{"title":"Sibt Hassan","description":"","products":[{"product_id":"ادب-اور-روشن-خیالی-adab-aur-roshan-khayali-sibt-hassan","title":"ادب اور روشن خیالی | Adab Aur Roshan Khayali | Sibt Hassan","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eادب اور روشن خیالی۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسبط حسن۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترتیب: ڈاکٹر جعفر سید۔\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48094073815257,"sku":null,"price":995.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/abdroshnkhyal.jpg?v=1772704224"},{"product_id":"نوید-فکر-naveed-e-fikr-sibt-hassan","title":"نوید فکر | Naveed E Fikr | Sibt Hassan","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eکتاب: نوید فکر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنف : سید سبط حسن\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسبط حسن صاحب شمار پاکستان کے مشہور اور بہترین دانشوروں میں کیا جاتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eکتاب نوید فکر میں سبط حسن صاحب نے تھیوکریسی، اسلامی ریاست اور سیکولزم پر روشی ڈالی ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e1: \u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003ca tabindex=\"-1\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eتھیوکریسی کیا ہے اسکا بنیادی نظریہ کہا سے آیا؟\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e2: کیا اسلامی ریاست نظریہ قرآن میں موجود؟\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e3: کیا سیکولزم کا مزہب کے ساتھ ٹکراؤ ہے؟\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e4: کیا سیکولزم مزہب مخالف نظریہ ہے؟\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاس سوالوں پر علمی بحث کی گئی ہے اس کتاب میں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eتھیوکریسی جسے نظام خداوندی کہا جاتا ہے، اس کا تصور مختلف مزاہب میں الہی نظام اور قانون کا رائج اور انکا تقابلی جائزہ کیا گیا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eجنت، جہنم، شیطان اور پرومی تھیوس کے وجودی نظر یہ پر بھی بحث کی گئ ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاسلامی ریاست کا تاریخی پس منظر، اس کا وجود کیسے اور کن حالات میں ہوا پیغمبر اسلام حضور اکرم کی داستان حیات اور اسلامی ریاست کی تشکیلی مراحل اور حضور اکرم کے بعد کا اسلامی خلافت کے اصول اور بنیادی اصولوں کو قرآن و احادیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے. قیام پاکستان کے ابتدائی دنو میں نظریہ پاکستان اور اسلامی ریاست کا ڈانچہ آزادی سے پہلے اور بعد کو آزادی کے رہنماؤں کی نظریہ کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسیکولرزم کیا ہے؟ اس نظریہ کے بنیاد اور عروج کی داستان. سیکولرزم کے حوالے سے ایک عام تاثر یہ ہے کہ اسکا جکھاو لادینیت کی طرف ہے اس سوال کا علمی جواب دیا گیا ہے اور سیکولر اور مزہبی معاشرے کا comparison کیا گیا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48094076469465,"sku":null,"price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/naveedfkr.jpg?v=1772704224"},{"product_id":"موسٰی-سے-مارکس-تک-musa-sy-marx-tak-sibt-hassan","title":"موسٰی سے مارکس تک | Musa Sy Marx Tak | Sibt Hassan","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eموسٰی سے مارکس تک ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنف ۔ سید سبط حسن\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاشتراکیت کے بارے میں ہمارے ملک کے ایک بڑے حلقے کی معلومات یا تو بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں یا پھر بہت ناقص ہیں۔ اس پر مستزاد اشتراکیت کے مخالفین کا مخالفانہ پروپیگنڈہ ہے جو بہت سی غلط فہمیوں کا موجب بنا ہے۔ البتہ وہ لوگ جن کی اشتراکی ادب تک دسترس ہے اور جنہوں نے کھلے ذہنوں کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا ہے وہ اس کے بارے میں آزادانہ طور پر اپنی حقیقت پسندانہ رائے قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے ہیں۔ مگر کیونکہ یہ ادب بیشتر انگریزی یا دوسری غیر \u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003ca tabindex=\"-1\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eملکی زبانوں میں ہے لہٰذا وہ افراد جو ان زبانوں سے واقف نہیں ہیں یا اُن میں اُن کی اہلیت واجبی سی ہے، وہ خواہش کے باوجود اس کے بالاستیعاب استفادے سے محروم ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی ضروریات کے پیش نظر سبطِ حسن صاحب نے یہ کتاب تصنیف کی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eیہ سوشلزم کی تاریخ کے موضوع پر پاکستان میں چھپنے والی پہلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں سوشلزم کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے خیالی اور تصوراتی دور سے آغاز کیا گیا ہے اور مارکس تک اس کا احاطہ کیا گیا ہے جس نے سوشلزم کو ایک سائنسی نظریے کی شکل میں ڈھالنے کا کام کیا۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاس کتاب نے زبردست شہرت حاصل کی۔ یہ خالص نظریاتی کتاب ہے جس میں انہوں نے سائنٹیفک سوشلزم کی تشریح اور توضیح کی۔ نوجوانوں پر اس کتاب نے طہرے اثرات مرتب کیے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e'موسیٰ سے مارکس تک' برصغیر میں بائیں بازو کے لٹریچر میں بہت اہم اضافہ ہے۔ سید سبطِ حسن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تاریخ نگاری میں روایتی عہد بندی (periodization) کے قائل نہیں ہیں۔ وہ انسانی سماج کے ارتقا کو سائنسی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اُن کا طرزِ فکر جدلیاتی ہے اور اسی اصول کوانہوں نے تاریخ نویسی کے دوران بھی برتا ہے۔ یہ کتاب بلا مبالغہ برصغیر میں لکھی جانے والی بائیں بازو کے اکابر کی کتابوں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ سید سبطِ حسن کا اسلوب انتہائی سادہ اور تجزیاتی ہے اور یہ بھی اس کتاب کی پذیرائی کا ایک اہم سبب ہے۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد کی قابلِ قدر تدوین نے اس کتاب کو قارئین کے لیے مزید مفید بنا دیا ہے\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48094087315673,"sku":null,"price":1550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/misasymarks.jpg?v=1772704225"},{"product_id":"ماضی-کے-مزار-mazi-k-mizar-sibt-hassan","title":"ماضی کے مزار | Mazi K Mizar | Sibt Hassan","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eماضی کے مزار\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنف | سبط حسن\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات | 442\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتہذیب ایک جداگانہ وقوعہ نہیں، نہ ہی تہذیبی اداروں اور ثقافتی اقدار کی تشکیل ازخود ہو جاتی ہے بلکہ ژرف نگاہی سے جائزہ لینے پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ تہذیب ایک ایسے سلسلہ در سلسلہ کا نام ہے جس کی پہلی کڑی ماضی بعید کے دھندلکوں میں پوشیدہ ہے تو آخری کڑی مستقبل بعید کی تاریکی میں، یوں تہذیبی ادارے اور تمدنی اقدار ان لہروں سے ایسی صورت اختیار کر لیتے ہیں جو محض سطح کے تموج کو ظاہر کرتی ہیں لیکن سمندر صرف لہروں کا نام نہیں بلکہ اس کی تہہ تک پانی ہی \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eپانی ہوتا ہے لیکن سطح پر مچلتی موجیں اور تہہ کا پانی ایک ہی ہیں۔ پس یہی حال قدیم تاریخ کا ہے۔ وہ تاریخ جو کم علمی کی بنا پر نگاہوں سے پوشیدہ دھندلکوں میں ملفوف عجیب و غریب وقوعات کا مجموعہ نظر آتی ہے لیکن درحقیقت ہمارا اس قدیم تاریخ سے وہی تعلق ہے جو سمندر کی تہہ کے پانی اور سطح پر کھیلتی لہروں کا۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eماضی کے مزار اس موضوع پر بلاشبہ ایک مبسوط اور جامع کتاب ہے۔ اس میں وادیِ دجلہ و فرات کے اس مرحوم تہذیب و تمدن کی داستان بیان کی گئی ہےجو صفحہِ ہستی سے تو مٹ گئی ہے لیک اس کے اثرات اب بھی ہمارے بعض عقائد اور توہمات کی صورت میں نظر آ سکتے ہیں۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ کتاب صرف اس شخص کے لیے ہے جو علم کی روشنی کو تعصبات کے اندھیرے سے نہیں روکنا چاہتا کیونکہ کئی مذہبی عقائد قدیم ادبیات کا سرمایہ نظر آتے ہیں۔ یہ تاریخ کے اس عہد کے بارے میں ہے جسے ہم مسلمان کفار کا زمانہ قرار دیتے ہیں اس لیے اس سے استفادہ یا کم از کم لطفاندوزی کے لیے ایسے قاری کی ضرورت ہے کہ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eقلب اُو مومن و دماغش کافر است\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e(پروفیسر سلیم اختر)\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48094089707737,"sku":null,"price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/mazikmiza.jpg?v=1772704227"}],"url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/collections\/sibt-hassan.oembed","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}