{"title":"New Arrival","description":"","products":[{"product_id":"پتوں-کا-طوفان-از-گبرئیل-گارشیا-مارکیز","title":"پتوں کا طوفان از گبرئیل گارشیا مارکیز","description":"\u003cp\u003eپتوں کا طوفان از گبرئیل گارشیا مارکیز\u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089499238617,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_5a4d83fb-9423-4a6d-9131-732308c88db6.jpg?v=1772698906"},{"product_id":"تصویر-یار-از-آسکر-وائلڈ-the-picture-of-dorian-gray-by-oscar-wild","title":"تصویر یار از آسکر وائلڈ | The picture of dorian gray by Oscar wild","description":"\u003cp\u003eThe Picture of Dorian Gray جب اوائلِ جوانی میں پہلی بار نظر سے گزری تو اپنے مرکزی کردار اور اُس کی پورٹریٹ کے تناظر میں کچھ دُھندلی سی محسوس ہوئی۔ اب عارف وقار نے اس تصویر کو واضح تو کر دیا ہے لیکن اس کی سفّاکانہ دھندلاہٹ کو بھی برقرار رکھا ہے۔ عارف وقار نے اِس ترجمے میں کلاسیکی ادب کے مطالعے کا حق ادا کرتے ہوے دو باتوں پر توجہ مرکوز رکھی ہے: انفرادی لفظوں کی بُنت اور جملے کی مجموعی ساخت۔\u003cbr\u003eاگر آسکر وائلڈ زندہ ہوتے اور اُن کے پاس وہ سب ڈکشنریاں ہوتیں جو عارف وقار کے پاس ہیں تو وہ اس ترجمے کو دیکھ کر بے اختیار کہہ اٹھتے کہ ہاں یہی ہے میری تصویرِ یار!\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمحمد حنیف\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقیمت: 800\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eآڈر کرنے کے لیے اپنا نام پتہ اور فون نمبر انباکس کریں یا 03019597933 پر وٹس ایپ میسج کریں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089499271385,"sku":null,"price":675.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_09c0fa71-3adf-42a6-8a29-68401334047a.jpg?v=1772698908"},{"product_id":"pradise-by-abdul-razak-gurnah-جنت-از-عبدالرزاق-گرناہ","title":"Pradise by abdul razak Gurnah | جنت از عبدالرزاق گرناہ","description":"\u003cp\u003e\u003cem\u003eParadise – جنت\u003c\/em\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eاز عبدالرزاق گرناہ ایک مؤثر ناول ہے جو استعمار، غربت اور انسانی خواہشات کے گرد گھومتی کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ ناول ایک نوجوان لڑکے کی زندگی کے سفر، اس کی جدوجہد اور معاشرتی ناانصافیوں کے اثرات کو پیش کرتا ہے۔ کتاب میں یادداشت، اخلاقیات اور انسانی فطرت کی پیچیدگیوں کو خوبصورت اور جذباتی انداز میں اجاگر کیا گیا ہے، جو قاری کو سوچنے اور محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمصنف: عبدالرزاق گرناہ\u003cbr\u003eمترجم: افشاں نور\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eصفحات: 256\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089513296089,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_ef36c2bb-15ea-484b-b396-18f54912600b.jpg?v=1772698921"},{"product_id":"tehzeeb-ki-qirat-by-ahmad-javaid-تہذیب-کی-قرات-از-احمد-جاوید","title":"Tehzeeb ki Qirat by Ahmad Javaid | تہذیب کی قرات از احمد جاوید","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاحمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ، تحریری کم اورجدید صوتی و بصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد کی کمی نہ صرف روایتی قاری کا مطالبہ رہی بلکہ اہل علم کا تقاضہ بھی۔ زیر نظر کتاب کی تدوین و ترتیب کے بعد جاوید صاحب کی نظر ثانی اور مشوروں سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طورپہ وقت کی ضرورت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیقیناََ “تہذیب کی قرات”کے ذریعہ احمد جاوید صاحب کے افکار و تجزیات کا، ناظرین و سامعین سے نکل کر قارئین تک پہنچنے کا عمل طلبہ، اساتذہ اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے خوش کن ہوگا\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089513328857,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_e0a4ea9c-c59d-4f5e-ba69-24b2081318a1.jpg?v=1772698922"},{"product_id":"ratti-by-zafar-syed-رتی-از-زیف-سید","title":"Ratti by Zafar syed | رتی از زیف سید","description":"\u003cp\u003e’رتی‘ پر حامد میر کا تبصرہ جو آج کے جنگ میں چھپا ہے۔ میر صاحب کے شکریے کے ساتھ جنہوں نے ناول صرف دو دن میں نہ صرف پڑھ بھی لیا بلکہ اس پر تبصرہ بھی لکھ دیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eناول خریدنے کے لیے پہلے کمنٹ میں دیے گئے لنک پر کلک کریں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eرتی\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ ایک بہت حسین اور امیر لڑکی کی داستان محبت ہے جس نے 18 سال کی عمر میں اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کر لی تھی۔ اس لڑکی کے خاوند کو تو ساری دنیا جانتی ہے لیکن اس لڑکی کو بہت کم لوگ جانتے ہیں کیونکہ وہ صرف 29 سال کی عمر میں اپنی سالگرہ کے دن اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس لڑکی کا نام رتن بائی اور اس کے خاوند کا نام محمد علی جناح تھا جو پاکستان میں قائد اعظم اور بابائے قوم کہلاتے ہیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eرتن بائی قیام پاکستان سے 18 سال قبل 20 فروری 1929 ء کو انتقال کر گئی تھیں اگر وہ زندہ رہتیں تو شائد مادر ملت کا لقب محترمہ فاطمہ جناح کی بجائے انہیں ملتا ۔ انکی وفات کے وقت قائد اعظم کی عمر 52 سال تھی لیکن انہوں نے دوسری شادی نہیں کی ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقائد اعظم اور رتن بائی کی محبت کی اس کہانی پر زیف سید نے \"رتی\" کے نام سے ایک ناول لکھا ہے ۔ رتن بائی کو پیار سے رتی کہا جاتا تھا اس لئے ناول کا نام بھی رتی ہے ۔ اس ناول کے اکثر کردار حقیقی ہیں۔ لیکن کچھ کردار فرضی بھی ، تاہم کوشش کی گئی ہے کہ فرضی کرداروں کو تاریخی سچائیوں کے قریب رکھا جائے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ ناول صرف رتی نہیں بلکہ قائد اعظم کی شخصیت کے بھی کچھ ایسے پہلو اُجاگر کرتا ہے جو صرف عام لوگوں سے نہیں بلکہ کئی تاریخ دانوں سے ابھی تک مخفی ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eناول میں رتی کی کچھ نظمیں شامل ہیں کیونکہ وہ شاعرہ بھی تھیں اور کبھی کبھی اخبارات میں بھی لکھتی تھیں ۔ ناول کا آغاز 15 اگست 1947 ء کی شام سے ہوتا ہے جب قائد اعظم نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اُٹھایا۔حلف اُٹھانے کے بعد قائد اعظم نے سر غلام حسین ہدائت اللہ کو بلایا اور اُن کے کان میں کچھ کہا۔ سر غلام حسین ہدائت اللہ فوری طور پر وہاں موجود موسیقار کین میک کےپاس جاتے ہیں جو اپنے طائفے کے ساتھ دو گھنٹے پہلے ٹاٹا ایئر لائنز کی خصوصی پرواز کے ذریعے بمبئی سے کراچی پہنچا تھا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکین میک تک قائد اعظم کی فرمائش پہنچ جاتی ہے اور پھر کلاسیکل موسیقارفریدرک شوپاں کی ایک مشہور طرز پرمبنی گیت so deep in the night کی دُھن بجائی جاتی ہے۔یہ وہ گیت تھا جو رتی کو بہت پسند تھا اور وہ بمبئی کے تاج محل ہوٹل کے آرکسٹرا سے اکثر اس گیت کی موسیقی سنا کرتی تھیں ۔ 15 اگست 1947 ء کو اُسی آرکسٹرا کو کراچی بلایا گیا تھا۔ قائد اعظم نے قیام پاکستان کی خوشی میں رتی کی یاد کو بھی شامل کر لیا تھا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eزیف سید نے اس موقع پر قائد اعظم کی طرف سے گورنرجنرل کے طور پر پڑھے جانے والے حلف کی جو عبارت اپنے ناول کا حصہ بنائی ہے وہ متنازع ہے ۔ قائد اعظم نے تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اُٹھانے کی بجائے حلف کی عبارت کو تبدیل کر دیا تھا ۔ تحریک پاکستان کے کئی محققین کا دعویٰ ہے کہ قائد اعظم نے دراصل اس نافذ العمل آئین پاکستان سے وفاداری کا حلف اُٹھایا تھاجو بنایا جانا تھا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eبہر حال حلف کی اس تقریب کے بعد زیف سید ہمیں رتی اور جناح کی داستان محبت کی طرف لے جاتے ہیں جس میں کئی ڈرامائی اُتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ رتی کا تعلق ایک پارسی خاندان سے تھا۔محبت میں پہل اُنکی طرف سے ہوئی تھی اسی لئے عمر کے فرق کے باوجود قائداعظم ان سے شادی پر راضی ہوئے۔1916 ء میں جب پہلی دفعہ قائد اعظم نے اُن کے والد ڈنشا پٹیٹ سے رتی کا ہاتھ مانگا تو رتی کے والد نے قائد اعظم کو اپنے گھر سے نکال دیا تھا ۔ 1917 میں ڈنشا پٹیٹ نے عدالت سے ایک حکم امتناعی حاصل کیا اور قائد اعظم کو رتی کے اٹھارہ سال کے ہونے تک ملنے سے روک دیا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e20 فروری 1918 کو رتی اٹھارہ کی ہو گئیں تو اُنہوں نے تاج محل ہوٹل بمبئی میں اپنی سالگرہ کا اہتمام کیا۔اس موقع پر رتی نے فریدرک شوپاں کی موسیقی پر قائد اعظم کے ساتھ رقص کیا - 18 اپریل 1918 ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد میں اسلام قبول کیا۔ اُن کا اسلامی نام مریم رکھا گیا ۔ 19 اپریل 1918 ء کو شادی ہوئی اور نکاح کے بعد قائد اعظم نے اپنا بمبئی والا گھر دلہن کو تحفے میں دیدیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e20 اپریل 1918 ء کو ڈنشا پٹیٹ نے اپنے انگریز وکیل سٹرنگ مین کے مشورے پر قائد اعظم کے خلاف بیٹی کے اغواء کا مقدمہ دائر کر دیا ۔ جیسے ہی عدالت میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو رتی کھڑی ہو گئیں اور انہوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا\" مائی لارڈ ! مسٹر جناح نے مجھے اغواء نہیں کیا، در حقیقت میں نے انہیں اغواء کیا ہے ۔ \" رتی کے اس اعلان کے ساتھ ہی یہ مقدمہ ختم ہو گیا لیکن پارسی اخبارات اور کچھ مسلمان علماء نے قائد اعظم کے خلاف نفرت کا طوفان برپا کرنے کی کوشش کی ۔ کچھ مسلمان اخبارات نے قائد اعظم کا دفاع کیا لیکن جن مسلمان اخبارات نے قائد اعظم پر جھوٹے الزامات لگائے اُن کا ذکر زیف سید نے اپنے ناول میں نہیں کیا ۔ شائد ناول کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں لیکن قائد اعظم کی اس شادی کو متنازعہ بنانے کیلئے جن مسلمانوں نے کم ظرفی دکھائی اُن کی تفصیل خواجہ رضی حیدر کی انگریزی کتاب \" رتی جناح \" میں موجود ہے -\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایک بھارتی مصنفہ شیلا ریڈی نے بھی 2017 میں \" مسٹر اینڈ مسز جناح \" کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں محترمہ فاطمہ جناح کو رتی اور قائد اعظم میں اختلاف کی وجہ ثابت کرنے کی کو شش کی ۔ زیف سید کے ناول میں موجود تاریخی واقعات شیلا ریڈی کو غلط ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eخاوند اور بیوی میں اختلاف کوئی انہونی چیز نہیں ہے ۔ اختلاف کے باوجود رتی کو قائد اعظم سے بہت محبت تھی اور وہ انہیں پیار سے جے کہتی تھیں ۔ قائد اعظم اپنی سیاسی مصروفیات کی وجہ سے انہیں زیادہ وقت نہ دے پاتے جس پر وہ شکوہ کیا کرتیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایک دفعہ رتی اپنے خاوند کے ساتھ دلی آئیں اور ساتھ میں ایک پالتو بلی کو بھی لے گئیں جس کا نام کاجل تھااورجس سے رتی کو بہت محبت تھی ۔ یہاںرتی کی بلی گم ہو گئی، اسےبہت ڈھونڈا گیا لیکن وہ نہ ملی، اس دوران قائد اعظم کی بمبئی واپسی کا وقت ہو گیا۔ اگلے دن اُنہیں ہائی کورٹ میں پیش ہونا تھا ۔ رتی اپنی بلی کے بغیر واپس جانے سے انکاری تھیں۔ لہٰذا قائداعظم اپنی مجبوری کی وجہ سے رتی کو دلی چھوڑ کر بمبئی واپس چلے گئے۔پھر رتی پیرس چلی گئیں اوروہاں بیمار پڑ گئیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقائد اعظم انکی تیمار داری کیلئے پیرس پہنچے ۔ ایک مہینہ اُن کے پاس رہے ۔ پیرس سے واپسی پر بحری جہاز سے 5 اکتوبر 1928 ء کو رتی نے انہیں ایک خط لکھا\"جو کچھ آپ نے میرے لئے کیا اس سب کا بہت شکریہ ۔ اگر کبھی میرے رویے میں آپکی حساس طبیعت نے کوئی چڑچڑا پن یا بے رخی محسوس کی ہو تو یقین جانئے کہ میرے دل میں آپ کے لئے صرف اور صرف انتہا درجے کی نرمی اور محبت تھی\"۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e25 دسمبر 1928 ء کو قائد اعظم کی سالگرہ کے دن رتی نے تاج محل ہوٹل بمبئی میں ظہرانے کا اہتمام کیا ۔ 17 فروری 1929کو رتی دوباره بیمار پڑگئیں اور 20 فروری 1929 کو اپنی 29 ویں سالگرہ کے دن دنیا سے رخصت ہو گئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجب رتی کو بمبئی کے علاقے مز گاؤں (آرام باغ )کے ایک مسلم قبرستان میں دفن کیا گیا تو اپنی محبت کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے قائد اعظم پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس ناول کے آخر میں 29 اگست 2012 ء کوممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جس تاج محل ہوٹل میں رتی کی محبت پروان چڑھی اُس پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا اور جس مزگاؤں میں رتی دفن ہیں وہاں بھی بم دھماکہ کیا گیا ۔\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089516638425,"sku":null,"price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_4fce01e2-24e6-49f0-9eb5-70dae8e4b83e.jpg?v=1772698923"},{"product_id":"پاکستان-جمہوریت-اور-فوجی-مداخلتیں-از-ریاض-احمد-شیخ","title":"پاکستان جمہوریت اور فوجی مداخلتیں از ریاض احمد شیخ","description":"\u003cp\u003eپاکستان جمہوریت اور فوجی مداخلتیں از ریاض احمد شیخ\u003c\/p\u003e","brand":"sanjh","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089516835033,"sku":null,"price":975.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_b8a2461f-7b1b-4347-b995-fb4f2823341c.jpg?v=1772698923"},{"product_id":"qabil-e-aitraaz-by-hashir-irshad-حاشر-ارشاد-قابل-اعتراض","title":"QABIL-E-AITRAAZ  by HASHIR IRSHAD\/  حاشر ارشاد قابل اعتراض","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمجال ہے جو حاشر ارشاد کو پڑھتے ہوئے مسکراہٹ کا کوئی امکان کہیں پیدا ہو۔ طنز کا نشتر البتہ اکثر آزماتے ہیں۔ اہلِ دل اس مقام سے گزرتے ہیں تو ایسا منہ بنائے ہوئے گویا کسی نے کلہ چِیر کے لیموں نچوڑ دیا ہے۔ حاشر ارشاد اپنی افتاد میں بنے بنائے مائیکل اینجلو ہیں۔ ایک بڑا ہتھوڑا حقائق اور شواہد کا تھام رکھا ہے۔ اور اس کی پے در پے ضربوں سے دلیل کے تیشے کو اس طرح سنگین چٹانوں کے دل میں اتارتے چلے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ حاشر ارشاد نے ہم عصر اُردو نثر میں جلال کا رنگ پیدا کیا ہے۔ پڑھنے والے کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔ سانس روک کے پڑھنا پڑتا ہے۔ نامعلوم کس قاموس المعارف سے استفادہ کیا ہے کہ حاشر ارشاد کا قلم ’’زکنارِ ما، بکنارِ ما‘‘ طوفان اٹھاتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اب آپ میں ہمت ہے تو سامنے آئیے۔ اور واللّٰہ کس میں ایسا حوصلہ کہ سر پر توا باندھ کے حاشر ارشاد کے سامنے پڑے۔ فالحمدللّٰہ۔ (وجاہت مسعود)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمہ گیر بحران کے اس گنجلک پس منظر میں بھی مگر آپ کو روشنی اور حرارت کے حوالے مل جائیں گے، جیسے حاشر ارشاد کا یہ بیانیہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بیانیہ آپ کو تناؤ کے دورانیے سے نکال کر ان منطقوں کی طرف لے جائے گا جہاں نہ لوہے کے پھاٹک ہیں، نہ اونچی فصیلیں، نہ بارود کی عذر خواہی۔ یہ وہ زمرے ہیں جہاں خاموشیاں سانجھ اور جڑت کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہیں اور پُراسرار راتوں نے بے چین سینوں کے لیے روشن صبحوں کے سندیسے لکھ رکھے ہیں۔ (فرخ یار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کا نام ایک خاص تاریخی اور لسانی تہذیب میں گندھا ہوا ہے، سو وہ اپنے نام کی نسبت سے اپنی تحریر کے ذریعے پہلے لوگوں کو متوجہ اور اکٹھا کرتے ہیں اور پھر ان کی فکری تربیت کرتے ہیں، انھیں علمی سوال اٹھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ ہم اپنے بیشتر وراثت میں ملے ہوئے یا روایتی نظریات پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر جدید حقائق اور تازہ فکر ان سے متضاد ہوں تو ہم جدید حقائق اور تازہ فکر کو مسترد کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے، دوسری جانب ہمارے جدید عقلیت پسند ساتھی روایتی نظریات کے سیاق وسباق کو سمجھے بغیر انھیں رد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ اپنے پورے تہذیبی ورثے کو سمجھ کر اور اس میں موجود خامیوں کی منطقی نشان دہی کرکے خرد افروزی اور روشن خیالی کے نئے باب وا کرنا حاشر کو ممتاز کرتا ہے۔ زیرِنظر مضامین میں شامل کسی بھی رائے سے قاری کے اختلاف کرنے کا حق محفوظ ہے، مگر یہ تحریریں بلا شبہ انسان دوستی اور علم پروری کو سماج میں غالب لانے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ (حارث خلیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجن معاشروں میں رائج افکار، بااثر شخصیات، معاشرتی رشتوں اور انسانی جذبات کو باریک بینی، غیر جانبداری اور مثبت تنقیدی زاویوں سے دیکھنے والے ناپید ہوتے جائیں وہاں رفتہ رفتہ عامیانہ باتیں عقیدہ بن جاتی ہیں۔ اوسط سے بھی کم درجے کے لوگ دیوتا، معاشرتی رشتے زنجیراور انسانی جذبات بوجھ۔ حاشر ارشاد صاحب کی طبیعت میں سنجیدہ اور ذہین سوال پوچھے بغیر کسی بھی بات پر اعتقاد لے آنے کا میلان سِرے سے ہی موجود نہیں۔ وہ وسیع المطالعہ بھی ہیں، حسّاس بھی اور منطقی اور مدلل گفتگو کے فن سے پوری طرح واقف بھی۔ اُن کی تحریر میں جاذبیت بھی ہے اور روانی بھی۔ اُن کے مضامین کا مجموعہ نثری دلکشی اور موضوعات کے تنوّع اور دلچسپی کے باعث ایک عمدہ کاوش تو ہے ہی، لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مجموعہ بےباکی اور خلوص سے روشن خیالی اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی تحریک دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے عاقل اور متجسّس سوچنے والوں اور ان کی کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ (اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحقیق کے پیامبروں کا ماننا ہے کہ بے ترتیبی کے کچھ بندوبست ایسے بھی ممکن ہیں کہ برساتی جنگلوں میں اپنے کومل پَر پھڑپھڑاتی تتلی، ہزاروں میل دور مہا ساگر میں طوفان کا موجب ٹھہرے۔ دس برس پہلے حاشر بھائی کی پہلی تحریر پڑھی تو خیال آیا کہ ایسے کون لکھتا ہے۔ مکان کی سرائے سے زمان کے ساربان مسلسل قافلے بڑھاتے رہے تو پتا چلا کہ مدھم لفظوں کی مستقل پھوار، بے ترتیبی کے نظام میں تتلی سے تلاطم کا رشتہ جوڑ رہی ہے۔کسی نے پوچھا کہ حاشر بھائی کیوں لکھتے ہیں؟ کیا وہ اس بات کا درک نہیں رکھتے کہ ہم، سوال سے منکر اور استفسار سے برگشتہ لوگ ہیں۔ کیا وہ لاعلم ہیں کہ حفاظت کی سنگین نےشعور کی بے ساختگی چھین لی ہے۔ جواب میں بہت جمع تفریق کے بعد ایک ہی بات سمجھ آئی کہ پڑھنے والوں کے بارے میں تو دعویٰ محال ہے مگر لکھنے والا جانتا ہے کہ شاید ان ساحلوں پہ جمود کا کوئی موسم ٹھہر گیا ہے۔ ایسے موسموں میں میناروں پہ تعینات راسخ العقیدہ دید بان ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ روشنی کا نشان قائم رہے، شاید اسی لیے حاشر بھائی کا لکھتے رہنا بہت ضروری ہے۔ (محمد حسن معراج)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر کی شہرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی کتاب پڑھنے سے جب تک بچ سکتے ہیں، بچ جائیں۔ بھئی کیوں پڑھیں وہ چیزیں جنھیں پڑھ کے پہلے سے بہکا ہوا دماغ مزید بہکے۔ لیکن کب تک نہ پڑھتے؟ قابلِ اعتراض مواد کب تک تکیے کے نیچے رکھ کے بتی آنے کا انتظار کیا جائے؟ ایسی چیزیں ٹارچ کی روشنی میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں، بلکہ پڑھنی بھی ایسے ہی چاہییں۔ پہلا مضمون پڑھا اور کہانی ہی پلٹ گئی۔ سوشل میڈیا پہ استعمال ہونے والے تھمب نیل کی طرح پسِ آئینہ کچھ بھی قابلِ اعتراض نہ نکلا۔ صاف ستھری نثر، پُرخلوص قلم اور سیدھا کھرا مشاہدہ۔ اتنے سامنے کی بات کہ پڑھنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ بات تو میں بھی محسوس کرتا ہوں تو کیا میں بھی ایسا لکھ سکتا ہوں؟ بالکل نہیں، یہ اسلوب، سہل ممتنع کی طرح ہر ایک کے بس کی بات نہیں، سوز کی یہ ہنڈ کلیہہ ہر کوئی نہیں پکا سکتا۔ اس کے لیے حاشر کا کلیجا اور حاشر کا قلم چاہیے۔ (آمنہ مفتی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کے مضامین پر مجھے بہت سارے اعتراضات ہیں۔ حضرت کے موضوعات، ان کی جہات، تمام موٹے اور باریک نکات، حد یہ کہ ان کے اعتراضات بھی قابلِ اعتراض ہیں۔ سب سے زیادہ قابلِ اعتراض ان کی دیدہ دلیری ہے۔ یہ صاحب کیوں نہیں جانتے کہ اس معاشرے میں ہیلمٹ پہنے بغیر سنجیدہ گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر سوچنے پر نہیں اکسایا جاسکتا۔ اور سوال اٹھانے سے پہلے کئی ہزار میل کا فاصلہ ضروری ہے۔ ملزم کی فردِ جرم بہت طویل ہے۔ کئی مدعیان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کی ہر تحریر اور گفتگو کا نتیجہ کسی نہ کسی طبقے کے جذبات میں ابال لانے کا سبب بنتا ہے۔ کسی تحریر پر عقلیت پسندوں کے دل خوشی سے بھرے ہوئے ملے ہیں۔ کسی تحریر پر نوجوانوں میں مطالعے کی جستجو اور تڑپ پیدا ہوتے دیکھی گئی ہے۔ کسی تحریر پر ادب کے قاری وجد میں دکھائی دیے ہیں۔ علی شریعتی سے ایک قول منسوب ہے کہ ایک جاہل معاشرے میں صاحبِ شعور ہونا جرم ہے۔ میں اس کی تائید کرتا ہوں اور حاشر ارشاد کو عادی مجرم قرار دیتا ہوں۔ یہ کتاب ان کے جرائم کا اہم ثبوت ہے۔ معاشرے کے لیے اس سنگین جرم کی پاداش میں انھیں تاحیات کربِ دانائی اور دشنامِ جہل کو بھگتنا پڑے گا۔ میں اُنھیں مسلسل ایسے مضامین لکھنے اور کتابی صورت میں چھپوانے کی سزا سناتا ہوں۔ (مبشر علی زیدی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089523716313,"sku":null,"price":1475.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/69690df6459e31768492534.jpg?v=1772698927"},{"product_id":"bazar-ka-but-by-tahira-iqbal-بازار-کا-بت-از-طاہرہ-اقبال","title":"BAZAR KA BUT by Tahira iqbal \/    بازار کا بت از طاہرہ اقبال","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاُردو افسانہ نگاری کے دورِ زرّیں میں بھی مجھے راجندر سنگھ بیدی سے بڑھ کر مشاہدے کی سچائی، گہرائی اور ہمہ گیری کم ہی کہیں ملی، مگر طاہرہ اقبال کے چند افسانے پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ گہرے اور کھرے مشاہدے کے ذریعے اپنے افسانے کو مؤثر بنانے کا سلسلہ بیدی پر ختم نہیں ہو گیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(احمد ندیم قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاک بے خوفی اور اعتماد طاہرہ کی تحریروں میں برابر ملتا ہے۔ شہر کے مڈل کلاس لوگوں کی جھجک ان کی کہانی Grow کرنے سے نہیں روک سکتی۔ ان کے توانا بیانیے کے آگے کسی بھی طرح کی یہ جعلی Moralist ٹک نہیں سکتی، کیونکہ طاہرہ نے جو کچھ جتنا بھیانک دیکھا اور سمجھا وہ اپنا بے محابا اظہار چاہتا ہے۔ اگر طاہرہ اسپینش زبان میں لکھ رہی ہوتیں اور وسطی امریکی ریاستوں کے براعظم جنوبی امریکا کے پٹے ہوئے لوگوں کی بِپتا بیان کرتیں تو اس وقت دُنیا کی درجنوں زبانوں میں یہ کہانیاں ترجمہ ہو چکی ہوتیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( اسد محمد خان)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافسانے کا کمال یہ ہے کہ پورا ماحول جس قدر بھیانک ہے اس کے خلاف پیدا ہونے والا تاثر ایک سوال انگیز سرّیت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے اور یہ ایک بڑی خوبی ہے جس نے طاہرہ اقبال کو قابلِ داد افسانہ نگار بنا دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد علی صدیقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eطاہرہ اقبال واقعتاً ایک خلاق افسانہ نگار ہیں۔ اُردو فکشن کا شاندار مستقبل جن چند افسانہ نگاروں کے فنی اور فکری کمالات پر منحصر ہے، اُن میں طاہرہ اقبال سرِفہرست ہیں۔ مبدائے فیاض سے انھیں بےپناہ تخلیقی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں۔ اُن کی نگاہ باریک بیں ہے، مشاہدہ تیز ہے اور مطالعہ گہرا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(فتح محمد ملک)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089523749081,"sku":null,"price":975.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/6975f93fe1ac41769339199.jpg?v=1772698929"},{"product_id":"zindagi-zindan-dili-ka-naam-hai-زندگی-زنداں-دلی-کا-نام-ہے","title":"ZINDAGI ZINDAN DILI KA NAAM HAI by  ZAFAR ULLAH POSHNI \/ زندگی زنداں دلی کا نام ہے","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eلذیذ حکایت کو دراز تر کرنا تو محاورہ بھی ہے اور رسمِ دنیا بھی، لیکن اگر کوئی پوچھے کہ جیل خانے اور اسیری کی حکایت لذیذ کیسے ہو سکتی ہے تو انھیں سابق کپتان ظفر اللہ پوشنی کی یہ کتاب پڑھنے کو دیجیے۔ اگلے وقتوں کی بات ہے کہ ظفر اللہ پوشنی سمیت کچھ چھوٹے بڑے فوجی افسر اور اس خاکسار سمیت تین غیر فوجی لوگ اور ایک خاتون ان وقتوں کے ایک شہرۂ آفاق مقدمے میں ماخوذ ہوئے،جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واحد مقدمے کے لیے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ایک خاص قانون وضع کیا، ایک خاص عدالت قائم ہوئی جس کی کارروائی اب تک پردۂ راز میں اس لیے ہے کہ اس قضیے میں ہر فریق، مصنف، وکیل، گواہ، عدالت کے پیش کار وغیرہ وغیرہ، غرض ہر کوئی قانونی طور سے راز داری کا پابند کیا گیا تھا۔ ظفر اللہ پوشنی نے اپنی کتاب میں مصلحتاً اس راز کی پردہ کشائی تو مناسب نہیں سمجھی، البتہ اس امر کی وضاحت بہت تفصیل سے کی ہے کہ ہم ملزمین کی نظر میں اس دفترِ ملامت کی وقعت کیا تھی اور ہمارے شب و روزِ اسیری میں اس مضحکہ خیز ڈرامے کے کردار اداکاری کے کیا جو ہر دکھاتے رہے تھے۔ اس عجیب و غریب سازش کا ایک نادر پہلو تو یہی تھا کہ ہم میں سے بیشتر لوگ باہم صورت آشنا بھی نہیں تھے اور ہم میں سے کچھ کی ملاقات پہلی بار جیل خانے ہی میں ہوئی۔ ظفر اللہ پوشنی سے بھی میری وہیں شناسائی ہوئی... ایک لا ابالی بے فکر، کھلنڈرا نوجوان جسے ڈنٹر پیلنے، گلا پھاڑنے اور انگریزی کے فحش گانے گانے کے علاوہ بظاہر بقیہ کاروبارِ زندگی سے کوئی سروکار ہی نہ تھا، البتہ ذہن طرار ملا تھا اور زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔ جیل خانے کی طویل ملاقات میں ہم نے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپوشنی کے لکھے ہوئے اس منظرنامے میں آپ کو یہ سارے کردار ایک طرح سے پردۂ تصویر پر نظر آئیں گے اور جیل خانے کے وہ سارے ڈراپ سین بھی جن سے ان کی زندگی عبارت تھی۔ پوشنی نے یہ کچھ اتنے چٹخارے لے کر لکھا ہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اسے پڑھ کر کہیں کچھ لوگ یہ نہ سوچنے لگیں کہ اگر سازش ایسی ہی لایعنی اور جیل خانہ ایسی ہی لطف کی چیز ہے تو یہ تفریح ہم بھی کیوں نہ کر دیکھیں۔ پوشنی نے منظر کشی کے ساتھ کہیں کہیں کامنٹری بھی کی ہے، جس سے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ لیکن اس حکایت کی لذت آفرینی سے شاید ہی کوئی پڑھنے والا انکار کر سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیض احمد فیض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارچ 1972ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی مئی 1926ء میں مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ سانحہ جلیانوالہ باغ کے زمانے کی تحریک کے لیڈر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور اُردو زبان کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا تعلق بھی امرتسر کے اسی کشمیری خاندان سے تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی نے بی اے کا امتحان سترہ سال کی عمر میں پاس کیا اور ایم اے (پولیٹکل سائنس) کا پہلا سال ختم کرنے کے بعد برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں وہ مختلف چھاؤنیوں میں تعینات رہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ظفر اللہ پوشنی آرمی سگنل اسکول پونہ میں انسٹرکٹر تھے۔ وہ سگنل کور کے ساز و سامان میں پاکستانی فوج کے حصے کی نگہداشت کرتے کرتے پونہ سے جبل پور گئے اور کئی جتنوں کے بعد وہاں سے مال گاڑی میں یہ تمام سامان لے کر فروری 1948ء میں بالآخر پاکستان پہنچے۔ اس وسیع ساز و سامان کو تقسیمِ ہند کے کچھ مہینے بعد پاکستان پہنچانا ظفر اللہ پوشنی کا کارہائے نمایاں تھا، جس پر وہ ساری عمر فخر کرتے رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1951ء میں کیپٹن ظفر اللہ پوشنی کو میجر جنرل اکبر خان و دیگر فوجی افسروں اور بعض نامور سویلین شخصیتوں کے ہمرا ہ گرفتار کرلیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا جو راولپنڈی مقدمہ سازش کے نام سے مشہور ہوا۔ چارسال قید کاٹنے کے بعد 1955ء میں رہائی ہوئی تو ظفر اللہ پوشنی نے یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eابھی انھوں نے وکالت کا کام نیا نیا شروع ہی کیا تھا کہ جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے تمام لوگوں کو سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا، ان میں ظفر اللہ پوشنی بھی شامل تھے۔ اس بار وہ چار مہینے جیل میں رہے جس میں ایک مہینہ قیدِ تنہائی میں کاٹا۔ جسٹس کیانی مرحوم کے احکامات کے مطابق فروری 1959ء میں ان کو رہائی نصیب ہوئی تو وہ کراچی چلے گئے اور مین ہٹن ایڈورٹائزنگ کمپنی میں بطور کاپی رائٹر ملازمت اختیار کر لی۔ چند سال میں ظفر اللہ پوشنی ترقی کرکے کمپنی کے کریٹیو ڈائریکٹر بن گئے ۔ چھ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ اسی کمپنی کے ساتھ منسلک رہے۔ مارچ 2020ء میں کووڈ کی وبا پھیلتے ہی ساری دنیا لاک ڈاؤن میں چلی گئی۔ آفس بھی بند ہو گئے۔ گھر بیٹھنا ظفر اللہ پوشنی کو راس نہ آیا اور وہ بیمار رہنے لگے۔ چھ اکتوبر 2021ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e93 سال کی عمر تک ظفر اللہ پوشنی اپنے دفتری فرائض بخوبی انجام دیتے رہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرتے اور ذہنی اور جسمانی لحاظ سے فٹ تھے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089523814617,"sku":null,"price":1475.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/69747e23ba86d1769242147.jpg?v=1772698929"},{"product_id":"آزادی-از-خوشونت-سنگھ-i-shall-hear-nightangle-by-khushwant-singh","title":"آزادی از خوشونت سنگھ | I shall hear nightangle by Khushwant singh","description":"\u003cp\u003eآزادی از خوشونت سنگھ | I shall hear nightangle by Khushwant singh\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089556123865,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Azadi.webp?v=1772698953"},{"product_id":"یہودی-پروٹوکولز-مترجم-یحیی-خان-yahudi-protocol","title":"یہودی پروٹوکولز مترجم یحیی خان | Yahudi protocol","description":"\u003cp\u003eیہودی پروٹوکولز مترجم یحیی خان | Yahudi protocol\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089559335129,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_d96a382d-0fc9-4d27-a7e2-b8803ebfe5f5.jpg?v=1772698955"},{"product_id":"باغ-لذت-از-محمد-النفزاوی-مترجم-یاسر-جواد-perfumed-garden-translaotr-yasir-jawad","title":"باغ لذت از محمد النفزاوی مترجم یاسر جواد |Perfumed garden translaotr Yasir Jawad","description":"\u003cp\u003eباغ لذت از محمد النفزاوی مترجم یاسر جواد |Perfumed garden translaotr Yasir Jawad\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089562546393,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_38ca6821-8196-422f-a486-03c322e338c3.jpg?v=1772698958"},{"product_id":"the-greatest-mind-of-all-time-by-will-durant-انسانی-تاریخ-کے-عظیم-ترین-ذہن-اور-نظریات-از-ول-ڈیورنٹ","title":"the greatest mind of all time by Will durant| انسانی تاریخ کے عظیم ترین ذہن اور نظریات از ول ڈیورنٹ","description":"\u003cp\u003ethe greatest mind of all time by Will durant| انسانی تاریخ کے عظیم ترین ذہن اور نظریات از ول ڈیورنٹ\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089562579161,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_89ee8593-01d5-4bc9-bbfe-0787d933cea9.jpg?v=1772698959"},{"product_id":"غزوہ-ہند-از-توصیف-خان-gazwa-e-hind-by-tauseef-khan","title":"غزوہ ہند از توصیف خان | Gazwa e hind by tauseef khan","description":"\u003cp\u003eغزوہ ہند از توصیف خان | Gazwa e hind by tauseef khan\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089565790425,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_a9cf19a8-5f0d-4455-8042-5030147ec831.jpg?v=1772698961"},{"product_id":"دی-آرٹ-آفوار-از-جنرل-سن-زو-the-art-of-war-by-sun-zu","title":"دی آرٹ آفوار از جنرل سن زو|The art of war by Sun zu","description":"\u003cp\u003eدی آرٹ آفوار از جنرل سن زو|The art of war by Sun zu\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089565823193,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_27dcb663-16d4-4532-8ea8-7c67cb00d603.jpg?v=1772698962"},{"product_id":"خزاں-زدہ-پتے-از-ول-ڈیورنٹ-مترجم-ڈاکٹر-ژوبیہ-the-fallen-leaves-by-will-durant","title":"خزاں زدہ پتے از ول ڈیورنٹ مترجم ڈاکٹر ژوبیہ| The fallen leaves by will durant","description":"\u003cp\u003eخزاں زدہ پتے از ول ڈیورنٹ مترجم ڈاکٹر ژوبیہ| The fallen leaves by will durant\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089569001689,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_bde1ca90-be33-4876-abed-a1a032f5d28b.jpg?v=1772698963"},{"product_id":"گرونانک-زندگی-و-تعلیم-مترجم-یاسر-جواد-gurunanak-translation-by-yasir-jawad","title":"گرونانک زندگی و تعلیم مترجم یاسر جواد | Gurunanak translation by Yasir Jawad","description":"\u003cp\u003eکتاب: گرونانک \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمترجم: یاسر جواد\u003c\/p\u003e","brand":"Nigharshat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089569034457,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_b7a3704e-0934-4f18-8f7a-c1fa760031f2.jpg?v=1772698964"},{"product_id":"rebel-english-academy-by-mohammed-hanif","title":"Rebel English Academy\nBy Mohammed Hanif","description":"\u003cp\u003eWhen Pakistan’s first elected Prime Minister Zulfikar Ali Bhutto is hanged, the people of OK Town refuse to believe he is dead and fight to bring him back.