد جاوید","description":"\u003cp\u003eNaimat khana by Khalid Javaid| نعمت خانہ از خالد جاوید\u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089502613721,"sku":null,"price":1175.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_7872d25b-ce6d-4aad-bb31-4d356b825b0a.jpg?v=1772698913"},{"product_id":"family-of-pascal-duarte-by-camilo-jose-cela-پاسکوال-ڈوارٹے-کا-خاندان","title":"Family of pascal duarte by Camilo José Cela | پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان","description":"\u003cp\u003eFamily of pascal duarte by Camilo José Cela | پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان\u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089510084825,"sku":null,"price":675.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_11efb8ad-d553-4280-a000-a3f1198f50de.jpg?v=1772698919"},{"product_id":"human-act-by-han-kang-انسانی-عمل-از-ہان-کانگ","title":"Human act by Han kang | انسانی عمل از ہان کانگ","description":"\u003cp\u003eHuman act by Han kang | انسانی عمل از ہان کانگ\u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089513263321,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_e55fdbd3-b09b-4289-9709-053f380d5771.jpg?v=1772698920"},{"product_id":"pradise-by-abdul-razak-gurnah-جنت-از-عبدالرزاق-گرناہ","title":"Pradise by abdul razak Gurnah | جنت از عبدالرزاق گرناہ","description":"\u003cp\u003e\u003cem\u003eParadise – جنت\u003c\/em\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eاز عبدالرزاق گرناہ ایک مؤثر ناول ہے جو استعمار، غربت اور انسانی خواہشات کے گرد گھومتی کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ ناول ایک نوجوان لڑکے کی زندگی کے سفر، اس کی جدوجہد اور معاشرتی ناانصافیوں کے اثرات کو پیش کرتا ہے۔ کتاب میں یادداشت، اخلاقیات اور انسانی فطرت کی پیچیدگیوں کو خوبصورت اور جذباتی انداز میں اجاگر کیا گیا ہے، جو قاری کو سوچنے اور محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمصنف: عبدالرزاق گرناہ\u003cbr\u003eمترجم: افشاں نور\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eصفحات: 256\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089513296089,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_ef36c2bb-15ea-484b-b396-18f54912600b.jpg?v=1772698921"},{"product_id":"tehzeeb-ki-qirat-by-ahmad-javaid-تہذیب-کی-قرات-از-احمد-جاوید","title":"Tehzeeb ki Qirat by Ahmad Javaid | تہذیب کی قرات از احمد جاوید","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاحمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ، تحریری کم اورجدید صوتی و بصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد کی کمی نہ صرف روایتی قاری کا مطالبہ رہی بلکہ اہل علم کا تقاضہ بھی۔ زیر نظر کتاب کی تدوین و ترتیب کے بعد جاوید صاحب کی نظر ثانی اور مشوروں سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طورپہ وقت کی ضرورت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیقیناََ “تہذیب کی قرات”کے ذریعہ احمد جاوید صاحب کے افکار و تجزیات کا، ناظرین و سامعین سے نکل کر قارئین تک پہنچنے کا عمل طلبہ، اساتذہ اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے خوش کن ہوگا\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089513328857,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_e0a4ea9c-c59d-4f5e-ba69-24b2081318a1.jpg?v=1772698922"},{"product_id":"ratti-by-zafar-syed-رتی-از-زیف-سید","title":"Ratti by Zafar syed | رتی از زیف سید","description":"\u003cp\u003e’رتی‘ پر حامد میر کا تبصرہ جو آج کے جنگ میں چھپا ہے۔ میر صاحب کے شکریے کے ساتھ جنہوں نے ناول صرف دو دن میں نہ صرف پڑھ بھی لیا بلکہ اس پر تبصرہ بھی لکھ دیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eناول خریدنے کے لیے پہلے کمنٹ میں دیے گئے لنک پر کلک کریں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eرتی\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ ایک بہت حسین اور امیر لڑکی کی داستان محبت ہے جس نے 18 سال کی عمر میں اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کر لی تھی۔ اس لڑکی کے خاوند کو تو ساری دنیا جانتی ہے لیکن اس لڑکی کو بہت کم لوگ جانتے ہیں کیونکہ وہ صرف 29 سال کی عمر میں اپنی سالگرہ کے دن اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس لڑکی کا نام رتن بائی اور اس کے خاوند کا نام محمد علی جناح تھا جو پاکستان میں قائد اعظم اور بابائے قوم کہلاتے ہیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eرتن بائی قیام پاکستان سے 18 سال قبل 20 فروری 1929 ء کو انتقال کر گئی تھیں اگر وہ زندہ رہتیں تو شائد مادر ملت کا لقب محترمہ فاطمہ جناح کی بجائے انہیں ملتا ۔ انکی وفات کے وقت قائد اعظم کی عمر 52 سال تھی لیکن انہوں نے دوسری شادی نہیں کی ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقائد اعظم اور رتن بائی کی محبت کی اس کہانی پر زیف سید نے \"رتی\" کے نام سے ایک ناول لکھا ہے ۔ رتن بائی کو پیار سے رتی کہا جاتا تھا اس لئے ناول کا نام بھی رتی ہے ۔ اس ناول کے اکثر کردار حقیقی ہیں۔ لیکن کچھ کردار فرضی بھی ، تاہم کوشش کی گئی ہے کہ فرضی کرداروں کو تاریخی سچائیوں کے قریب رکھا جائے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ ناول صرف رتی نہیں بلکہ قائد اعظم کی شخصیت کے بھی کچھ ایسے پہلو اُجاگر کرتا ہے جو صرف عام لوگوں سے نہیں بلکہ کئی تاریخ دانوں سے ابھی تک مخفی ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eناول میں رتی کی کچھ نظمیں شامل ہیں کیونکہ وہ شاعرہ بھی تھیں اور کبھی کبھی اخبارات میں بھی لکھتی تھیں ۔ ناول کا آغاز 15 اگست 1947 ء کی شام سے ہوتا ہے جب قائد اعظم نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اُٹھایا۔حلف اُٹھانے کے بعد قائد اعظم نے سر غلام حسین ہدائت اللہ کو بلایا اور اُن کے کان میں کچھ کہا۔ سر غلام حسین ہدائت اللہ فوری طور پر وہاں موجود موسیقار کین میک کےپاس جاتے ہیں جو اپنے طائفے کے ساتھ دو گھنٹے پہلے ٹاٹا ایئر لائنز کی خصوصی پرواز کے ذریعے بمبئی سے کراچی پہنچا تھا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکین میک تک قائد اعظم کی فرمائش پہنچ جاتی ہے اور پھر کلاسیکل موسیقارفریدرک شوپاں کی ایک مشہور طرز پرمبنی گیت so deep in the night کی دُھن بجائی جاتی ہے۔یہ وہ گیت تھا جو رتی کو بہت پسند تھا اور وہ بمبئی کے تاج محل ہوٹل کے آرکسٹرا سے اکثر اس گیت کی موسیقی سنا کرتی تھیں ۔ 15 اگست 1947 ء کو اُسی آرکسٹرا کو کراچی بلایا گیا تھا۔ قائد اعظم نے قیام پاکستان کی خوشی میں رتی کی یاد کو بھی شامل کر لیا تھا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eزیف سید نے اس موقع پر قائد اعظم کی طرف سے گورنرجنرل کے طور پر پڑھے جانے والے حلف کی جو عبارت اپنے ناول کا حصہ بنائی ہے وہ متنازع ہے ۔ قائد اعظم نے تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اُٹھانے کی بجائے حلف کی عبارت کو تبدیل کر دیا تھا ۔ تحریک پاکستان کے کئی محققین کا دعویٰ ہے کہ قائد اعظم نے دراصل اس نافذ العمل آئین پاکستان سے وفاداری کا حلف اُٹھایا تھاجو بنایا جانا تھا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eبہر حال حلف کی اس تقریب کے بعد زیف سید ہمیں رتی اور جناح کی داستان محبت کی طرف لے جاتے ہیں جس میں کئی ڈرامائی اُتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ رتی کا تعلق ایک پارسی خاندان سے تھا۔محبت میں پہل اُنکی طرف سے ہوئی تھی اسی لئے عمر کے فرق کے باوجود قائداعظم ان سے شادی پر راضی ہوئے۔1916 ء میں جب پہلی دفعہ قائد اعظم نے اُن کے والد ڈنشا پٹیٹ سے رتی کا ہاتھ مانگا تو رتی کے والد نے قائد اعظم کو اپنے گھر سے نکال دیا تھا ۔ 1917 میں ڈنشا پٹیٹ نے عدالت سے ایک حکم امتناعی حاصل کیا اور قائد اعظم کو رتی کے اٹھارہ سال کے ہونے تک ملنے سے روک دیا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e20 فروری 1918 کو رتی اٹھارہ کی ہو گئیں تو اُنہوں نے تاج محل ہوٹل بمبئی میں اپنی سالگرہ کا اہتمام کیا۔اس موقع پر رتی نے فریدرک شوپاں کی موسیقی پر قائد اعظم کے ساتھ رقص کیا - 18 اپریل 1918 ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد میں اسلام قبول کیا۔ اُن کا اسلامی نام مریم رکھا گیا ۔ 19 اپریل 1918 ء کو شادی ہوئی اور نکاح کے بعد قائد اعظم نے اپنا بمبئی والا گھر دلہن کو تحفے میں دیدیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e20 اپریل 1918 ء کو ڈنشا پٹیٹ نے اپنے انگریز وکیل سٹرنگ مین کے مشورے پر قائد اعظم کے خلاف بیٹی کے اغواء کا مقدمہ دائر کر دیا ۔ جیسے ہی عدالت میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو رتی کھڑی ہو گئیں اور انہوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا\" مائی لارڈ ! مسٹر جناح نے مجھے اغواء نہیں کیا، در حقیقت میں نے انہیں اغواء کیا ہے ۔ \" رتی کے اس اعلان کے ساتھ ہی یہ مقدمہ ختم ہو گیا لیکن پارسی اخبارات اور کچھ مسلمان علماء نے قائد اعظم کے خلاف نفرت کا طوفان برپا کرنے کی کوشش کی ۔ کچھ مسلمان اخبارات نے قائد اعظم کا دفاع کیا لیکن جن مسلمان اخبارات نے قائد اعظم پر جھوٹے الزامات لگائے اُن کا ذکر زیف سید نے اپنے ناول میں نہیں کیا ۔ شائد ناول کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں لیکن قائد اعظم کی اس شادی کو متنازعہ بنانے کیلئے جن مسلمانوں نے کم ظرفی دکھائی اُن کی تفصیل خواجہ رضی حیدر کی انگریزی کتاب \" رتی جناح \" میں موجود ہے -\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایک بھارتی مصنفہ شیلا ریڈی نے بھی 2017 میں \" مسٹر اینڈ مسز جناح \" کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں محترمہ فاطمہ جناح کو رتی اور قائد اعظم میں اختلاف کی وجہ ثابت کرنے کی کو شش کی ۔ زیف سید کے ناول میں موجود تاریخی واقعات شیلا ریڈی کو غلط ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eخاوند اور بیوی میں اختلاف کوئی انہونی چیز نہیں ہے ۔ اختلاف کے باوجود رتی کو قائد اعظم سے بہت محبت تھی اور وہ انہیں پیار سے جے کہتی تھیں ۔ قائد اعظم اپنی سیاسی مصروفیات کی وجہ سے انہیں زیادہ وقت نہ دے پاتے جس پر وہ شکوہ کیا کرتیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایک دفعہ رتی اپنے خاوند کے ساتھ دلی آئیں اور ساتھ میں ایک پالتو بلی کو بھی لے گئیں جس کا نام کاجل تھااورجس سے رتی کو بہت محبت تھی ۔ یہاںرتی کی بلی گم ہو گئی، اسےبہت ڈھونڈا گیا لیکن وہ نہ ملی، اس دوران قائد اعظم کی بمبئی واپسی کا وقت ہو گیا۔ اگلے دن اُنہیں ہائی کورٹ میں پیش ہونا تھا ۔ رتی اپنی بلی کے بغیر واپس جانے سے انکاری تھیں۔ لہٰذا قائداعظم اپنی مجبوری کی وجہ سے رتی کو دلی چھوڑ کر بمبئی واپس چلے گئے۔پھر رتی پیرس چلی گئیں اوروہاں بیمار پڑ گئیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقائد اعظم انکی تیمار داری کیلئے پیرس پہنچے ۔ ایک مہینہ اُن کے پاس رہے ۔ پیرس سے واپسی پر بحری جہاز سے 5 اکتوبر 1928 ء کو رتی نے انہیں ایک خط لکھا\"جو کچھ آپ نے میرے لئے کیا اس سب کا بہت شکریہ ۔ اگر کبھی میرے رویے میں آپکی حساس طبیعت نے کوئی چڑچڑا پن یا بے رخی محسوس کی ہو تو یقین جانئے کہ میرے دل میں آپ کے لئے صرف اور صرف انتہا درجے کی نرمی اور محبت تھی\"۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e25 دسمبر 1928 ء کو قائد اعظم کی سالگرہ کے دن رتی نے تاج محل ہوٹل بمبئی میں ظہرانے کا اہتمام کیا ۔ 17 فروری 1929کو رتی دوباره بیمار پڑگئیں اور 20 فروری 1929 کو اپنی 29 ویں سالگرہ کے دن دنیا سے رخصت ہو گئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجب رتی کو بمبئی کے علاقے مز گاؤں (آرام باغ )کے ایک مسلم قبرستان میں دفن کیا گیا تو اپنی محبت کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے قائد اعظم پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس ناول کے آخر میں 29 اگست 2012 ء کوممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جس تاج محل ہوٹل میں رتی کی محبت پروان چڑھی اُس پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا اور جس مزگاؤں میں رتی دفن ہیں وہاں بھی بم دھماکہ کیا گیا ۔\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089516638425,"sku":null,"price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_4fce01e2-24e6-49f0-9eb5-70dae8e4b83e.jpg?v=1772698923"},{"product_id":"zer-e-zameen-sargoshiyan-by-fyodor-dostoevsky","title":"ZER-E-ZAMEEN SARGOSHIYAN by  FYODOR DOSTOEVSKY","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003e4ء زمانۂ تحریر ’’زیرِ زمیں سرگوشیاں‘‘، زبان: رُوسی، اصل عنوان: Записки из подполья\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1864ء دستوئیفسکی کا یہ ناول پہلی بار رسالہ ’’ایپوک‘‘ (Epoch) میں سلسلے وار شائع ہوا۔ اس تصنیف کا ابتدائی اعلان دستوئیفسکی نے ’’ایپوک‘‘ ہی میں ’’ایک اعتراف‘‘ (A Confession) کے عنوان سے کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1866ء کتابی شکل میں یہ ناول نظرثانی شدہ ایڈیشن کے طور پر شائع ہوا۔ اس کے بعد یہ دستوئیفسکی کے بعد میں آنے والے بڑے ناولوں کا نقطۂ آغاز بنا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1918ء اس ناول کا پہلا باقاعدہ انگریزی ترجمہ 1913ء میںسی جے ہوگارتھ (C. J. Hogarth) نے \"Letters from the Underworld\" کے عنوان سے کیا، تاہم کونسٹینس گارنیٹ (Constance Garnett) کا 1918ء میں شائع ہونے والا ترجمہ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ معروف، مستند اور بااثر ثابت ہوا۔ انھوں نے اسے \"Notes from Underground\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ وہ دستوئیفسکی، ٹالسٹائی، چیخوف اور تُرگینیف کے تراجم کے لیے مشہور ہوئیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء نامور کہانی کار، نقاد اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے کونسٹینس گارنیٹ کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’زیرِزمیں سرگوشیاں‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"rea","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089520341209,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/696505921617e1768228242.jpg?v=1772698926"},{"product_id":"qabil-e-aitraaz-by-hashir-irshad-حاشر-ارشاد-قابل-اعتراض","title":"QABIL-E-AITRAAZ  by HASHIR IRSHAD\/  حاشر ارشاد قابل اعتراض","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمجال ہے جو حاشر ارشاد کو پڑھتے ہوئے مسکراہٹ کا کوئی امکان کہیں پیدا ہو۔ طنز کا نشتر البتہ اکثر آزماتے ہیں۔ اہلِ دل اس مقام سے گزرتے ہیں تو ایسا منہ بنائے ہوئے گویا کسی نے کلہ چِیر کے لیموں نچوڑ دیا ہے۔ حاشر ارشاد اپنی افتاد میں بنے بنائے مائیکل اینجلو ہیں۔ ایک بڑا ہتھوڑا حقائق اور شواہد کا تھام رکھا ہے۔ اور اس کی پے در پے ضربوں سے دلیل کے تیشے کو اس طرح سنگین چٹانوں کے دل میں اتارتے چلے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ حاشر ارشاد نے ہم عصر اُردو نثر میں جلال کا رنگ پیدا کیا ہے۔ پڑھنے والے کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔ سانس روک کے پڑھنا پڑتا ہے۔ نامعلوم کس قاموس المعارف سے استفادہ کیا ہے کہ حاشر ارشاد کا قلم ’’زکنارِ ما، بکنارِ ما‘‘ طوفان اٹھاتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اب آپ میں ہمت ہے تو سامنے آئیے۔ اور واللّٰہ کس میں ایسا حوصلہ کہ سر پر توا باندھ کے حاشر ارشاد کے سامنے پڑے۔ فالحمدللّٰہ۔ (وجاہت مسعود)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمہ گیر بحران کے اس گنجلک پس منظر میں بھی مگر آپ کو روشنی اور حرارت کے حوالے مل جائیں گے، جیسے حاشر ارشاد کا یہ بیانیہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بیانیہ آپ کو تناؤ کے دورانیے سے نکال کر ان منطقوں کی طرف لے جائے گا جہاں نہ لوہے کے پھاٹک ہیں، نہ اونچی فصیلیں، نہ بارود کی عذر خواہی۔ یہ وہ زمرے ہیں جہاں خاموشیاں سانجھ اور جڑت کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہیں اور پُراسرار راتوں نے بے چین سینوں کے لیے روشن صبحوں کے سندیسے لکھ رکھے ہیں۔ (فرخ یار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کا نام ایک خاص تاریخی اور لسانی تہذیب میں گندھا ہوا ہے، سو وہ اپنے نام کی نسبت سے اپنی تحریر کے ذریعے پہلے لوگوں کو متوجہ اور اکٹھا کرتے ہیں اور پھر ان کی فکری تربیت کرتے ہیں، انھیں علمی سوال اٹھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ ہم اپنے بیشتر وراثت میں ملے ہوئے یا روایتی نظریات پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر جدید حقائق اور تازہ فکر ان سے متضاد ہوں تو ہم جدید حقائق اور تازہ فکر کو مسترد کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے، دوسری جانب ہمارے جدید عقلیت پسند ساتھی روایتی نظریات کے سیاق وسباق کو سمجھے بغیر انھیں رد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ اپنے پورے تہذیبی ورثے کو سمجھ کر اور اس میں موجود خامیوں کی منطقی نشان دہی کرکے خرد افروزی اور روشن خیالی کے نئے باب وا کرنا حاشر کو ممتاز کرتا ہے۔ زیرِنظر مضامین میں شامل کسی بھی رائے سے قاری کے اختلاف کرنے کا حق محفوظ ہے، مگر یہ تحریریں بلا شبہ انسان دوستی اور علم پروری کو سماج میں غالب لانے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ (حارث خلیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجن معاشروں میں رائج افکار، بااثر شخصیات، معاشرتی رشتوں اور انسانی جذبات کو باریک بینی، غیر جانبداری اور مثبت تنقیدی زاویوں سے دیکھنے والے ناپید ہوتے جائیں وہاں رفتہ رفتہ عامیانہ باتیں عقیدہ بن جاتی ہیں۔ اوسط سے بھی کم درجے کے لوگ دیوتا، معاشرتی رشتے زنجیراور انسانی جذبات بوجھ۔ حاشر ارشاد صاحب کی طبیعت میں سنجیدہ اور ذہین سوال پوچھے بغیر کسی بھی بات پر اعتقاد لے آنے کا میلان سِرے سے ہی موجود نہیں۔ وہ وسیع المطالعہ بھی ہیں، حسّاس بھی اور منطقی اور مدلل گفتگو کے فن سے پوری طرح واقف بھی۔ اُن کی تحریر میں جاذبیت بھی ہے اور روانی بھی۔ اُن کے مضامین کا مجموعہ نثری دلکشی اور موضوعات کے تنوّع اور دلچسپی کے باعث ایک عمدہ کاوش تو ہے ہی، لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مجموعہ بےباکی اور خلوص سے روشن خیالی اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی تحریک دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے عاقل اور متجسّس سوچنے والوں اور ان کی کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ (اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحقیق کے پیامبروں کا ماننا ہے کہ بے ترتیبی کے کچھ بندوبست ایسے بھی ممکن ہیں کہ برساتی جنگلوں میں اپنے کومل پَر پھڑپھڑاتی تتلی، ہزاروں میل دور مہا ساگر میں طوفان کا موجب ٹھہرے۔ دس برس پہلے حاشر بھائی کی پہلی تحریر پڑھی تو خیال آیا کہ ایسے کون لکھتا ہے۔ مکان کی سرائے سے زمان کے ساربان مسلسل قافلے بڑھاتے رہے تو پتا چلا کہ مدھم لفظوں کی مستقل پھوار، بے ترتیبی کے نظام میں تتلی سے تلاطم کا رشتہ جوڑ رہی ہے۔کسی نے پوچھا کہ حاشر بھائی کیوں لکھتے ہیں؟ کیا وہ اس بات کا درک نہیں رکھتے کہ ہم، سوال سے منکر اور استفسار سے برگشتہ لوگ ہیں۔ کیا وہ لاعلم ہیں کہ حفاظت کی سنگین نےشعور کی بے ساختگی چھین لی ہے۔ جواب میں بہت جمع تفریق کے بعد ایک ہی بات سمجھ آئی کہ پڑھنے والوں کے بارے میں تو دعویٰ محال ہے مگر لکھنے والا جانتا ہے کہ شاید ان ساحلوں پہ جمود کا کوئی موسم ٹھہر گیا ہے۔ ایسے موسموں میں میناروں پہ تعینات راسخ العقیدہ دید بان ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ روشنی کا نشان قائم رہے، شاید اسی لیے حاشر بھائی کا لکھتے رہنا بہت ضروری ہے۔ (محمد حسن معراج)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر کی شہرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی کتاب پڑھنے سے جب تک بچ سکتے ہیں، بچ جائیں۔ بھئی کیوں پڑھیں وہ چیزیں جنھیں پڑھ کے پہلے سے بہکا ہوا دماغ مزید بہکے۔ لیکن کب تک نہ پڑھتے؟ قابلِ اعتراض مواد کب تک تکیے کے نیچے رکھ کے بتی آنے کا انتظار کیا جائے؟ ایسی چیزیں ٹارچ کی روشنی میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں، بلکہ پڑھنی بھی ایسے ہی چاہییں۔ پہلا مضمون پڑھا اور کہانی ہی پلٹ گئی۔ سوشل میڈیا پہ استعمال ہونے والے تھمب نیل کی طرح پسِ آئینہ کچھ بھی قابلِ اعتراض نہ نکلا۔ صاف ستھری نثر، پُرخلوص قلم اور سیدھا کھرا مشاہدہ۔ اتنے سامنے کی بات کہ پڑھنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ بات تو میں بھی محسوس کرتا ہوں تو کیا میں بھی ایسا لکھ سکتا ہوں؟ بالکل نہیں، یہ اسلوب، سہل ممتنع کی طرح ہر ایک کے بس کی بات نہیں، سوز کی یہ ہنڈ کلیہہ ہر کوئی نہیں پکا سکتا۔ اس کے لیے حاشر کا کلیجا اور حاشر کا قلم چاہیے۔ (آمنہ مفتی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کے مضامین پر مجھے بہت سارے اعتراضات ہیں۔ حضرت کے موضوعات، ان کی جہات، تمام موٹے اور باریک نکات، حد یہ کہ ان کے اعتراضات بھی قابلِ اعتراض ہیں۔ سب سے زیادہ قابلِ اعتراض ان کی دیدہ دلیری ہے۔ یہ صاحب کیوں نہیں جانتے کہ اس معاشرے میں ہیلمٹ پہنے بغیر سنجیدہ گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر سوچنے پر نہیں اکسایا جاسکتا۔ اور سوال اٹھانے سے پہلے کئی ہزار میل کا فاصلہ ضروری ہے۔ ملزم کی فردِ جرم بہت طویل ہے۔ کئی مدعیان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کی ہر تحریر اور گفتگو کا نتیجہ کسی نہ کسی طبقے کے جذبات میں ابال لانے کا سبب بنتا ہے۔ کسی تحریر پر عقلیت پسندوں کے دل خوشی سے بھرے ہوئے ملے ہیں۔ کسی تحریر پر نوجوانوں میں مطالعے کی جستجو اور تڑپ پیدا ہوتے دیکھی گئی ہے۔ کسی تحریر پر ادب کے قاری وجد میں دکھائی دیے ہیں۔ علی شریعتی سے ایک قول منسوب ہے کہ ایک جاہل معاشرے میں صاحبِ شعور ہونا جرم ہے۔ میں اس کی تائید کرتا ہوں اور حاشر ارشاد کو عادی مجرم قرار دیتا ہوں۔ یہ کتاب ان کے جرائم کا اہم ثبوت ہے۔ معاشرے کے لیے اس سنگین جرم کی پاداش میں انھیں تاحیات کربِ دانائی اور دشنامِ جہل کو بھگتنا پڑے گا۔ میں اُنھیں مسلسل ایسے مضامین لکھنے اور کتابی صورت میں چھپوانے کی سزا سناتا ہوں۔ (مبشر علی زیدی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089523716313,"sku":null,"price":1475.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/69690df6459e31768492534.jpg?v=1772698927"},{"product_id":"zindagi-zindan-dili-ka-naam-hai-زندگی-زنداں-دلی-کا-نام-ہے","title":"ZINDAGI ZINDAN DILI KA NAAM HAI by  ZAFAR ULLAH POSHNI \/ زندگی زنداں دلی کا نام ہے","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eلذیذ حکایت کو دراز تر کرنا تو محاورہ بھی ہے اور رسمِ دنیا بھی، لیکن اگر کوئی پوچھے کہ جیل خانے اور اسیری کی حکایت لذیذ کیسے ہو سکتی ہے تو انھیں سابق کپتان ظفر اللہ پوشنی کی یہ کتاب پڑھنے کو دیجیے۔ اگلے وقتوں کی بات ہے کہ ظفر اللہ پوشنی سمیت کچھ چھوٹے بڑے فوجی افسر اور اس خاکسار سمیت تین غیر فوجی لوگ اور ایک خاتون ان وقتوں کے ایک شہرۂ آفاق مقدمے میں ماخوذ ہوئے،جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واحد مقدمے کے لیے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ایک خاص قانون وضع کیا، ایک خاص عدالت قائم ہوئی جس کی کارروائی اب تک پردۂ راز میں اس لیے ہے کہ اس قضیے میں ہر فریق، مصنف، وکیل، گواہ، عدالت کے پیش کار وغیرہ وغیرہ، غرض ہر کوئی قانونی طور سے راز داری کا پابند کیا گیا تھا۔ ظفر اللہ پوشنی نے اپنی کتاب میں مصلحتاً اس راز کی پردہ کشائی تو مناسب نہیں سمجھی، البتہ اس امر کی وضاحت بہت تفصیل سے کی ہے کہ ہم ملزمین کی نظر میں اس دفترِ ملامت کی وقعت کیا تھی اور ہمارے شب و روزِ اسیری میں اس مضحکہ خیز ڈرامے کے کردار اداکاری کے کیا جو ہر دکھاتے رہے تھے۔ اس عجیب و غریب سازش کا ایک نادر پہلو تو یہی تھا کہ ہم میں سے بیشتر لوگ باہم صورت آشنا بھی نہیں تھے اور ہم میں سے کچھ کی ملاقات پہلی بار جیل خانے ہی میں ہوئی۔ ظفر اللہ پوشنی سے بھی میری وہیں شناسائی ہوئی... ایک لا ابالی بے فکر، کھلنڈرا نوجوان جسے ڈنٹر پیلنے، گلا پھاڑنے اور انگریزی کے فحش گانے گانے کے علاوہ بظاہر بقیہ کاروبارِ زندگی سے کوئی سروکار ہی نہ تھا، البتہ ذہن طرار ملا تھا اور زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔ جیل خانے کی طویل ملاقات میں ہم نے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپوشنی کے لکھے ہوئے اس منظرنامے میں آپ کو یہ سارے کردار ایک طرح سے پردۂ تصویر پر نظر آئیں گے اور جیل خانے کے وہ سارے ڈراپ سین بھی جن سے ان کی زندگی عبارت تھی۔ پوشنی نے یہ کچھ اتنے چٹخارے لے کر لکھا ہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اسے پڑھ کر کہیں کچھ لوگ یہ نہ سوچنے لگیں کہ اگر سازش ایسی ہی لایعنی اور جیل خانہ ایسی ہی لطف کی چیز ہے تو یہ تفریح ہم بھی کیوں نہ کر دیکھیں۔ پوشنی نے منظر کشی کے ساتھ کہیں کہیں کامنٹری بھی کی ہے، جس سے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ لیکن اس حکایت کی لذت آفرینی سے شاید ہی کوئی پڑھنے والا انکار کر سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیض احمد فیض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارچ 1972ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی مئی 1926ء میں مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ سانحہ جلیانوالہ باغ کے زمانے کی تحریک کے لیڈر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور اُردو زبان کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا تعلق بھی امرتسر کے اسی کشمیری خاندان سے تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی نے بی اے کا امتحان سترہ سال کی عمر میں پاس کیا اور ایم اے (پولیٹکل سائنس) کا پہلا سال ختم کرنے کے بعد برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں وہ مختلف چھاؤنیوں میں تعینات رہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ظفر اللہ پوشنی آرمی سگنل اسکول پونہ میں انسٹرکٹر تھے۔ وہ سگنل کور کے ساز و سامان میں پاکستانی فوج کے حصے کی نگہداشت کرتے کرتے پونہ سے جبل پور گئے اور کئی جتنوں کے بعد وہاں سے مال گاڑی میں یہ تمام سامان لے کر فروری 1948ء میں بالآخر پاکستان پہنچے۔ اس وسیع ساز و سامان کو تقسیمِ ہند کے کچھ مہینے بعد پاکستان پہنچانا ظفر اللہ پوشنی کا کارہائے نمایاں تھا، جس پر وہ ساری عمر فخر کرتے رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1951ء میں کیپٹن ظفر اللہ پوشنی کو میجر جنرل اکبر خان و دیگر فوجی افسروں اور بعض نامور سویلین شخصیتوں کے ہمرا ہ گرفتار کرلیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا جو راولپنڈی مقدمہ سازش کے نام سے مشہور ہوا۔ چارسال قید کاٹنے کے بعد 1955ء میں رہائی ہوئی تو ظفر اللہ پوشنی نے یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eابھی انھوں نے وکالت کا کام نیا نیا شروع ہی کیا تھا کہ جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے تمام لوگوں کو سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا، ان میں ظفر اللہ پوشنی بھی شامل تھے۔ اس بار وہ چار مہینے جیل میں رہے جس میں ایک مہینہ قیدِ تنہائی میں کاٹا۔ جسٹس کیانی مرحوم کے احکامات کے مطابق فروری 1959ء میں ان کو رہائی نصیب ہوئی تو وہ کراچی چلے گئے اور مین ہٹن ایڈورٹائزنگ کمپنی میں بطور کاپی رائٹر ملازمت اختیار کر لی۔ چند سال میں ظفر اللہ پوشنی ترقی کرکے کمپنی کے کریٹیو ڈائریکٹر بن گئے ۔ چھ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ اسی کمپنی کے ساتھ منسلک رہے۔ مارچ 2020ء میں کووڈ کی وبا پھیلتے ہی ساری دنیا لاک ڈاؤن میں چلی گئی۔ آفس بھی بند ہو گئے۔ گھر بیٹھنا ظفر اللہ پوشنی کو راس نہ آیا اور وہ بیمار رہنے لگے۔ چھ اکتوبر 2021ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e93 سال کی عمر تک ظفر اللہ پوشنی اپنے دفتری فرائض بخوبی انجام دیتے رہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرتے اور ذہنی اور جسمانی لحاظ سے فٹ تھے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089523814617,"sku":null,"price":1475.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/69747e23ba86d1769242147.jpg?v=1772698929"},{"product_id":"hadji-murad-by-leo-tolstoy","title":"Hadji Murad by Leo Tolstoy","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eBased on the most tumultuous period in the life of Hadji Murad, a real Caucasean fighter, Hadji Murad is a taut, tragic novella about loyalty, betrayal, and the solitude of a man too large for the causes which tried to claim him. After a feud with his commander, Imam Shamil, Murad crosses to the Russians where he is courted, watched, and finally confined as a suspected spy. When news arrives that his wife and son have been taken hostages by Shamil, he risks everything on a desperate break for the mountains to free his family. Published posthumously in 1912, Hadji Murad is Tolstoy's late masterpiece which lays bare the cynicism of empire, the fissures within insurgency, and the solitary integrity of a fighter who refuses to be used.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089527025881,"sku":null,"price":375.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100904.webp?v=1772698931"},{"product_id":"the-cossacks-by-leo-tolstoy","title":"The Cossacks by Leo Tolstoy","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eWeary of the hollowness of privilege, Dmitry Andreich Olenin, a Russian aristocrat, enlists and rides south to the Caucasus. In the foothills he meets the Cossack hunters, growers, and fighters whom he imagines to be at one with the land. Among them he learns the river's rhythms: he hunts, he drinks, he falls in love with the proud Maryána and admires the bold Lukashka. What begins as escape becomes an experiment in living by courage, work, and kinship rather than rank. Yet the closer Olenin draws, the clearer the distance becomes: custom, loyalty, and war mark a line he cannot cross. Tolstoy's early masterpiece pairs luminous landscape with exact psychology, asking whether an outsider can ever truly belong and what is forfeited when romance meets reality.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089527058649,"sku":null,"price":375.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100935.webp?v=1772698932"},{"product_id":"resurrection-by-leo-tolstoy","title":"Resurrection by Leo Tolstoy","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eResurrection is a fierce novel of conscience and social critique. Summoned for jury duty in a murder trial, Prince Dmitri Nekhlyudov is stunned to find that the defendant is Katyusha Maslova, a maid he had once seduced and abandoned. The shock forces him to confront his past. What begins as private shame becomes a demanding moral quest. Determined to make amends, he vows to give up comfort and status, help restore Katyusha's life, and challenge the institutions that helped destroy it. Part love story and part spiritual inquiry, Resurrection takes the reader from courtrooms to prisons and on to Siberian exile, revealing a bureaucracy both petty and cruel, a church weakened by empty ritual, and an aristocracy numbed by habit. Its power lies in Tolstoy's precise attention to human motives and behaviour. A masterwork of storytelling, it turns one man's guilt into a searching examination of justice, responsibility, and compassion.