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eIn the heart of the city, Sir Baghi is surprised by a knock at the door of the Rebel English Academy, his tuition center that offers affordable English lessons. An unexpected visitor, Sabiha, seeks refuge at the Academy—her husband has just died in a house fire, and she insists she only ran away from a burning building. Baghi encourages Sabiha to write, and a lifetime of secrets begin to unspool on the page.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eMeanwhile Captain Gul, who botched his hanging duty, has been banished to OK Town, where he aims to squash the protestors wanting to bring Bhutto back from the dead. But his duties and romantic desires begin to overlap, and his already dubious power is threatened.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eIn Rebel English Academy, Pakistan is struggling under martial law after the execution of its former leader. Mohammed Hanif has constructed a vibrant cast of interconnected characters that face this changing landscape with violence, passion, and sharp humor. Wry, searing, and deeply relevant, Rebel English Academy is a triumphant new novel about political power, religion, education, sexuality, and perpetual dissent.\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089572212953,"sku":null,"price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_a7d1c8b8-f0aa-430a-bbba-8910955de560.jpg?v=1772698966"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-hardback-collector-s-edition-box-setلارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK HARDBACK COLLECTOR’S EDITION BOX SETلارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے مجلد کولیکٹرز ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003cp\u003eلارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e شہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e انگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔✍  سنڈے ٹائمز\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند جلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔✍  سی ایس لیویس(شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔✍  کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔✍ ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن(ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔ ✍  بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089572245721,"sku":null,"price":6000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_2df42205-2bd0-4356-b6eb-612d4a6310e0.jpg?v=1772698967"},{"product_id":"کاغذ-کی-ناو-از-اختر-حسین-رائے-پوری-ahaz-ki-nao-by-akhtar-hussain-rai-puri","title":"کاغذ کی ناو از اختر حسین رائے پوری | ahaz ki nao by akhtar hussain Rai puri","description":"\u003cp\u003eسجاد حیدر یلدرم اور منشی پریم چند اور اُن کے فوری بعد کی نسل نے اُردو افسانے کو عالمی ادب سے آنکھ ملانے کے قابل کر دیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل ہی اُردو افسانے کا معیار ادب اُردو کے لیے سرمایہ افتخار بن چکا تھا۔ ان افسانہ نگاروں کی وجہ سے اُردو افسانہ اتنی تیزی سے تخلیق ہوا کہ بعض افسانہ نگاروں کی کہانیوں کے انتخابات بھی سوسو افسانوں پر مشتمل قرار پائے ۔ اس دور میں ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے دو اُردو افسانوی مجموعے ” محبت اور نفرت اور زندگی کا میلہ اور آگ اور آنسو کے نام سے ایک ہندی مجموعے کی اشاعت کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ اپنے کم افسانوں کے باوجود اختر حسین رائے پوری کا شمار اُردو کے اُن افسانہ نگاروں میں بہت نمایاں ہے، جنھوں نے افسانے کو غزل کا شعر بنا دیا۔ اختر کے افسانے حشو و زوائد سے یوں مبرا ہیں کہ کسی ایک واقعے کسی ایک پیرا گراف حتی کہ کسی ایک جملے کو بھی آپ افسانے سے نہیں نکال سکتے ۔ صفِ اوّل کے بعض افسانہ نگاروں کے ہاں تو اپنے نقطۂ نظر کو منوانے کی حد تک ضد نظر آتی ہے، یہاں تک کہ واقعات کی کثرت مرکزی نقطے کو دھندلا دیتی ہے۔ اُس عہد میں اختر کے علاوہ افسانے کی یہ شان صرف منٹو کے ہاں دکھائی دیتی ہے، لیکن منٹو آخری جملے کا افسانہ نگار ہے، جب کہ اختر حسین رائے پوری کے افسانے کی منتہا اُن کے ہر افسانے میں مختلف مقام پر محسوس ہوتی ہے۔ اُردو کے علاوہ سنسکرت، ہندی، بنگالی، گجراتی، فارسی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں سے شناسائی نے ان کے اسلوب پر نہایت خوش گوار اثر ڈالا ہے۔ منظر نگاری، جزئیات نگاری، کردار نگاری، جذبات نگاری میں انھیں ایسی دسترس حاصل ہے کہ قاری کسی مقام پر افسانے کے سحر سے نہیں نکل سکتا۔ یقینا آج اُردو افسانہ بہت کی منزلیں طے کر چکا ہے، لیکن پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اختر کے افسانے ایک روشن ستارے کی مانند ماضی کے دھند لکے کو منور کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔\u003cbr\u003eمعروف شاعر اور ادیب جناب ارشد نعیم نے مذکورہ بالا دونوں افسانوی مجموعوں کے علاوہ اختر حسین رائے پوری کے غیر مرتب افسانوں کو بھی مجموعے میں شامل کر کے ان کا افسانوی کلیات مرتب کر دیا ہے۔ ان کی یہ کاوش اُردو افسانے کی تاریخ میں تادیر یاد رکھی جائے گی۔\u003cbr\u003eڈاکٹر خالد ندیم\u003c\/p\u003e","brand":"Al hamad pulication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089575456985,"sku":null,"price":575.