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089530237145,"sku":null,"price":775.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100928.webp?v=1772698933"},{"product_id":"the-death-of-ivan-ilyich-by-leo-tolstoy","title":"The Death Of Ivan Ilyich by Leo Tolstoy","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eA respected magistrate and dutiful social climber, Ivan sustains a trivial injury that evolves into a relentless, unnamed illness. As pain erodes his work, decorum, and domestic peace, he confronts the hollowness of a life arranged around status and propriety. Family and colleagues deflect his terror with platitudes; only him with Gerasim, peasant servant, unembarrassed compassion, modeling an authenticity Ivan has never practiced. In his final days, Ivan recognizes the lie at the core of his \"proper\" existence and glimpses a truer morality rooted in sympathy rather than self-interest. That insight dissolves his fear: pity replaces resentment, light supplants darkness, and death loses its sting. The Death of Ivan Ilyich is a stark, concise study of a man who has lived \"most simple and most ordinary and therefore most terrible.\" It remains a bracing, modern meditation on denial, conscience, and the liberating clarity of mortality.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089530269913,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100881.webp?v=1772698934"},{"product_id":"anna-karenina-by-leo-tolstoy-اینا-کریننا-از-لیو-ٹالسٹائی","title":"ANNA KARENINA by leo tolstoy  \/ اینا کریننا  از لیو ٹالسٹائی","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی، لیو نکولائی وِچ: تخلیق کار، ادیب، داستاں گو، مفکّر، معلّم اور کسان۔ 1828ء، خاندانی ریاست، یَسنایا پولیانا، رُوس میں پیدائش، ایک امیر زادے، جاگیر دار، بہت بڑی ریاست کے مالک، سخت کوش، آوارہ مزاج، درد مند اور حقیقت شعار۔ نَو برس کی عمر میں یتیم ہو گئے۔ جوانی، جوانی کی طرح گزاری۔ عمر کے بیسویں سال کازان یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے، ڈگری حاصل کیے بغیر تعلیم ترک کر دی۔ 1849ء میں اپنی جاگیر میں کاشت کاروں کے بچّوں کے لیے ایک سکول قائم کیا۔ ناکام ہو جانے پر سیر سپاٹے میں جی لگایا، ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے، دُنیا سے کھیلنے لگے۔ 1851ء میں ایک ملازمت مل گئی۔ قلم کاری کا جوہر خلقی تھا۔ ملازمت کے دوران اپنی سوانح ’’بچپن، لڑکپن اور جوانی‘‘ کی پہلی جلد ’’بچپن‘‘ رقم کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1852ء میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔ اِس عہد کے تجربے اُن کے شاہ کار ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کی بنیاد بنے۔ فوج کی ملازمت بھی جلد ہی ترک کر دی۔ بے قراری سی بے قراری تھی۔ کبھی ماسکو کا رُخ کرتے، کبھی اپنی جاگیر پر واپس آ جاتے۔ ماسکو میں ’’باپ اور بیٹے‘‘ کے مصنّف جلیل القدر اِیوان ترگینف اور دوسرے ہم عصر ادیبوں سے دوستانہ مراسم ہو گئے تھے۔ ہم ذوقوں، ہم فکروں کی صحبتوں میں ذوق و فکر کی نمو تیز ہوتی ہے۔ ٹالسٹائی تو، بہ قولِ فیض، لوح و قلم کی پرورش ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ کم عمری ہی میں اُنھوں نے ایک فکر انگیز قلم کار کی حیثیت سے سارے روس میں شہرت حاصل کر لی تھی۔ وہ بڑی سنجیدہ تحریریں تخلیق کرنے لگے تھے، لیکن اُن کی زندگی اور زندگی کے معاملات و معمولات کچھ الگ تھے۔ نہ ایسی سنجیدگی، نہ اخلاقی اقدار کا ایسا پاس و لحاظ، جو اُن کی تحریروں کا خاصّہ تھا، جن تحریروں سے اُن کے خالق کی ایک تصویر بنتی تھی۔ وہ خوش اندام، لالہ فام نازنینوں کے شیدائی تھے۔ مست اَلست، خوب شراب لنڈھاتے تھے اور خوب خلوتیں آباد کیا کرتے تھے۔ اُدھر مقبوضہ علاقوں کے دشمن سپاہیوں سے اُن کا ربط ضبط رہتا تھا تو اِدھر سینٹ پیٹرز برگ کی کلیسائی قلم رَو میں اُنھوں نے رسائی حاصل کر لی تھی۔ ایک دیہی دوشیزہ سے راز و نیاز اِس انتہا سے دوچار ہوئے کہ وہ اُن کے بچّے کی ماں بن بیٹھی۔ یہ قصّہ کسی نہ کسی طور ناخوشگوار انجام سے دوچار ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1857ء سے 1861ء تک اُنھوں نے مغربی یورپ کا دورہ کیا۔ جدید تہذیب کا یہ براہِ راست مشاہدہ اُن کے فکری و نظری سفر میں مہمیزی کا باعث ہوا۔ 1862ء میں، عمر 34 سال ہو گئی تھی اور بہت زندگی کھیل لی، بہت رنگ جما لیا تھا کہ کچھ قرار آیا۔ اپنے دوست کی 18 سالہ بیٹی سوفیا بہرس پر جا کے نظر ٹھیری اور شادی کر لی اور مسلسل پندرہ سال اپنی جاگیر پر نہایت شادماں، نہایت بھرپور زندگی گزاری۔ 26 سالہ ازدواجی رفاقت میں سوفیا 13 بچّوں کی ماں بنی۔ دونوں میں بڑی یک جائی تھی۔ شوہر کے بیش تر تخلیقی کام سوفیا کی اعانت کے مرہونِ منّت ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1870ء ٹالسٹائی کے لیے فکری گرداب کا سال تھا۔ شک اور ابہام کی آلودگی سے وہ اپنے خاص فکر و نظر کی تقطیر کرنے اور انسانی زندگی کے ایک صاف اور سیدھا راستہ ڈھونڈ لینے کا یقین حاصل کرنے کے مراحل سے گزرا کیے اور اُنھوں نے کُھلے عام اپنے نظریات کی تلقین و تبلیغ شدّ و مد سے شروع کر دی۔ جمہوریت، مساوات، اخوّت اور انسان دوستی، اب یہی اُن کی زندگی کے مقاصد تھے۔ 1879ء میں اُنھوں نے رُوس کے سرکاری کلیسا سے اپنا ناتا توڑ لیا اور خود اپنے مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی۔ سوفیا نے اُن کی مخالفت کی اور تب اُنھیں ایسا لگا کہ شادی اُن کے عزائم کی راہ میں دیوار بن چکی ہے۔ 1888ء میں اُنھوں نے سوفیا کو آزاد کر دیا، یا یوں کہا جائے کہ خود آزاد ہو گئے۔ 1901ء میں اُن کے ناول ’’حیاتِ نو‘‘ پر روس کے آرتھوڈوکس چرچ نے بھی اُن سے مقاطعہ کر لیا۔ ٹالسٹائی کی انقلابی فکر روس سے باہر بھی مقبول ہونے لگی تھی۔ اپنی مدلّل اور مؤثر تحریروں کی وجہ سے روس میں اُن کا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاثر و رسوخ اِس قدر بڑھ گیا تھا کہ روسی حکومت کو اُن کی باغیانہ سرگرمیوں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی ایک سچّے اور کھرے تخلیق کار تھے۔ ناول ’’اینا کریننا‘‘ یا ’’جنگ اور امن‘‘ ہی نہیں، اُن کے دیگر قلمی کام بھی کارناموں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کا سارا تخلیقی کام، مقالات اور خطوط پر مشتمل نوّے جلدوں کے مساوی ہے۔ اُنھوں نے اپنی ساری جاگیر اور دولت خاندان کے افراد، اپنے مزارعوں اور غریبوں میں تقسیم کر دی تھی اور خود کو بالکلّیہ قلم کاری اور اپنے ’اِزم‘ کی ترویج و توسیع کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اپنی ڈائری میں اُنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ جارج ایلیٹ، ہومر، شیکسپیئر، تھیکیرے، پُشکن، ڈکنز، سروینٹیس، کانٹ، بودلیئر، گوئٹے اور روسی ہم عصر ترگینف اور دستوئیفسکی کی تحریروں نے اُن کی زندگی اور کام پر گہرے اثرات مرتّب کیے ہیں۔ خود ٹالسٹائی کی تحریروں نے نسلیں متاثر کی ہیں۔ گاندھی، مارٹن لُوتھر کنگ جونیئر اور بے شمار نام وَروں نے ٹالسٹائی کی فکر سے اکتساب کیا ہے۔ وہ بہت پُرنویس، پُرخیال ادیب تھے۔ خود اُن کا اصرار تھا کہ اُنھیں محض قصّہ گو کی حیثیت سے شناخت نہ کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسات سال زندگی اور مل جاتی تو اپنے خوابوں کی تعبیر 1917ء کا انقلاب بھی دیکھ لیتے۔ 1910ء میں ٹالسٹائی کا وقت ختم ہو گیا، لیکن وقت کہاں ختم ہوا، ٹالسٹائی تو بہت زندہ ہیں۔ اِتنا منفرد، اِتنا کثیر اور فکرانگیز ترکہ چھوڑ جانے والا کیسے ختم ہو سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحریر: شکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089530302681,"sku":null,"price":2300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/64c91c346463c1690901556.jpg?v=1772698934"},{"product_id":"the-double-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Double by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eYakov Petrovich Golyadkin is an anxious and socially awkward clerk whose fragile world begins to unravel with the sudden appearance of his double, a charming, confident replica who infiltrates his life and slowly supplants him. As Golyadkin’s grip on reality loosens, he is drawn into a nightmarish spiral of paranoia, humiliation, and existential dread. Written early in Dostoyevsky’s career, The Double anticipates the psychological depth and thematic complexity of his later masterpieces. It is a haunting exploration of self-division, societal pressure, and the fragility of the human psyche, delivered with biting satire and surreal intensity.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089533481177,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100638.webp?v=1772698936"},{"product_id":"the-eternal-husband-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Eternal Husband by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eVelchaninov, a proud and self-assured bachelor, unexpectedly runs into Pavel Pavlovich Trusotsky, a peculiar man who deeply unsettles him. He soon recognizes him to be the husband of Natalia, a woman with whom Velchaninov once had a passionate affair. Natalia is now dead. One day, Trusotsky pays Velchaninov a surprise visit. Then he visits him again and again. These visits further unsettle Velchaninov. Soon, he begins to realize that Trusotsky’s return to his life is no coincidence and it may be ill-omened.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089533513945,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100652.webp?v=1772698937"},{"product_id":"the-meek-one-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Meek One by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eSet in the 19th-century Russia, The Meek One, also known as A Gentle Spirit, is a retrospective account of an ill-fated marriage of a pawn- broker and a teen girl, who, as suggested at the beginning of the narrative, is now dead. But, is her death so sudden as it appears from her husband’s account? Wasn’t she dying every day in a loveless marriage? A poignant exploration of human psychology and the intricacies of relationships, The Meek One is a timeless work of literature.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089536692441,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100546.webp?v=1772698944"},{"product_id":"the-gambler-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Gambler by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eAlexei Ivanovich, a passionate and impulsive young tutor, is an employee of a fallen Russian general. He falls madly in love with the general’s daughter, Polina, and agrees to gamble on her behalf—an act that propels him into the seductive, destructive world of chance and obsession. Inspired by Dostoyevsky’s own compulsive entanglement with roulette and loss, The Gambler is set in a fictional European spa town. It captures the volatility of human desire and the feverish highs and humiliating lows of gambling addiction. Both intensely personal and universally resonant, it stands as a taut and vivid portrait of the allure of risk and the psychological toll it exacts.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089536725209,"sku":null,"price":375.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100607.webp?v=1772698939"},{"product_id":"the-brothers-karamazov-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Brothers Karamazov by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eFyodor Karamazov is found dead one night. An epicurean and a compulsory liar, he was not a good father either. Therefore, his death raises the question of parricide. It could be any of his sons, as all seem to have their own reasons to get rid of him. It could be anybody else too. But who? The Brothers Karamazov is a superb murder mystery. This is, however, just one of its qualities and merely the opening of an impassable labyrinth. Not only does Dostoyevsky skilfully initiate in it profound philosophical and theological debates, exploring themes such as the existence of God, free will, and the nature of evil but he also deeply examines the conflict between human freedom and divine authority. One of the best novels in history, The Brothers Karamazov is a rich and thought-provoking exploration of faith, doubt, and the human condition, leaving readers with profound questions about the essence of life and morality. Serialized in The Russian Messenger in 1879 and 1880, it was published in the book form a few months before Dostoyevsky s death in February 1881.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089536757977,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/66c197265e21e1723963174.jpg?v=1772698940"},{"product_id":"nihayat-afsos-naak-waqia-by-fyodor-dostoevsky-نہایت-افسوس-ناک-واقعہ-از-ظ-انصاری","title":"NIHAYAT AFSOS-NAAK WAQIA by FYODOR DOSTOEVSKY \/ نہایت افسوس ناک واقعہ از ظ انصاری","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’’نہایت افسوس ناک واقعہ‘‘ نامی چھوٹی سی کہانی (1862ء) میں دستوئیفسکی نے اسی زمانے کے مسائل یعنی ساتویں دہائی کے واقعات اور مسائل کو لیا ہے۔ دستوئیفسکی اس کو اس طرح شروع کرتے ہیں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یہ افسوس ناک واقعہ اس زمانے میں پیش آیا جب ہمارے وطن عزیز کا نوجیون بےپناہ جوش و خروش اور سادہ و پُرکار ہیجان کے ساتھ شروع ہوا.....‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کہانی میں اعتدال پرستوں پر طنز ہے۔ کہانی کے ہیرو، راجدھانی کے ’’ترقی پسند‘‘ جنرل پرالینسکی کے زندگی کے سطحی نظریے، خود پسندی اور مقبولیت کے لیے دوڑ دھوپ کو نمایاں طور پر پیش گیا ہے۔ ’’اونچے لوگوں‘‘ پر تیز طنز کے ساتھ ’’نہایت افسوس ناک واقعہ‘‘ میں، غریبوں، بھک منگوں، پیٹرزبرگ کے غریب محلوں کی زندگی اور انسانی تعلقات کے رکیک پہلوؤں کے المیے کو بھی عریاں کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089539936473,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/686835f61322d1751660022.jpg?v=1772698941"},{"product_id":"gambler-by-fyodor-dostoevsky-گیمبلر-از-ظ-انصاری","title":"GAMBLER by FYODOR DOSTOEVSKY \/ گیمبلر  از ظ انصاری","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089540002009,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/686616dce28401751520988.jpg?v=1772698942"},{"product_id":"chacha-ka-khawab-by-fyodor-dostoevsky-چچا-کا-خواب-مترجم-ظ-انصاری","title":"CHACHA KA KHAWAB  by FYODOR DOSTOEVSKY    \/ چچا کا خواب مترجم ظ انصاری","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089543180505,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/6865482b101c11751468075.jpg?v=1772698943"},{"product_id":"asan-tarjuma-quran-by-dr-israr-ahmad-آسان-ترجمہ-قرآن-از-ڈاکٹر-اسرار-احمد","title":"Asan Tarjuma Quran by Dr israr ahmad | آسان ترجمہ قرآن از ڈاکٹر اسرار احمد","description":"\u003cp\u003eAsan Tarjuma Quran by Dr israr ahmad | آسان ترجمہ قرآن از ڈاکٹر اسرار احمد\u003c\/p\u003e","brand":"Bookfair","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089552945369,"sku":null,"price":3500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_5fcd7de9-5dfa-4452-911a-3544a2c14baf.jpg?v=1772698953"},{"product_id":"mossad-by-ronal-pine-موساد-مترجم-یحیی-خان","title":"Mossad by Ronal pine | موساد مترجم یحیی خان","description":"\u003cp\u003eMossad by Ronal pine | موساد مترجم یحیی خان\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089559367897,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_815176a2-2274-4608-8aad-8ca31fb9a98e.jpg?v=1772698956"},{"product_id":"باغ-لذت-از-محمد-النفزاوی-مترجم-یاسر-جواد-perfumed-garden-translaotr-yasir-jawad","title":"باغ لذت از محمد النفزاوی مترجم یاسر جواد |Perfumed garden translaotr Yasir Jawad","description":"\u003cp\u003eباغ لذت از محمد النفزاوی مترجم یاسر جواد |Perfumed garden translaotr Yasir Jawad\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089562546393,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_38ca6821-8196-422f-a486-03c322e338c3.jpg?v=1772698958"},{"product_id":"the-greatest-mind-of-all-time-by-will-durant-انسانی-تاریخ-کے-عظیم-ترین-ذہن-اور-نظریات-از-ول-ڈیورنٹ","title":"the greatest mind of all time by Will durant| انسانی تاریخ کے عظیم ترین ذہن اور نظریات از ول ڈیورنٹ","description":"\u003cp\u003ethe greatest mind of all time by Will durant| انسانی تاریخ کے عظیم ترین ذہن اور نظریات از ول ڈیورنٹ\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089562579161,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_89ee8593-01d5-4bc9-bbfe-0787d933cea9.jpg?v=1772698959"},{"product_id":"company-of-women-by-khushwant-sing-کمپنی-آف-وومن-از-خوشونت-سنگھ","title":"Company of women by Khushwant sing | کمپنی آف وومن از خوشونت سنگھ","description":"\u003cp\u003eCompany of women by Khushwant sing | کمپنی آف وومن از خوشونت سنگھ\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089562611929,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_15f74314-61c4-4f0f-8ce7-b42c069fb04f.jpg?v=1772698960"},{"product_id":"غزوہ-ہند-از-توصیف-خان-gazwa-e-hind-by-tauseef-khan","title":"غزوہ ہند از توصیف خان | Gazwa e hind by tauseef khan","description":"\u003cp\u003eغزوہ ہند از توصیف خان | Gazwa e hind by tauseef khan\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089565790425,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_a9cf19a8-5f0d-4455-8042-5030147ec831.jpg?v=1772698961"},{"product_id":"دی-آرٹ-آفوار-از-جنرل-سن-زو-the-art-of-war-by-sun-zu","title":"دی آرٹ آفوار از جنرل سن زو|The art of war by Sun zu","description":"\u003cp\u003eدی آرٹ آفوار از جنرل سن زو|The art of war by Sun zu\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089565823193,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_27dcb663-16d4-4532-8ea8-7c67cb00d603.jpg?v=1772698962"},{"product_id":"خزاں-زدہ-پتے-از-ول-ڈیورنٹ-مترجم-ڈاکٹر-ژوبیہ-the-fallen-leaves-by-will-durant","title":"خزاں زدہ پتے از ول ڈیورنٹ مترجم ڈاکٹر ژوبیہ| The fallen leaves by will durant","description":"\u003cp\u003eخزاں زدہ پتے از ول ڈیورنٹ مترجم ڈاکٹر ژوبیہ| The fallen leaves by will durant\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089569001689,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_bde1ca90-be33-4876-abed-a1a032f5d28b.jpg?v=1772698963"},{"product_id":"rebel-english-academy-by-mohammed-hanif","title":"Rebel English Academy\nBy Mohammed Hanif","description":"\u003cp\u003eWhen Pakistan’s first elected Prime Minister Zulfikar Ali Bhutto is hanged, the people of OK Town refuse to believe he is dead and fight to bring him back.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eIn the heart of the city, Sir Baghi is surprised by a knock at the door of the Rebel English Academy, his tuition center that offers affordable English lessons. An unexpected visitor, Sabiha, seeks refuge at the Academy—her husband has just died in a house fire, and she insists she only ran away from a burning building. Baghi encourages Sabiha to write, and a lifetime of secrets begin to unspool on the page.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eMeanwhile Captain Gul, who botched his hanging duty, has been banished to OK Town, where he aims to squash the protestors wanting to bring Bhutto back from the dead. But his duties and romantic desires begin to overlap, and his already dubious power is threatened.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eIn Rebel English Academy, Pakistan is struggling under martial law after the execution of its former leader. Mohammed Hanif has constructed a vibrant cast of interconnected characters that face this changing landscape with violence, passion, and sharp humor. Wry, searing, and deeply relevant, Rebel English Academy is a triumphant new novel about political power, religion, education, sexuality, and perpetual dissent.\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089572212953,"sku":null,"price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_a7d1c8b8-f0aa-430a-bbba-8910955de560.jpg?v=1772698966"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-hardback-collector-s-edition-box-setلارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK HARDBACK COLLECTOR’S EDITION BOX SETلارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے مجلد کولیکٹرز ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003cp\u003eلارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e شہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e انگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔✍  سنڈے ٹائمز\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند جلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔✍  سی ایس لیویس(شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔✍  کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔✍ ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن(ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔ ✍  بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089572245721,"sku":null,"price":6000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_2df42205-2bd0-4356-b6eb-612d4a6310e0.jpg?v=1772698967"},{"product_id":"اعتراف-از-راجہ-منور-احمد-itraf-by-raja-munawar-ahmad","title":"اعتراف از راجہ منور احمد | Itraf by Raja Munawar ahmad","description":"\u003cp\u003eماضی کے سیاستدانوں کے بارے میں حقارت بھرے جذبات سے ابلتی نوجوان نسل اگر راجہ منور احمد صاحب کے نام سے واقف نہیں تو ان کی اس ضمن میں لاعلمی واجبِ ندامت نہیں ٹھہرائی جاسکتی۔ حیرانی مگر اس وقت ہوتی ہے جب میری عمر کے وطن عزیز کی سیاست سے دیرینہ شناسائی رکھنے والے چند افراد بھی راجہ صاحب کے بارے میں کندھے اچکاکر لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو یاد ہے کہ 1970ء کی ہیجانی دہائی میں طاقتور حکمرانوں کو پچھاڑنے اور ان کی جگہ نئے ’شہزادوں‘ کو تخت پر براجمان کروانے میں راجہ منور احمد نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انھیں ’محلاتی سازشوں‘ کے ویلن مارکہ کردار ٹھہرانے کے باوجود ان کے بدترین دشمن بھی تنہائی میں یہ اعتراف کرتے کہ راجہ صاحب اقتدار کے کھیل کو جذباتی انداز میں نہیں دیکھتے۔ کلیدی اختیار کی جنگ لڑتے کرداروں کی قوت کو علم ریاضی کے ماہر کی طرح جانچ کر ایسی پیش گوئی کردیتے ہیں جو نجومیوں کی زائچہ فروشی سنائی دینے کے باوجود بالآخرسو فیصد درست ثابت ہوتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e1974ء کا برس تھا۔ میں دل سے سوشلزم کا کٹرحامی ہونے کے باوجود اس کے پاکستان میں نفاذ کے لیے کوشاں افراد کی حکمت عملی اور اندازِ سیاست کے قریبی مشاہدے کے بعد اپنے ملک میں ’انقلاب‘ کی امید کھوچکا تھا۔ طالب علم سیاست سے جندچھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ فیصلہ کرنے میں بھی مصروف تھا کہ ایک برس بعد تعلیم مکمل کرنے کے بعد رزق کمانے کے لیے کل وقتی صحافت کی جائے یا ڈرامہ نویسی کو ’ہوائی رزق‘ کے طورپر اختیار کرلیا جائے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e1974ء کی فروری میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس بھی ہوئی تھی۔ اس میں حصہ لینے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور لیبیا کے کرنل قذافی ایک دوسرے سے شدید نظریاتی اختلافات کے باوجود پاکستان تشریف لائے۔ مذکورہ کانفرنس میں شہنشاہِ ایران بھی شریک ہوا۔ وہ اس گماں میں مبتلا تھا کہ مشرق وسطیٰ کا ایک کونا اسرائیل نے سنبھالا ہوا ہے۔ ’دوسرا کونا‘ سنبھالنے کے لیے امریکا کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور شخص ہی موجود نہیں۔ شاہ ایران اپنے دورِ اقتدار اور شخصیت کو قدیم ایرانی سلطنت کا احیا بھی تصور کرتا تھا۔ اس رعونت کے ہوتے ہوئے وہ بھی لاہور میں ہوئی کانفرنس میں شریک ہوا تو مجھے بطور لہوری ہی نہیں ایک پاکستانی کی حیثیت میں بھی فخر محسوس ہوا۔\u003cbr\u003e’شیرِ پنجاب‘ کے لقب سے مشہور ہوئے ملک مصطفیٰ کھر اس کانفرنس کے دوران آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے کے بااختیار وزیر اعلیٰ تھے۔ لاہور میں اسلامی کانفرنس جس شاندار انداز میں منعقد ہوئی عوام اس کا کریڈٹ کھر صاحب کو بھی کشادہ دلی سے دے رہے تھے۔ میں بھی یہ فرض کربیٹھا کہ مصطفیٰ کھر اب پنجاب کے بااختیار وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے ’نئی تاریخ‘ بنائیں گے۔ اس سے قبل ایک عوامی اجتماع میں انھیں ذوالفقار علی بھٹو انتہائی جذباتی انداز میں ’مجھے کچھ ہوا تو…‘ کہنے کے بعد اپنا جانشین وولی عہد بھی ٹھہراچکے تھے۔ میرے ذہن کو ’شیرِ پنجاب‘ لہٰذا ناقابل تسخیر محسوس ہونے لگے۔\u003cbr\u003eچند ہی دن بعد مگر لاہور میں سیاسی گپ شپ کے لیے مشہور ایک چائے خانے میں ’کٹرسوشلسٹوں‘ کی نگاہ میں ’ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والے‘ ایک صحافی نے مجھے بڑے اعتماد سے سرگوشی میں خبر دی کہ کھر صاحب کی چھٹی ہونے والی ہے۔ میں نے دلائل سے انھیں جھٹلانے کی کوشش کی تو انھوں نے سوال داغا:’راجہ منور کو جانتے ہو؟‘ میں نے انکار میں سرہلایا تو اس نے یہ فیصلہ سناکر چائے کابل ادا کیے بغیر ر خصت لے لی کہ انھیں جانے اور سنے بغیرمجھے پنجاب کی سیاست پر تبصرہ آرائی کا کوئی حق نہیں۔ راجہ صاحب سے ملاقات کی جانب دل مگر مائل ہی نہ ہوا۔ کالم کی ابتدا ہی میں عرض کرچکا ہوں کہ سیاست سے دل برداشتہ ہورہا تھا۔ اس کے اکھاڑے میں جاری دنگلوں پر توجہ دینے کو طبیعت مائل ہی نہیں ہورہی تھی۔\u003cbr\u003eچند ہی دنوں بعد مگر کھر صاحب واقعتا پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے فارغ ہوگئے۔ ان کی جگہ حنیف رامے صاحب اس منصب پر پنجاب اسمبلی سے منتخب کروائے گئے۔ اصولی طورپر مجھے لاہور کے متوسط طبقے سے تعلق ر کھنے والے حنیف رامے صاحب کے پنجاب کے بارے میں ’جاگیر دار‘ غلام مصطفیٰ کھر کو ذہن میں رکھتے ہوئے خوش ہوجانا چاہیے تھا۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔ دل میں یہ طے کرلیا کہ پڑھے لکھے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود رامے صاحب جن کا خاندان روشن خیال ادبی جرائد اور کتابوں کی طباعت کے لیے مشہور تھا ’محلاتی سازش‘ کے ذریعے برسراقتدار آئے ہیں۔ دریں اثناء لاہور میں ایک بڑی واردات ہوگئی۔ اتفاقاً اس کا ارتکاب کرنے والے میرے سکول کے دوست کے بڑے بھائی تھے۔ نسبت روڈ سے میوہسپتال لے جاتی سڑک پر بنے گھروں میں سے ایک میں رہتے تھے۔ جو واردات ہوئی اس کا تذکرہ جیسے اخباروں کے اولیں صفحات پر چیختی سرخیوں کے ذریعے ہوا۔ انھیں پڑھنے کے بعد میں اپنے دوست سے ہمدردی کا اظہار کرنے اس کے گھر چلا گیا۔ میری دانست میں اس کا بھائی طویل عرصے کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رہے گا۔ وہ مگر مجھے دیکھ کر پریشان نہ ہوا۔ نہایت اعتماد سے اطلاع دی کہ ’راجہ (منور) صاحب‘ اس کے بھائی کو کسی نہ کسی صورت بچالیں گے۔ اس کا پراعتماد لہجہ چند روز بعد درست ثابت ہوا تو میں راجہ منور صاحب کے نام سے مزید چڑنا شروع ہوگیا۔\u003cbr\u003eبعدازاں حنیف رامے کی حکومت بھی فارغ ہوگئی۔ وہ اور مصطفیٰ کھر یکجا ہوکر بھٹو کی مخالفت میں پیرپگاڑا کی مسلم لیگ میں آگئے۔ اس دوران مجھے ایک چھوٹے اخبار میں حقیر معاوضے پر رپورٹنگ کی پیشکش ہوچکی تھی۔ جس پریس کانفرنس میں ایک دوسرے کے چند ہفتے قبل تک دشمن رہے غلام مصطفیٰ کھر اور حنیف رامے موجود تھے اسے کور کرنا میرا ٹیسٹ ٹھہرا۔ وہیں ایک سینئر صحافی نے مجھے دور سے اشارہ کرکے بتایا کہ وہ صاحب راجہ منور ہیں۔ ’سار ی گیم اس شخص کی لگائی ہوئی ہے‘۔ جس سینئر صحافی نے یہ دعویٰ کیا ان کا نام عبدالقادر حسن مرحوم تھا۔ وہ ’نوائے وقت‘ کے بہت مستند رپورٹر مشہور تھے۔ اپنے ہم عصروں سے مگر فاصلہ رکھتے۔ منو بھائی کی بدولت لیکن انھیں ’اس منڈے‘ (یعنی خاکسار)میں رپورٹنگ کا ’کرنٹ‘ محسوس ہوتا تھا۔ ان کی شفقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں راجہ صاحب سے اپنا تعارف کرواسکتا تھا۔ طبیعت مگر اس جانب مائل نہ ہوئی۔\u003cbr\u003e1975ء میں لاہور چھوڑ کر اسلام آباد آیا۔ دو سال بعد جنرل ضیاء کا مار شل لاء لگ گیا۔ پاکستان کے سادہ لوح عوام کی اکثریت کی طرح میرا یہ خیال تھا کہ جنرل ضیاء اپنے دعوے کے مطابق نوے دنوں بعد انتخاب کروادے گا۔ میں اسی وہم میں مبتلا تھا تو ایک روز عبدالقادر حسن مرحوم اسلام آباد تشریف لائے۔ میں ان کی جی حضوری کو حاضر ہوا تو انھوں نے نہایت ٹھنڈے انداز میں مجھے بتایا کہ ذواالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاء پھانسی پر چڑھائے گا۔ اس کی ترجیح ویسے بھی عام نہیں بلکہ بلدیاتی انتخاب ہیں۔ عبدالقادر حسن مرحوم کے ساتھ میں تمام تر احترام کے باوجود کج بحثی میں الجھ جایا کرتاتھا۔ نذیر ناجی صاحب سے ان سے بھی زیادہ لبرٹی لے لیتا۔ حسن صاحب نے مگر بحث میں الجھنے کے بجائے مجھے یہ بتایا کہ لاہور کے مال روڈ پر ہائی کورٹ کی بغل میں واقعہ ایک ٹی ہائو س میں راجہ منور اپنے دوستوں کو مندرجہ بالا سیناریو بتارہے ہیں اور میں ان کے ادا کردہ ایک ایک لفظ کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہوں۔ اپنے ذہن میں راجہ صاحب کو ’محلاتی سازشوں‘ سے وابستہ کرلینے کے باوجود ان سے ملاقات کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔\u003cbr\u003eوقت تیزی سے گزر گیا اور ہم 1993ء میں داخل ہوگئے۔ 1990ء کے انتخابات میں چودھری الطاف مرحوم جہلم سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ پارلیمانی امور کے قابل رشک کھلاڑی تھے۔ مجھے ’پریس گیلری‘ لکھنے کے لیے مواد جمع کرنے کو اکثر ان کی ضرورت پڑتی۔ انھوں نے نہایت شفقت سے رہنمائی کرنا شروع کردی۔ مرحوم بھی ’محلاتی سازشوں‘ کو خوب سمجھتے تھے ۔ہمیشہ مصر رہے کہ 1980ء میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے ’پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر لائے نواز شریف‘ کو ان دنوں کے صدر غلام اسحاق خان ز یادہ عرصہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔ ’پیپلز پارٹی کے بے شمار لوگوں کو مگر یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔ وہ بی بی کو خواہ مخواہ بابے (غلام اسحاق خان) کے خلاف بھڑکاتے رہتے ہیں۔‘ چودھری صاحب کو علم تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو میری لکھی ’پریس گیلری‘ کو غور سے پڑھتی ہیں۔ مجھے اپنے تھیسس کے بارے میں ہر ملاقات میں قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ ’پریس گیلری‘ لکھ لینے کے بعد میں روزانہ اسلام آباد کے ایم این اے ہاسٹل ان کے کمرے میں چلاجاتاتھا۔ ایک دن وہاں گیا تو ایک وجیہہ شخص وہاں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے رسماً ہاتھ ملایا تو چودھری صاحب بھانپ گئے کہ میں انھیں پہچانتا نہیں ہوں۔ اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ میری طرح کے ہیں۔ نام ان کا راجہ منور ہے۔ حیرت ہے کہ اتنا عرصہ سیاست پر لکھنے کے باوجود میں ان کا دوست نہیں بن پایا۔ راجہ صاحب کے ساتھ اس دن کے بعد سے بے تحاشا ملاقاتیں ہوئیں۔ بہت کم بولتے مگر اردگرد موجود لوگوں کا لیزرجیسی تیز نگاہ سے جائزہ لے کر نہایت توجہ سے ان کی گفتگو سن ر ہے ہوتے۔ اس ملاقات کے چند ہی روز بعد غلام اسحاق خان نواز شریف کی پہلی حکومت فارغ کروانے والے تھے۔ میں اگرچہ اس ضمن میں کنفیوژ تھا۔ اپنے کفیوژن کا اظہار کیا تو را جہ صاحب معنی خیز انداز میں مسکرائے اور یہ طے کرلیا کہ میں سیاست کے بارے میں اتنے عرصے سے لکھنے کے باوجود کبھی کبھار شاعرانہ معصومیت کی زد میں آجاتا ہوں۔ ’نواز شریف فارغ ہوگا۔ دھڑلے سے یہ خبر دے دیں‘۔ میں نے بچ بچا کر خبر دی تو انھیں افسوس ہوا۔ اب انھوں نے اپنے تجربات پر مشتمل ایک کتاب لکھ دی ہے۔’اعتراف‘اس کا نام ہے۔یہ کتاب نہیں پاکستان کی مفصل تاریخ ہے۔ محسوس ہورہا ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے مزید کالم لکھنا ہوں گے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eنصرت جاوید\u003c\/p\u003e","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089575424217,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_23feb62d-905b-44ac-8955-e66e926268c3.jpg?v=1772698968"},{"product_id":"a-time-to-betray-the-astonishing-double-life-of-a-cia-agent-inside-the-revolutionary-guards-of-iran-by-reza-kahlili","title":"A Time to Betray: The Astonishing Double Life of a CIA Agent Inside the Revolutionary Guards of Iran\nBy: Reza Kahlili","description":"\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"fjpur\" data-offset-key=\"29nla-0-0\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"29nla-0-0\" class=\"_1mf _1mj\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"29nla-0-0\"\u003e\u003cspan data-text=\"true\"\u003eA true story as exhilarating as a great spy thriller, as turbulent as today's headlines from the Middle East, 2010 National Best Books Award-winning A Time to Betray reveals what no other previous CIA operative's memoir possibly could: the inner workings of the notorious Revolutionary Guards of Iran, as witnessed by an Iranian man inside their ranks who spied for the American government. It is a human story, a chronicle of family and friendships torn apart by a terror-mongering regime, and how the adult choices of three childhood mates during the Islamic Republic yielded divisive and tragic fates. And it is the stunningly courageous account of one man's decades-long commitment to lead a shocking double life informing on the beloved country of his birth, a place that once offered the promise of freedom and enlightenment--but instead ruled by murderous violence and spirit-crushing oppression.\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"fjpur\" data-offset-key=\"8l2s7-0-0\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"8l2s7-0-0\" class=\"_1mf _1mj\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"8l2s7-0-0\"\u003e\u003cspan data-text=\"true\"\u003eReza Kahlili grew up in Tehran surrounded by his close-knit family and two spirited boyhood friends. The Iran of his youth allowed Reza to think and act freely, and even indulge a penchant for rebellious pranks in the face of the local mullahs. His political and personal freedoms flourished while he studied computer science at the University of Southern California in the 1970s. But his carefree time in America was cut short with the sudden death of his father, and Reza returned home to find a country on the cusp of change. The revolution of 1979 plunged Iran into a dark age of religious fundamentalism under the Ayatollah Khomeini, and Reza, clinging to the hope of a Persian Renaissance, joined the Revolutionary Guards, an elite force at the beck and call of the Ayatollah. But as Khomeini's tyrannies unfolded, as his fellow countrymen turned on each other, and after the horror he witnessed inside Evin Prison, a shattered and disillusioned Reza returned to America to dangerously become \"Wally,\" a spy for the CIA.\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"fjpur\" data-offset-key=\"9sm9n-0-0\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"9sm9n-0-0\" class=\"_1mf _1mj\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"9sm9n-0-0\"\u003e\u003cspan data-text=\"true\"\u003eIn the wake of an Iranian election that sparked global outrage, at a time when Iran's nuclear program holds the world's anxious attention, the revelations inside A Time to Betray could not be more powerful or timely. Now resigned from his secretive life to reclaim precious time with his loved ones, Reza Kahlili documents scenes from history with heart-wrenching clarity, as he supplies vital information from the Iran-Iraq War, the Marine barracks bombings in Beirut, the catastrophes of Pan Am Flight 103, the scandal of the Iran-Contra affair, and more . . . a chain of incredible events that culminates in a nation's fight for freedom that continues to this very day.\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089578930393,"sku":null,"price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/7713461_upscayl_4x_realesrgan-x4fast.png?v=1772698976"},{"product_id":"jehd-e-musalsal-zulfiqar-ahmad-cheema","title":"Jehd-e-Musalsal - Zulfiqar Ahmad Cheema جہدِ مسلسل","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eTitle: Jehd-e-Musalsal - جہدِ مسلسل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor: Zulfiqar Ahmad Cheema - ذوالفقار احمد چیمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eSubject: Autobiography\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eISBN: 9693537599\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLanguage: Urdu\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eYear of Publication: 2026\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eNumber of Pages: 336\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Sang e mell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089585582297,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_62804843-b804-4223-9fc3-ebba18d00d84.jpg?v=1772698979"},{"product_id":"tarikh-ehd-mugliaya-pro-m-sarwar-تاریخ-عہد-مغلیہ","title":"Tarikh Ehd Mugliaya Pro. M Sarwar تاریخ عہد مغلیہ","description":"\u003cp\u003eTarikh Ehd Mugliaya Pro. M Sarwar تاریخ عہد مغلیہ\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089585647833,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/tarikhehmugliya.jpg?v=1772698981"},{"product_id":"muntisher-awarq-e-lahore-منتشر-اوراق-لاہور-syed-faizan-naqvi","title":"Muntisher Awarq E Lahore منتشر اوراق لاہور  Syed Faizan Naqvi","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eلاہور! ایک شہر ہی نہیں، ایک عہد ہے، تہذیب، تاریخ، محبت، علم وادب اور روحانیت کا ایسا گہوارہ جس نے صدیوں سے دلوں کو گرمایا، آنکھوں کو چک دی، قلم کو روانی دی اور زبان کو مٹھاس عطا کی۔ اس کے کوچے، اس کی فضاء اس کی مٹی، اس کے بوسیدہ در و دیوار ، سب کے سب ایک تاریخ ہیں، ایک روایت ہیں، ایک احساس ہیں۔ لاہور، صرف ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک تہذ یہی تسلسل، ایک جمالیاتی تجربہ ، اور ایک تاریخی احساس ہے۔ اس کی گلیوں میں وقت کی سانسیں گونجتی ہیں، اس کے در و دیوار پر صدیوں کے افکار مثبت ہیں، اور اس کی فضا میں علم، ادب، تصوف، سیاست، مزاحمت اور محبت کی خوشبور چی بھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eزیر نظر کتاب منتشر اوراق لاہور \" ابھی یاد گار خوشبوؤں، ان مٹ نقوش اور ان چھپے ہوئے گوشوں کو یکجا کرنے کی ایک عظیم ادبی و فکری کاوش ہے۔ اس کتاب میں سو کے قریب اہل قلم، محققین، ادباء، مورخین اور لاہور شناس اور شخصیات کے مضامین شامل ہیں، جن کی تحریریں لاہور کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے، سمجھے اور محسوس کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ منتشر اوراق لاہور \" دراصل ان جذبوں، مشاہدوں ، یادوں اور تحقیق کا ایسا گل دستہ ہے جسے سو سے زائد اہل علم، فن، ادب، تاریخ اور عشق لاہور رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا اجتماعی مرقع ہے جو لاہور کی گم گشتہ روح کو صفحہ قرطاس پر زندہ کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eلاہور پر مشتمل یہ اوراق منتشر تھے جو کہ مختلف میگزین، اخبارات، رسالوں کا حصہ تھے ، زیادہ تر مضامین سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کے جریدے ماہنامہ احوال لاہور میں شائع ہوئے تھے ۔ اس کے علاوہ کچھ فیس بک سے لئے گئے اور کچھ احباب نے دستی لکھ کر حوالے کئے ۔ یہ منتشر اوراق اب ایک کتابی شکل میں ہیں ، اب ان میں ایک ربط ہے، کو اور بھی ایک تسلسل ہے، جو قاری کو لاہور کے ماضی، حال اور کبھی کبھار مستقبل کی جھلک بھی دکھاتا ہے۔ کسی صفحے پر تاریخ بولتی ہے، کسی پر معماری کا جمال ہے، کہیں بازاروں کی رونق ہے، کہیں گلیوں کی خامشی، اور کہیں کسی استاد، کسی درویش، کسی شاعر یا کسی مجاہد ملت کا تذکرہ ہے، جو لاہور کی پہچان بنا۔ اس کتاب کا سب سے حسین پہلو اس کی کثرت آرا میں وحدت کا\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپیغام ہے۔ یعنی سب کا موضوع ہی لاہور ہے ۔ مختلف موضوعات ہونے کے باوجو د سب ہی تحریروں میں لاہور سے عشق و محبت کا جذبہ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں مختلف مکاتب فکر ، نسلوں، طبقات اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے صرف لاہور کے لیے لکھا ہے، کہ اس شہر کا کمال یہی ہے کہ یہ سب کو اپنا لیتا ہے ، سب کو سمو لیتا ہے ۔ \"منتشر اوراق لاہور \" اہل لاہور ہی نہیں، بلکہ اُن تمام عاشقانِ لاہور کے لیے ایک تحفہ ہے، جو اس شہر کو صرف ایک مقام نہیں، بلکہ ایک محبت، ایک تجربہ ، ایک خواب سمجھتے ہیں۔ یہ \" اوراق \" اگر چہ منتشر ہیں، مگر ان کا مجموعی تاثر قاری کو ایک مربوط، زندہ متحرک لاہور کی جھلک دکھاتا ہے۔ ایک ایسا لاہور جو بیک وقت قدیم بھی ہے اور جدید بھی، محبت بھی ہے اور مزاحمت بھی، جمال بھی ہے اور کرب بھی۔ ہر مضمون اس شہر کی ایک پرت کو کھولتا ہے۔ یہ کتاب لاہور کے ان تمام پہلوؤں کی تصویر ہے جو تاریخ کی گرد میں دب کر دھندلے ہو چکے تھے ، یا جنہیں آج کی نسل نے محض سنا ہے، دیکھا نہیں۔ اس کتاب کا مقصد ان عکسوں کو دوبارہ روشن کرنا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمیں ان تمام اہل قلم حضرات کا ممنون ہوں کہ جنہوں نے اپنی یادوں، تحقیق، مشاہدے اور جذبات کو الفاظ کی صورت میں پیش کیا اور لاہور کی روح کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ دعا ہے کہ یہ کاوش نہ صرف پڑھنے والوں کے دل کو چھوئے بلکہ لاہور سے ہمارے رشتے کو مزید گہرا کرے۔ یہ کتاب ان تمام قارئین کے لیے ہے جو لاہور کو صرف پڑھتے یا دیکھتے ہی نہیں، بلکہ محسوس کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eوالسلام\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eسید فیضان عباس نقوی\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eلاہور کا کھوجی، ریسرچ اسکالر\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003ePages 648\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eISBN 9786277675195\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089585713369,"sku":null,"price":2250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/WhatsApp_Image_2025-12-18_at_6.28.02_PM.jpg?v=1772698983"},{"product_id":"غزہ-سے-ایک-خط-اور-دوسری-کہانیاں-letter-from-gaza-short-fiction-ghassan-kanafani-انعام-ندیم","title":"Letter From Gaza Short Fiction Ghassan Kanafani غزہ سے ایک خط اور دوسری کہانیاں |  انعام ندیم","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eتعارف\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eغزہ کے آسمان پر بمباری کی گونج اور بچوں کے خوف زدہ چہروں پر آنسوؤں کی نمی ابھی سوکھی نہیں کہ ہم ایک بار پھر غسان كنفانی کی تحریروں کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کنفانی کی کہانیاں وقت کے کسی لمحے میں مقید نہیں؛ وہ زندہ ہیں، سانس لیتی ہیں، اور ہر دھماکے، ہر تباہ شدہ اسکول، ہر بے یار و مدد گار پناہ گزین کی چیخ کے ساتھ از سر نو جنم لیتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eغسان كنفانی نہ صرف فلسطینی مزاحمت کا ایک درخشاں ادبی استعارہ ہیں بلکہ وہ عربی افسانے کو تاریخ، سیاست اور داخلی کرب کے جس دھارے پر لے کر چلے ، وہ آج بھی بے مثال ہے۔ ان کے افسانے کوئی نظریاتی منشور نہیں، بلکہ روز مرہ کے اُن کرداروں کا نوحہ ہیں جو اپنی سرزمین سے بے دخل ہونے کے بعد خواب اور بھوک کے در میان معلق رہتے ہیں۔ کنفانی نے فلسطینی وجود کے منتشر لمحات کو جس سادہ مگر اثر انگیز اسلوب میں بیان کیا، وہ اردو زبان کے قاری کے لیے بھی کسی نامانوس تجربے سے کم نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eاس کتاب میں شامل تراجم، در حقیقت، لمحہ موجود کا جواب ہیں۔ اس وقت جب غزہ کی گلیاں خاکستر ہو رہی ہیں، جب بچوں کے بہتے بلبے تلے دبے مل رہے ہیں، اور جب عالمی ضمیر ، حسب روایت، خاموشی کی چادر اوڑھے سویا ہوا ہے۔ ایسے میں کنفانی کی کہانیاں محض ادبی متون نہیں، بلکہ سچائی کی وہ گواہی بن جاتی ہیں جو نہ دبائی جا سکتی ہے نہ جھٹلائی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eان افسانوں کا اردو ترجمہ ایک طرف تو زبان کی حدوں کو پار کر کے فلسطینی تجربے کو اردو کے قاری کے قریب لاتا ہے، اور دوسری طرف اردو ادب میں ظلم، جلا وطنی، اور شناخت کے موضوعات پر جاری مکالمے کو ایک نئی جہت عطا کرتا ہے۔ یہ تراجم نہ صرف کنفانی کے اسلوب کی سادگی ، علامتی طاقت اور جذباتی گہرائی کو منتقل کرنے کی ایک کوشش ہیں بلکہ اردو زبان میں مزاحمت اور یادداشت کے تسلسل کا ایک حصہ بھی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eغسان كنفانی نے ایک بار کہا تھا، \"تم ایک آدمی کو مار سکتے ہو، لیکن اُس کہانی کو نہیں جو اُس نے سنائی ہو\"۔ اس کتاب میں وہی کہانیاں سانس لے رہی ہیں۔ زخم خوردہ، لیکن زندہ۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eانعام ندیم\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eجولائی 2025ء\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089588957401,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/gazasykhat.jpg?v=1772698986"},{"product_id":"k-l-gabba-two-books-اپنے-اور-پرائے-friends-and-foes-famous-trials-for-love-and-murder","title":"K L Gabba Two Books اپنے اور پرائے  Friends and Foes \/ Famous Trials for Love and Murder","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکے ایل گابا معروف قانون دان، سیاست دان اور ادیب تھے، 1899ء میں لاہور کے ایک ہندو صنعتکار لالہ ہرکشن لال گابا کے ہاں پیدا ہوئے۔ بار ایٹ لا کرنے کے بعد لاہور میں پریکٹس شروع کی۔ 1923ء میں آل انڈیا ٹریڈ یونین کانفرنس لاہور کی مجلس استقبالیہ کے چیئرمین مقرر ہوئے۔ اخبارات کے لیے مضامین لکھے اور اپنا ہفتہ وار ’’دی سنڈے ٹائمز‘‘ بھی جاری کیا۔ 1926ء میں لاہور کے صنعتی حلقے سے رائے بہادردھنپت رائے کے مقابلے میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کا الیکشن لڑا۔ 1933ء میں اسلام قبول کیا۔ مشہور ہے حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی تجویز پر کنہیا لال (کے ایل) گابا سے خالد لطیف (کے ایل) گابا ہو گئے۔ یوں ان کے نام کا انگریزی مخفف اور صوتی و لفظی تاثر قائم رہا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eگابا نے وکالت کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی نام کمایا۔لیکن خاندانی کاروبار پر چیف جسٹس ڈگلس ینگ کی تحقیقات نے سب کچھ بدل دیا۔ گابا نے جسٹس ڈگلس ینگ کے خلاف \"سر ڈگلس ینگز میگنا کارٹا\" لکھی، جس کی وجہ سے انہیں توہینِ عدالت میں جیل ہوئی۔ اس کتاب نے ینگ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا، اور گابا ہیرو بن گئے، لیکن خاندان غربت کا شکار ہو گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e۱۹۴۷ میں پاکستان کے قیام پر گابا \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eہندوستان منتقل ہوئے۔ بمبئی میں وکالت اور کتابیں لکھتے رہے، لیکن لاہور جیسی شہرت نہ ملی۔ 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر وہ پاکستان آئے ۔۱۹۸۱ میں ان کی وفات پر صرف چند لوگ سوگوار تھے۔۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089588990169,"sku":null,"price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Two_Books_Set.jpg?v=1772698987"},{"product_id":"shab-arzan-شب-ارزاں","title":"Shab Arzan  شب ارزاں|  اسد اللہ میر الحسنی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eکیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ایک کہانی، جو کسی اجنبی زبان اور دور افتادہ سر زمین میں جنم لیتی ہے، کس طرح ہمارے دل کی اتھاہ گہرائیوں تک اتر جاتی ہے؟ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ کہانی ہمیں اپنی شناخت اور ہمارے ہونے کے معنی نئے زاویوں سے دکھا دیتی ہے۔ میرے لیے عربی افسانہ ہمیشہ اسی حیرت، مسرت اور تلاطم کا نام رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمجھ سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے : \" کیا واقعی عربی افسانے میں کچھ نیا ہے ؟\" میں مسکرا کر جواب دیتا ہوں: اگر صرف قصہ مقصود ہو تو شاید نہیں؛ لیکن اگر آپ زبان کے پردے میں فکر ، درد، خواب، بغاوت اور جستجو کی دھڑکن سننے کے متلاشی ہیں، تو عربی افسانہ آپ کو ضرور حیران کر دے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eجدید عربی افسانہ روایتی قصہ گوئی کی سرحدوں سے آگے نکل چکا ہے۔ یہاں علامت نگاری، تجریدیت، حقیقت اور اساطیر ایک منفرد ہم آہنگی کے ساتھ آپس میں گھل مل جاتے ہیں۔ یہاں آج کے انسان کے وجودی بحران، شناخت کی پیچیدگی ، ہجرت، جنگ، طبقاتی جبر ، عورت کی نفسیات اور مذہبی و روحانی اضطراب جیسے موضوعات کو نہایت فنکارانہ انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاس مجموعے میں آپ کو نجیب محفوظ کے تہہ دار کردار، غسان كنفانی کے فلسطینی بچوں کی ویرانی، محمود شقیر کی بیت المقدس میں رچی بسی امید اور تلخی، توفیق الحکیم کی تمثیلی معنویت، یوسف ادریس اور محمد تیمور کی حقیقت نگاری، زکریا تامر کی علامتی اور تجریدی زبان، اور منفلوطی کی سوز و گداز تحریر ہر ایک اپنی الگ شناخت اور رنگ کے ساتھ ملے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمیری کوشش یہی رہی ہے کہ اس انتخاب میں وہ افسانے شامل کیے جائیں جو نہ صرف ادبی معیار پر پورے اترتے ہوں، بلکہ جدید عربی معاشرت، فرد کی تنہائی، اجنبیت، احتجاج اور امید کی کیفیات کو بھی اجاگر کریں۔ میں نے زبان کے حسن، فکر کی گہرائی، موضوعات کی جدت اور اسلوب کی تازگی کو معیار بنایا ہے، تاکہ قاری کو ہر افسانے میں کوئی نیاز او یہ ملے ، کوئی نئی معنویت اُبھرے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمیرا یقین ہے کہ عربی افسانہ صرف عربوں کی کہانی نہیں، یہ پوری انسانیت کی کہانی ہے۔ یہ ہمارے اپنے سوالات، خوابوں اور تضادات کی بازگشت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے اردو قاری کے لیے بھی یہ افسانے اتنے ہی اہم ہیں؛ ہماری اپنی معاشرت بھی انہی سوالات، انہی تضادات اور انہی خوابوں سے گزر رہی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eعربی افسانہ ہمیں اپنی شناخت، اپنے درد اور اپنی امید کونئے زاویوں سے دیکھنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ ممکن ہے \"شب ارزاں \" میں آپ کو بھی اپنی زندگی کے وہ سوال مل جائیں، جن کی تلاش میں آپ مدتوں سر گرداں رہے ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eیہ کتاب میری ذاتی تلاش، میرا انتخاب ہے اور اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ عربی افسانہ آپ کو بھی اسی طرح حیران اور متاثر کرے، جس طرح اس نے مجھے کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاسد الله میر الحسنی\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089592201433,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/shab.jpg?v=1772698990"},{"product_id":"armaghan-e-marg-ارمغان-مرگ-translation-the-gift-of-death","title":"Armaghan-e-Marg  ارمغان مرگ  The Gift of Death Jacques Derrida","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e     \u003c\/span\u003eایک روحانی تنہائی کی داستان ہے ۔۔۔۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%;\"\u003eThe Gift of Death \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eایک مکاشفہ ، جو ہم سے ہماری نیندیں چھین لیتا ہے ، ہمارے سکون کو سوالوں میں ڈھال دیتا ہے۔ دریدا کی تحریر نہ تو صوفیانہ وجد ہے، نہ فلسفیانہ تصنیف، بلکہ ایک ایسا شعریاتی زخم ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی اکثر چپ کی زبان میں آتی ہے، قربانی اکثر ان دیکھی رہ جاتی ہے، اور محبت اکثر اس وقت معتبر ہوتی ہے جب اس کا اظہار ہی نہ کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیوں دریدا کی موت ہمیں زندگی سکھاتی ہے، اس کی خاموشی ہمیں نطق عطا کرتی ہے، اور اس کی تحریر ہمارے اندر ایک ایسی پیچ جگاتی ہے جو باہر سے نہیں، اندر سے سنائی دیتی ہے۔ یہ کتاب فقط ایک فکری تحفہ نہیں، بلکہ ایک روحانی زلزلہ ہے۔۔۔ جس میں قاری کی انازمین بوس ہو جاتی ہے ، اور اس کے ضمیر سے صدائیں ابھرتی ہیں: کیا تو نے واقعی کسی کے لیے کچھ کیا؟ اور اگر کیا، تو کس قیمت پر ؟\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eرضوان کھوکھر\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%;\"\u003ePages 144\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089592234201,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/armghan.jpg?v=1772698991"},{"product_id":"insan-aik-machine-انسان-ایک-مشین","title":"Insan Aik Machine  انسان ایک مشین Man a Machine Julien Offray de La Mettrie","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eنظریات\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e انسان ایک پیچیدہ مشین ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eلامتری کا سب سے متنازعہ نظریہ یہ تھا کہ انسان اور جانوروں میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ اس کے نزدیک ، ذہن اور شعور مادی عوامل اور جسمانی کیمیاوی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں، نہ کہ کسی غیر مادی روح \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eکا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eروح کا انکار\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eان کے مطابق، چوں کہ جانوروں میں روح نہیں، اسی طرح انسان کی بھی کوئی غیر مادی روحنہیں، بل کہ اس کا ذہن بھی محض دماغ کی حیاتیاتی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003eلذتیت  \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e ور اخلاقیات\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eلامتری کے مطابق، چوں کہ انسانی رویے اور افعال خالص جسمانی عوامل سے پیدا ہوتے ہیں، اس لیے زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\" dir=\"RTL\" lang=\"ER\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eخوشی \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eحاصل کرنا ہونا چاہیے ۔ ان کا ماننا تھا کہ جرم اور گناہ کے تصورات صرف معاشرتی تربیت کا نتیجہ ہیں، اور اصل میں وہ بے معنی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003ePages  168\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089595445465,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/insan.jpg?v=1772698993"},{"product_id":"religion-and-science-مذہب-اور-سائنس","title":"Albert Einstein Religion and Science مذہب اور سائنس","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپیش لفظ\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eآئن سٹائن کا شمار بیسویں صدی کے سب سے بڑے سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔ اُس کے نظریات نے جدید سائنس میں انقلاب برپا کر دیا، اور سائنس دانوں کا دنیا کو دیکھنے کا زاویہ بدل کر رکھ دیا۔ جدید طبیعیات کے میدان میں اُس کے کارہائے نمایاں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eزیر نظر کتاب مذہب اور سائنس کے تعلق کے بارے آئن سٹائن کی متفرق تحریروں کے تراجم پر مشتمل ہے۔ کتاب میں شامل مقالات اور اقتباسات آئن سٹائن کی متفرق تحریروں سے ماخوذ ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکتاب چار مقالات میں مشتمل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e9 نومبر 1930ء )\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003cspan dir=\"RTL\"\u003eمذہب اور سائنس(\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e19( مئی 1939 ء)\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003cspan dir=\"RTL\"\u003eمذہب اور سائنس\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e(جون 1948ء )\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003cspan dir=\"RTL\"\u003eکیا مذہب اور سائنس میں تصادم ممکن ہے؟\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e(آئن سٹائن کی\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eخود نوشت)\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eآئن سٹائن کے مذہبی نظریات\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکتاب کے شروع میں ، جس میں مذہب اور سائنس کی نوعیت، ان کے باہمی تعلق، مختلف سائنس دانوں کے خدا اور مذہب کے بارے میں نظریات پر روشنی ڈالی گئی ہے ، اور ان کا آئن سٹائن کے نظریات سے موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ مذہب اور سائنس کے تعلق کے موضوع پر لکھی گئی بعض اہم کتب کا مختصر تعارف بھی شامل مقدمہ ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eسائنسی میدان میں آئن سٹائن کے افکار سے ایک دنیا آگاہ ہے، تاہم اُس کے مذہبی نظریات کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں، اور اور اُردو زبان میں اس حوالے سے مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔ زیر نظر کتاب اس کمی کو پورا کرنے کی ایک کاوش ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکلیم \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eالہی\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e امجد\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمرید کے\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003ePages 120\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089595478233,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Albert_Einstein_Religion_and_Science.jpg?v=1772698995"},{"product_id":"مکالماتِ-اور-یلیس-makalmaat-e-aurelius","title":"Makalmaat-e-Aurelius Meditations Marcus Aurelius مکالماتِ اوریلیس","description":"\u003cp style=\"text-align: center;\" align=\"center\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eThe Meditations Marcus Aurelius \u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e مکالماتِ اوریلیس\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eجب تک فلسفی بادشاہ نہ ہو اور اس جہان کے حکمران حکمت و فلسفہ کی روحاور قوت سے سرشار نہ ہوں، جب تک سیاسی عظمت اور دانائی ایک ہی پیکر میں یکجانہ ہو جائیں، اس وقت تک نہ شہر اپنی بد حالی سے چھٹکارا پائیں گے اور نہ ہی بنی آدم کے دکھوں کا سلسلہ رُکے گا۔ اور میری رائے میں اسی دن ریاست کو زندگی کا امکان نصیب ہوگا، جب وہ حکمت کی روشنی دیکھے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس ریاست کے حکمران حکومت کرنے میں سب سے زیادہ بے رغبت ہوں، وہی ریاست بہترین اور سب سے پر سکون طریقے سے چلتی ہے؛ اور جس کے حاکم اقتدار کے سب سے زیادہ شائق ہوں، وہی ریاست سب سے بدترین ہوتی ہے۔۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003ePages 190\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089598689497,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/mukalmat.jpg?v=1772698997"},{"product_id":"tim-marshall-three-books-set-ٹم-مارشل","title":"Tim Marshall | Three Books Set | ٹم مارشل","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cu\u003e\u003csub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eThe Future of Geography | Tim Marshall \u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003c\/u\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمستقبل کی جنگیں زمین پر نہیں بلکہ خلا میں ہوں گی۔ یہ کتاب عالمی طاقتوں کے درمیان وسائل اور اجارہ داری کی کشمکش پر روشنی ڈالتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eاس جدید دور میں زمین ، ایک جنگلی اور لاقانونیت کی جگہ، \"خلا\" اب زمین پر مواصلات، اقتصادی، فوجی اور بین الاقوامی تعلقات کی حکمت عملی کا مرکز ہے۔ خلا اب ممکنہ طور پر فتح کا آخری میدان ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eہم اقتدار کی جدوجہد کو اپنے ساتھ لے کر اوپر (خلا ) اور دور جا رہے ہیں۔ چین، امریکہ اور روس اس راہ میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور نئی خلائی دوڑ زمین پر زندگی کو بدل سکتی ہے۔ خلا اب ممکنہ طور پر فتح کا آخری میدان ہے۔ جغرافیائی علاقہ اور وسائل سے لے کر سیٹلائٹ، ہتھیاروں اور ہمارے اوپر کے آسمانوں میں جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں اتنی ہی اہم ہیں جتنی کہ نیچے ( زمین ) ہیں۔ اگر آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیا انسانیت چاند پر واپس آرہی ہے اور اس کی تلاش سے کس کو فائدہ ہوگا یا خلائی جنگیں کیسی نظر آئیں گی، اس کتاب میں اس کا جواب موجود ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eجغرافیائی مستقبل \/ ٹم مارشل\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eترجمہ رفعت طاہرہ\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eThe Power of Geography | Tim Marshall \u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eجغرافیائی قوتیں اور عالمی سیاسی معرکہ آرائی – ایک فکری جائزہ\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eبزبان مترجم: علی احمد چودھری\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eدنیا کی سیاست، معیشت اور جنگوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف طاقت کے مراکز اور پالیسیوں کو ہی نہیں بلکہ جغرافیہ کو بھی بغور دیکھنا ہوگا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے \"جغرافیائی قوتیں اور عالمی سیاسی معرکہ آرائی\" میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ بطور مترجم، جب میں نے اس کتاب کو اردو میں ڈھالا، تو مجھے بارہا یہ احساس ہوا کہ یہ محض جغرافیے پر کوئی خشک تجزیہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فکری نقشہ ہے جو ہمیں دنیا کے ماضی، حال اور مستقبل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح زمین کی ساخت، پہاڑ، دریا، سمندر، اور سرحدی تقسیم قوموں کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں۔ اگر ہم عالمی طاقتوں کے عروج و زوال کی داستان کو دیکھیں، تو ہمیں واضح نظر آتا ہے کہ قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور جغرافیائی چیلنجز ہمیشہ سے ریاستوں کے فیصلوں میں ایک اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ اس کتاب کا ترجمہ کرتے ہوئے، میں نے پایا کہ مصنف نے ہر ملک یا خطے کا تجزیہ محض سیاسی یا تاریخی نہیں، بلکہ ایک جغرافیائی پس منظر میں کیا ہے، جو عام قاری کے لیے ایک بالکل نیا زاویہ فراہم کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eاس کتاب میں دنیا کے دس اہم ترین جغرافیائی خطوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو مستقبل میں عالمی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ ان میں درج ذیل علاقے شامل ہیں\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003csub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e:\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eآسٹریلیا – اپنی جغرافیائی تنہائی کے باوجود، ایک ابھرتی ہوئی طاقت\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eایران – اپنی قدرتی سرحدوں اور تاریخی پس منظر کے ساتھ ایک منفرد سیاسی و عسکری چیلنج\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eسعودی عرب – تیل کی دولت اور جغرافیائی پوزیشن کی اہمیت\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eبرطانیہ – جزیرہ ہونے کے فوائد اور بریگزٹ کے بعد کا عالمی منظرنامہ\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eترکی – یورپ اور ایشیا کے سنگم پر موجود ایک تاریخی اور جغرافیائی قوت\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیونان – قدیم تاریخ کے ساتھ جدید جغرافیائی پیچیدگیاں\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eہسپانیہ (اسپین) – یورپ اور افریقہ کے درمیان موجود ایک فیصلہ کن خطہ\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eفرانس – جغرافیائی تنوع اور سیاسی اثر و رسوخ\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eایتھوپیا – افریقہ کی نئی جغرافیائی و سیاسی حقیقت\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eامریکہ اور خلا – زمین سے آگے کی جغرافیائی وسعتیں\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eایک مترجم کے طور پر، میرے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ میں کتاب کے اسلوب کو برقرار رکھوں اور ساتھ ہی اردو زبان کے فکری و علمی ذخیرے کو بھی استعمال کروں۔ جغرافیائی تجزیے کو کتابی زبان میں ترجمہ کرنا آسان کام نہیں تھا، لیکن میں نے کوشش کی کہ زبان سادہ مگر بامحاورہ ہو، تاکہ قاری کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ کسی ترجمہ شدہ کتاب کو پڑھ رہا ہے، بلکہ ایسا لگے کہ یہ کتاب شروع ہی سے اردو میں لکھی گئی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمصنف نے بعض مقامات پر طنز اور مزاح کا بھی استعمال کیا ہے، جسے میں نے ترجمے میں محفوظ رکھنے کی کوشش کی، تاکہ متن کی روح برقرار رہے۔ اسی طرح، جہاں جہاں گہرے سیاسی یا تاریخی نکات بیان کیے گئے، وہاں میں نے اردو زبان کی کلاسیکی اور جدید اسلوبیاتی روایات کو مدنظر رکھا، تاکہ متن میں وہی شدت اور گہرائی برقرار رہے جو اصل کتاب میں پائی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیہ کتاب محض ایک علمی تحقیق نہیں، بلکہ ایک عملی رہنما ہے جو ہمیں عالمی حالات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ آج کے دور میں، جب دنیا جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی بحرانوں سے گزر رہی ہے، یہ کتاب ہمیں ان عوامل کی جڑوں تک پہنچنے کا موقع دیتی ہے۔ اگر ہم صرف طاقت، سفارتکاری یا معیشت کو دیکھیں، تو شاید مکمل تصویر نظر نہ آئے، لیکن جب ہم ان تمام چیزوں کو جغرافیہ کے عدسے سے دیکھتے ہیں، تو ہمیں وہ پہلو نظر آتے ہیں جو عام طور پر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eآج کے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں، جب طاقت کا توازن مشرق اور مغرب کے درمیان تبدیل ہو رہا ہے، جب نئی ابھرتی ہوئی طاقتیں عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا رہی ہیں، اور جب وسائل کی جنگ اور ماحولیاتی تبدیلیاں بین الاقوامی پالیسیوں کو متاثر کر رہی ہیں، تو \"جغرافیائی قوتیں اور عالمی سیاسی معرکہ آرائی\" جیسی کتابیں پڑھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ کتاب ایک وارننگ بھی ہے اور ایک رہنما بھی کہ اگر ہم جغرافیہ کی طاقت کو نظرانداز کریں گے، تو ہم مستقبل کی سیاست اور عالمی تعلقات کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eبطور مترجم، میں نے اس کتاب کے ہر لفظ کو اس نیت سے اردو میں منتقل کیا ہے کہ یہ ایک علمی خزانے کی حیثیت اختیار کرے۔ میری خواہش ہے کہ یہ کتاب نہ صرف اسکالرز اور طلبہ کے لیے مفید ہو، بلکہ عام قارئین بھی اس سے استفادہ کریں اور دنیا کے جغرافیائی حقائق کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کے قابل ہوں۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ سیاست، معیشت، جنگ، اور طاقت کے تمام کھیل، آخرکار زمین کے ان خد و خال پر ہی کھیلے جاتے ہیں، جنہیں ہم جغرافیہ کہتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\"\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eجغرافیائی قوتیں اور عالمی سیاسی معرکہ آرائی\" محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے جو ہمیں دنیا کو دیکھنے کا ایک منفرد انداز فراہم کرتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اردو قارئین اس کتاب کو اسی فکری وسعت کے ساتھ پڑھیں گے جس کے ساتھ اسے لکھا گیا \u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eاور میں نے اسے ترجمہ کیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eISBN9786273002361\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003csub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003ePages 376\u003c\/span\u003e\u003c\/sub\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکتاب امریکا، روس، چین، یورپ، مشرق وسطی، افریقہ ، ہندوستان و پاکستان، لاطینی امریکا اور آرکٹک ایسے خطوں کے جغرافیائی و سیاسی حالات پر گہری نظر ڈالتی ہے۔ نیم مارشل ، بیان کرتے ہیں کہ روس کی وسیع لیکن سرد اور دشوار گزار زمین نے اسے جارحانہ دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کیا جبکہ چین کو اپنی مغربی سرحدیں محفوظ رکھنے کے لیے سخت اقدامات کرنے پڑے۔ اسی طرح، مشرق وسطی کی جغرافیائی اور قبائلی تقسیم، خطے میں تنازعات کو مزید پیچیدہ بنادیتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eدنیا کی سیاست محض معاشی، عسکری یا سفارتی نقطہ نظر سے دیکھنا کافی نہیں جغرافیہ بھی سمجھنا ضروری ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم اپنی جغرافیائی حقیقتوں سے فرار حاصل نہیں کر سکی۔ یہی وجہ کہ طاقتور ترین ممالک بھی اپنی جغرافیائی حدود اور چیلنجز کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔ یہ کتاب، جغرافیہ کی اسی ناگزیر حقیقت کو واضح اور بنیادی سوالات کے جواب تلاش کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eروس اپنے ہمسایہ ممالک پر اثر و رسوخ کیوں برقرار رکھنا چاہتا ہے اور یوکرین کے ساتھ اس کے تعلقات اتنے پیچیدہ کیوں ہیں؟\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eچین اپنی مغربی سرحدوں پر کنٹرول رکھنے کے لیے سنکیانگ اور تبت پر گرفت مضبوط کیوں رکھنا چاہتا ہے ؟\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eامریکا کی قدرتی وسائل اور جغرافیائی تحفظ کی وجہ سے عالمی طاقت بنے میں کیسے ، مدد ملی؟\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمشرق وسطی میں تیل اور قدرتی وسائل کی تقسیم نے اس خطے میں جنگوں اور تنازعات کو کیسے جنم دیا؟\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eٹم مارشل نے اپنی کتاب میں انیسویں صدی میں افریقہ پر قبضے کی دوڑ اور مشرق وسطی، ہندوستان اور افغانستان میں عظیم طاقتوں کی سیاسی چالوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ان علاقوں میں جغرافیائی حقیقتوں نے عالمی طاقتوں کے مفادات متاثر کئے اور ان کے سیاسی فیصلوں کو شکل دی۔ انیسویں صدی کے آخر میں یورپی طاقتوں نے افریقہ میں اپنے اثرات پھیلانے کے لیے قبضے کی دوڑ شروع کی تھی۔ اس دوران، افریقہ کی جغرافیائی تقسیم اور وسائل نے یورپی طاقتوں کو براعظم میں مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے خلاف رقابت میں ملوث کر دیا تھا۔ یورپ نے افریقہ کی وسیع زمینوں پر قابض ہونے کے لیے سیلفش سیاسی چالیں چلیں تاکہ اپنے معافی اور فوجی فوائد کے لیے خطے کو اپنے قابو میں کر رسکیں، جیسا کہ برطانیہ، فرانس، بیلجئیم اور دیگر طاقتیں ان علاقوں میں داخل ہوئیں۔ مشرق وسطی میں ، روس اور برطانیہ کی سیاسی چالوں کا مقصد اس خطے پر اپنے اثرات بڑھانا اور سٹراٹیجک راستوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ روس کو گرم پانیوں تک رسائی کی شدید خواہش تھی، جب کہ برطانیہ اپنے سامراجی مفادات کے تحفظ کے لیے وہاں موجود تھا۔ روس اور برطانیہ کے درمیان اس سیاسی کشمکش کو ” گریٹ گیم\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e“ (The Great Game) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eکہا جاتا ہے، جو افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے علاقے میں شدت سے کھیلی گئی۔ برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی سلطنت، مستحکم کرنے کے لیے افغانستان کو اپنے مفادات کے لیے اہم سمجھا۔ افغانستان کا جغرافیہ ، برطانوی ہندوستان اور روس کے درمیان بطور ایک بفر زون، برطانیہ کے لیے ایک نہایت اہم سڑا میجک مقام رکھتا تھا۔ برطانوی حکام نے اسے اپنے اثر ورسوخ میں رکھنے کی کوشش کی تاکہ روس کی بڑھتی ہوئی طاقت روک سکیں۔ روس نے بھی افغانستان کی طرف اپنی نظریں گاڑی ہوئی تھیں تا کہ وہ بر طانوی سامراجی طاقت کو چیلنج کر سکے۔ ٹیم مارشل نے اپنی کتاب میں ان سیاسی \u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eچالوں کا جائزہ لیا\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eاور جغرافیہ چھانا کہ کس طرح سرحدوں اور وسائل نے عالمی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں کو متاثر کیا اور ان کی حکمت عمیلوں میں کلیدی عنصر ثابت ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eISBN 9786273002866\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right; line-height: normal;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003ePages 331\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089601933529,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/TimMArshall2.jpg?v=1772699000"},{"product_id":"gurmukhi-calligraphy-aestheticization-of-gurmukhi-script-ghulam-abbas","title":"Gurmukhi Calligraphy Aestheticization Of Gurmukhi Script Ghulam Abbas","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: justify;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e“Gurmukhi Calligraphy: Aestheticization of the Gurmukhi Script”\u003cbr\u003eThe Gurmukhi script, sacred to Sikh heritage and the language of the Sri Guru Granth Sahib, embodies a union of sound, form, and devotion. Originating under the guidance of Guru Nanak and the Sikh Gurus, it evolved from early Indic scripts such as Devanagari, Lahnda, Takri, and Sharada — not merely as a writing system but as a rachna, a divine creation designed to preserve the sacred word.\u003cbr\u003eThrough centuries of transformation, Gurmukhi adapted to new linguistic and cultural contexts, yet retained its spiritual essence. Today, it continues to inspire both traditional calligraphic practice and digital typography.\u003cbr\u003eThis book presents Gurmukhi as a visual and contemplative art form, where each curve, proportion, and circular motion of the qalam (reed pen) transforms script into image and text into meditation. The aestheticization of Gurmukhi thus reclaims its sacred presence — inviting the viewer to experience the written word as a bridge between the human and the Divine.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: justify;\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003eAbout Author\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: justify;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eGhulam Abbas is an Associate Professor at IISAT University, Gujranwala, Pakistan He holds a multifaceted academic background as he did BFA, and then MFA in Textile Design from the University of Peshawar, MA (Hons.) in Visual Art from National College of Arts, Lahore, and during his High School he learned the traditional art of Khattati (calligraphy). His areas of research are in calligraphy, history of Fashion, Muslim devotional arts and the popular visual Islamic culture of South Asia, which he formalized in his PhD (2014) on this subject from Jawaharlal Nehru University (JNU), New Delhi, India. He has been in touch with teaching and research for more than a couple of decades. He has taught different subjects related to fine art, design, art history, research methodology and cultural studies etc. at GIFT University, Gujranwala, and Superior University in Lahore. He has also presented papers at conferences both home and abroad, published papers and articles in newspapers and journals. He is the author of two books entitled \"Tazias of Chiniot\" and \"Milad Festival in Labore and Delhi: Popular Visual Islamic Culture of South Asia which came out in 2007 and 2023 respectively. He has also developed his interest in writing of short stories.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: justify;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eISBN 9789699147180\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089605112025,"sku":null,"price":1775.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/mukhi.jpg?v=1772699001"},{"product_id":"خودنوشت-mother-mary-comes-to-me-آزاد-عورت-آزاد-اڑان-arundhati-roy","title":"خودنوشت | Mother Mary Comes to Me | آزاد عورت ،،، آزاد اڑان | Arundhati Roy","description":"\u003cp style=\"text-align: center;\" align=\"center\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاروندھتی رائے کی خودنوشت\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاروندھتی رائے عالمی ادب میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہیں کہ وہ اپنے تخلیقی دورِ آغاز سے ہی سیاسی اور سماجی موضوعات کو اپنی فکر ونظر کا محورومرکز بنا کر ادبی شہ پارہ کی صورت میں پیش کرتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کا پہلا ناول ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘‘ کو نہ صرف عالمی شہرت کا حامل بُکر پرائز ملا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا یہ ناول عالمی ادب میں ایک ہاٹ کیک بن گیا۔ واضح ہو کہ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: FA;\" dir=\"RTL\" lang=\"FA\"\u003e۱۹۹۷\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eء میں شائع ہوا تھا اس کے بعد ان کا دوسرا ناول ’’دی منسٹری آف آٹ موس ہیپّی نیس‘‘ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: FA;\" dir=\"RTL\" lang=\"FA\"\u003e۲۰۱۷\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eء میں شائع ہوا اور اس کی بھی گونج عالمی ادب میں برسوں تک رہی ۔ اب ان کی یادیادشت پر مبنی جسے خود نوشت کے زمرے میں بھی رکھا جاسکتا ہے ’’مدر میری کمس ٹو می‘ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: FA;\" dir=\"RTL\" lang=\"FA\"\u003e۲۰۲۵\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eء میں منظر عام پر آیا ہے اور اس سوانحی تحریر نے علمی وادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیاہے اگرچہ اس میں انہوں نے اپنی والدہ ’’میری رائے‘‘ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو فکشن کا روپ دیا ہے اور ایک ماں اور بیٹی کے درمیان جو پاک رشتے ہوتے ہیں اس رشتے کی پیچیدگیوں اور فکری ونظری تضادات کو ایک منفرد اندازِ بیان میں تخلیقیت عطا کی ہے لیکن نہ جانے کیوں اس کتاب کے شائع ہوتے ہی نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی ایک خاص نظریاتی طبقے کے شدت پسندوں کی طرف سے متنازع بنایا جا رہاہے اور خاص کر کتاب کے کور پر ان کی سگریٹ نوشی کرتی تصویر پر نازیبا تبصرے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت ہندوستان میں ان تمام ادیب وشاعر اور انصاف پسند انہ اظہارِ خیال کے علمبرداروں کو نشانہ بنایا جا رہاہے اور انہیںغیر مہذبانہ القاب سے نوازا بھی جا رہاہے جو حقیقت بیانی کو اپنی فکر ونظر کا حصہ بنا تا ہے۔ایسے وقت میں اگر اروندھتی رائے پر جارحانہ تبصرہ کیا جا رہاہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔کیوں کہ اس سوانحی تحریر میں مصنفہ نے اپنے سماج کی روایتی قیود کو نہ صرف توڑنے کی کوشش کی ہے بلکہ معاشرے کی دقیانوسیت کے خلاف آوازِ بغاوت بھی بلند کی ہے۔انہوں نے اپنی ماں میری رائےؔ کو ایک خود مختار ، باغی فکر وذہن کی عورت قرار دیاہے اور اروندھتی رائے نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس کی شخصیت کی تشکیل میں اس کی ماں کے افکارونظریات و عملی کردار کا بنیادی رول ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اروندھتی رائے نے اپنے ناول اور دیگر مضامین میں بھی ہمیشہ پسماندہ اور محروم طبقے کے تئیں بیداری ٔ مہم کی علمبردار رہی ہیں اور بالخصوص آزادیٔ نسواں کی مبلّغ رہی ہیں۔اس تازہ ترین کتاب کا طرزِ بیان ، بیانیہ ہے اور آغاز تا انجام یعنی مصنفہ بچپن سے لے کر اب تک کے تلخ وشیریں تجربات ومشاہدات کو ایک تخلیقی شہ پارہ بنانے کی جو علمی کوشش کی ہے اس میں وہ کامیاب ہیں ۔ اس خود نوشت میں وہ صرف اپنی ذات کی نفسیاتی اور جذباتی پرتوں کو نہیں کھولتیں بلکہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ پورے معاشرے کی تصویر سامنے گردش کر رہی ہے۔ ان کی زندگی میں جس طرح کے مسائل اور مشکلات رہے ہیں جنوبی ہند میں عورتوں کی زندگی کس قدر دشوار کن ہوتی ہے اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں اور یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہندوستانی معاشرے میں جہاں صدیوں تک عورت کو قید وبند میں رکھا گیا وہاں ان کی ماں میریؔ رائے کس طرح اپنے لئے نئی راہ بناتی ہیں اور دوسروں کیلئے مثالی بن جاتی ہیں۔ان کی یادداشتوں پر مبنی یہ واقعاتی تحریر ایک نئے انداز کا تخلیقی تجربہ ہے جس میں انہوں نے منظر نگاری، مکالمہ ، بیانیہ اور جذباتی لہروں کو اپنے مخصوص اندازِ بیان میں پیش کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cbr\u003e \u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اروندھتی رائے کی نثر بھی شاعرانہ اور اوصاف سے بھرپور ہوتی ہے ، ایک خاص طرح کا بہائو ہوتا ہے جس میں بہتی ندی کی طرح سرگم کے سُر سنائی دیتے ہیں ۔ یہ خوبی ’’مدر میری کمس ٹو می‘‘ میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e  \u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eچوں کہ یہ خود نوشت ہندوستانی معاشرے کی آئینہ دار ہے اس لئے بعض مقام پر قاری کو یہ بات کھٹکتی ہے کہ مصنفہ نے اپنی ذاتی زندگی کی تفصیلات کو قدرے طوالت بخشی ہے ۔لیکن میرے خیال میں مصنفہ کے ذاتی تصورات ان جیسی لاکھوں خواتین کے محسوسات واحساسات کے آئینہ دار ہیں ۔اردو زبان وادب کے قارئین کے لئے یہ کتاب بہ ایں معنی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ اردو میں اب اس طرح کی احتجاجی و انقلابی فکر ونظر پر مبنی تحریریں اور بالخصوص خواتین کے ذریعہ کم ہی لکھی جا رہی ہے ۔اس کتاب میں نہ صرف انسانی رشتوں اور تعلقات کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے کے اسباق موجود ہیں بلکہ ماں کی شفقت اور بیٹی کی بغاوت دونوں ایک ایسی دنیا آباد کرتی ہے جو ذہن ودل کو جھنجھورتی بھی ہے اور خود احتسابی پر مجبور بھی کرتی ہے۔کتاب کے اوراق یہ شواہد پیش کرتے ہیں کہ مصنفہ نے اپنی ماں میریؔ رائے کو تعلیمی اصلاحات کی علمبردار اور ایک بہادر خاتون کے طورپر پیش کیاہے ساتھ ہی ساتھ ان کے فکری ونظری تضادات کو بھی بے باکانہ طورپر تحریر کیاہے ۔مختصر یہ کہ اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ اگر فنکار کا ذہن تخلیقیت کی آماجگاہ ہے اور فنِ اظہار پر وہ عبور رکھتا ہے تو اپنی ذاتی زندگی کے بیانیے کو بھی اعلیٰ ادب کا نمونہ بنا سکتا ہے اور اس میں انسانی معاشرے کے تمام تر نشیب وفراز کے ساتھ سیاسی اور سماجی بصیرت وبصارت کا اچھوتا نمونہ پیش کر سکتا ہے۔اس لئے اس کتاب میں ماں اور بیٹی کے درمیان محبت اور نفرت کے قوس وقزح صرف ایک خاندانی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک وجودی اور تخلیقی بحران بھی ہے۔ اس کتاب کو نسائی سیاست اور سماجی انصاف کی جدو جہد کا آئینہ قرار دیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089608782041,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/MotherMaryComestoMeF_22b41ff6-bef2-4de5-a0f0-4bfe17be87e0.jpg?v=1772699004"},{"product_id":"decolonization-and-the-decolonized-albert-memmi-نوآبادیاتی-کا-خاتمہ-اور-آزادی-کا-نیا-افق","title":"Decolonization and the Decolonized | Albert Memmi | نوآبادیاتی کا خاتمہ اور آزادی کا نیا افق","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Rockwell Condensed',serif; mso-bidi-font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eDecolonization and the Decolonized | Albert Memmi\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eنوآبادیاتی کا خاتمہ اور آزادی کا نیا افق\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eالبرٹ میمی\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eکتاب کی اشاعت کے ایک ہفتے بعد ، مجھے \u003cu\u003eریڈیو لیبر ٹیئر \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003eمیں ایک انٹرویو کے لیے مدعو کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eتاہم، نشریات کے ایک دن قبل مجھے فون آیا \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e۔آپ کی باتیں ہمارے سامعین کے لیے نامناسب ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eمیں نے اصرار کیا کہ کم از کم مجھے وضاحت کا موقع دیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eجواب تھا \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e: نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cu\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eلیبریشن\u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e نامی اخبار نے انٹرویو کے لیے ایک نوجوان صحافی بھیجا، جس نے پورا دن میرے ساتھ گزارا، لیکن یہ انٹرویو کبھی شائع نہیں ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eمیں نے اخبار کے ایڈیٹر کو ایک خط بھیجا، مگر اس نے جواب دینے کی بھی زحمت نہ کی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eجس اخبار کا نام \" آزادی تھا، اس کے ایڈیٹر میں خود آزادی کی جرات نہیں تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eتو سوال یہ ہے کہ میں نے کیا کہا ؟ میں نے کیا کیا ؟ کیا میں نے اعداد و شمار ، تاریخی واقعات، یا شخصیات کے بارے میں کوئی سنگین غلطی کی ؟ نہیں میں نے \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eہمیشہ کی طرح معتبر ترین ذرائع سے معلومات حاصل کیں، جیسے کہ میں نے اپنی سابقہ کتاب کو \u003cu\u003eلونائزر اینڈ دی کو لونائزڈ \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eدی\u003c\/u\u003e میں کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cu\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e(Radio Libertaire)\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cu\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e(Liberation)\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cu\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eThe Colonizer and the Colonized\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003ePages 208\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eISBN9786273002798 \u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089608814809,"sku":null,"price":675.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/set_1.jpg?v=1772699005"},{"product_id":"essays-francis-bacon-فرانسس-بیکن-کے-مضامین-فرانسس-بیکن","title":"Essays | Francis Bacon | فرانسس بیکن کے مضامین | فرانسس بیکن","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eفرانس بیکن کے مضامین\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eسر فرانسس بیکن ایک ایسا ادبی آفتاب ہے جس کی فکری ضیاء قرون وسطی کی تیرگی میں عقل و دانش کی روشنی بکھیرتی چلی گئی، اور جس کے قلم سے نکلنے والے الفاظ حکمت و دانائی کے گوہر بن کر ادب کی پیشانی پر سجا دیے گئے۔ وہ نثر کا وہ جادو گر تھا جس نے سادہ لفظوں میں فکری کہکشاں بچھا دی، اور جس کے ہر جملے میں ایک تہہ دار کائنات سمٹی ہوئی ہے۔ اس کی تحریر نہ صرف عقل کو صیقل کرتی ہے بلکہ روح کے دریچوں کو بھی وا کرتی ہے۔ وہ اپنے اسلوب میں ایسا سحر رکھتا ہے کہ قاری کو جملوں کے پیچھے چلتے چلتے خود اپنی ذات کے گنجلک جنگلوں میں جھانکنا پڑتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eفرانس بیکن کی مضمون نگاری الفاظ کا وہ گلشن ہے جہاں ہر خیال ایک گل تر کی مانند مہک رہا ہے ، ہر نکتہ ایک نقر \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eئی نغمے کی طرح گونجتا ہے، اور ہر استدلال ایک آئینہ فہم ہے جو ذہن کی گرد کو صاف کرتا ہے۔ اس کی نثر میں نہ کوئی اضافی بوجھ ہے نہ کسی لفظ کی کاہلی، بلکہ ہر لفظ تراشا ہوا، ہر جملہ تولا ہوا، اور ہر خیال تر از دئے خرد میں پر کھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ بیکن کے مضامین وہ \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eنقر \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eئی \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eدھارے ہیں جو انسانی فطرت کی پیچیدہ وادیوں سے گزر کر ایک وسیع و عمیق سمندر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جہاں افکار کی موجیں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتی ہیں، اور خیالات کی لہریں فہم و بصیرت کے ساحل سے ٹکراتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eاس کے مضامین زندگی کے اُن پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں جو ازل سے ابد تک ہر انسان کے تجربے کا حصہ رہے ہیں۔ موت ہو یا محبت، اقتدار ہو یا انکساری، دولت ہو یا\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eزیانت، سچائی ہو یا مصلحت بیکن ہر موضوع کو ایسے ہاتھ لگاتا ہے جیسے کوئی ماہر سنگ تراش سنگ خام سے مجسمہ حسن تخلیق کر رہا ہو ۔ وہ نہ صرف سوالات اٹھاتا ہے بلکہ ان کے اندر جھانک کر ان کی روح سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اس کے خیالات خرف میں لیٹے گوہر ہیں، جو قاری کو تدبر ، تعقل اور تفکر کی سیڑھیاں چڑھنے پر آمادہ کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eبیکن کا فلسفہ محض بلند خیالی کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک عملی بصیرت کا علمبردار ہے۔ وہ تخیل کی خیالی پروازوں کو عقل کی رسی سے باندھتا ہے ، اور نظریات کو تجربات کے صحن میں اتارتا ہے۔ اس کا قول \"علم طاقت ہے \" محض نعرہ نہیں بلکہ پوری ایک فکری تحریک کا لب لباب ہے۔ اس کے نزدیک علم محض فکری تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی فلاح، تمدنی ترقی اور معاشرتی تعمیر کا اصل وسیلہ ہے۔ وہ عقل کو انسان کار ہبر مانتا ہے ، اور جس کو اور اک کا پہلا زینہ قرار دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eبیکن کے فلسفیانہ تصورات نے نہ صرف ادب بلکہ سائنس کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کیا۔ وہ مشاہدے، تجربے اور استنتاج کو علم کی بنیاد تصور کرتا ہے۔ اس کی فکری عمارت افلاطون کی تجریدی فضاؤں میں نہیں بلکہ ارسطو کے منطقی خیمے کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔ وہ تصوف کی دھند کو چھانٹ کر ایک ایسی فکری شفافیت پیش کرتا ہے جو ہر ذی شعور کو سچائی کی جانب کھینچ لاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eتاہم اس کی یہی فکری حقیقت پسندی بعض ناقدین کی نظر میں سرد مصلحت اندیشی بن جاتی ہے۔ وہ اخلاقیات کو مفاد کے ترازو میں تولتا ہے، اور سچائی کو کبھی کبھی نفع و نقصان کے کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ بیکن کا اخلاقی تصور بعض اوقات وہ دشت ہے جہاں صداقت کا پانی کم اور مصلحت کی ریت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس کے مضامین میں وہ سنجیدہ تجزیہ ملتا ہے جو دل کی گہرائیوں کو جھنجھوڑنے کے بجائے ذہن کی پرتیں کھولتا ہے، اور اسی سبب بعض نقاد اسے ایک خشک دانشور اور غیر جذباتی فکری معمار قرار دیتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089611993305,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/farnazsisbecon_cfe9d3bc-1b82-4a69-91bb-60fe9b709cc7.jpg?v=1772699006"}],"url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/collections\/top-selling.oembed?page=16","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}