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_74f044a7-afe8-4756-8069-a092edcabe9c.jpg?v=1772698969"},{"product_id":"تنقیدی-نظریات-از-سید-احتشام-حسین-tanqeedi-nazryat-by-syed-ihtisham-hussain","title":"تنقیدی نظریات از سید احتشام حسین | Tanqeedi nazryat by Syed ihtisham hussain","description":"\u003cp\u003eتنقیدی نظریات\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاُردو میں نظری تنقید کی بنیادی کتاب\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eسید احتشام حسین ترقی پسند تنقید کے بنیاد گزاروں میں سے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eانھوں نے تنقید کے مختلف شعبوں میں قابل قدر تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔ طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اُردو میں نظری تنقید کے موضوع پر بہت کم کتب دستیاب ہیں۔ تنقیدی نظریات کی ترتیب کا کام انھوں نے بیسویں صدی کے وسط میں کیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ پون صدی گزرنے کے بعد بھی یہ کتاب اپنے موضوع کی مناسبت سے بنیادی اور مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔ اسے فاضل مرتب نے تین حصوں (اول) مسائل ( دوم ) زاویے (سوم) تجزیے میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں اُصول تنقید، تنقید کی مبادیات ، نقاد کے منصب ، اور تنقید کے فن کی حدود کے بارے میں نیاز فتح پوری ، ڈاکٹر عبادت بریلوی، مجنوں گورکھ پوری اور کلیم الدین احمد کے مضامین شامل ہیں۔ نیز تنقید ، نظریہ اور عمل کے زیر عنوان سید احتشام حسین نے فن تنقید کے بارے میں خوبصورت طرز استدلال سے اپنے موضوع کا احاطہ کیا ہے۔ زاویے“ کے زیر عنوان دوسرے حصے میں تخلیق و تنقید کے باہمی رشتے، تحقیق و تنقید کے درمیان تعلق کے ساتھ ساتھ سائنٹیفک تنقید، نفسیاتی تنقید اور مارکسی تنقید کو مجنوں گورکھ پوری، ڈاکٹر سید عبد اللہ ، اسلوب احمد انصاری، سید شبیہ الحسن اور ڈاکٹر عبدالعلیم نے کامیابی سے اپنا موضوع بنایا ہے۔ تجزیئے\" کے عنوان سے موجود حصہ سوم میں آل احمد سرور، ڈاکٹر اختر اور بینوی ، ریاض احمد اور سید ممتاز حسین نے ادب اور تنقید کی بنیادی اقدار پر خوبصورت مقالات پیش کیے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاُردو ادب کے اساتذہ اور طالب علموں کے لیے تنقید کے بنیادی تصورات اور نظریات کو سمجھنے کے لیے یہ مضامین کامل رہنمائی کے اہل ہیں۔ ان مقالات کی زبان رواں ، سلیس اور آسان فہم ہے اور فاضل نقادوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے انھیں تحریر کیا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e(ادارہ)\u003c\/p\u003e","brand":"Al hamad pulication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089575489753,"sku":null,"price":575.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_cdc60c30-bfa8-4609-a74f-e50509db71f3.jpg?v=1772698970"},{"product_id":"a-time-to-betray-the-astonishing-double-life-of-a-cia-agent-inside-the-revolutionary-guards-of-iran-by-reza-kahlili","title":"A Time to Betray: The Astonishing Double Life of a CIA Agent Inside the Revolutionary Guards of Iran\nBy: Reza Kahlili","description":"\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"fjpur\" data-offset-key=\"29nla-0-0\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"29nla-0-0\" class=\"_1mf _1mj\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"29nla-0-0\"\u003e\u003cspan data-text=\"true\"\u003eA true story as exhilarating as a great spy thriller, as turbulent as today's headlines from the Middle East, 2010 National Best Books Award-winning A Time to Betray reveals what no other previous CIA operative's memoir possibly could: the inner workings of the notorious Revolutionary Guards of Iran, as witnessed by an Iranian man inside their ranks who spied for the American government. It is a human story, a chronicle of family and friendships torn apart by a terror-mongering regime, and how the adult choices of three childhood mates during the Islamic Republic yielded divisive and tragic fates. And it is the stunningly courageous account of one man's decades-long commitment to lead a shocking double life informing on the beloved country of his birth, a place that once offered the promise of freedom and enlightenment--but instead ruled by murderous violence and spirit-crushing oppression.\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"fjpur\" data-offset-key=\"8l2s7-0-0\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"8l2s7-0-0\" class=\"_1mf _1mj\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"8l2s7-0-0\"\u003e\u003cspan data-text=\"true\"\u003eReza Kahlili grew up in Tehran surrounded by his close-knit family and two spirited boyhood friends. The Iran of his youth allowed Reza to think and act freely, and even indulge a penchant for rebellious pranks in the face of the local mullahs. His political and personal freedoms flourished while he studied computer science at the University of Southern California in the 1970s. But his carefree time in America was cut short with the sudden death of his father, and Reza returned home to find a country on the cusp of change. The revolution of 1979 plunged Iran into a dark age of religious fundamentalism under the Ayatollah Khomeini, and Reza, clinging to the hope of a Persian Renaissance, joined the Revolutionary Guards, an elite force at the beck and call of the Ayatollah. But as Khomeini's tyrannies unfolded, as his fellow countrymen turned on each other, and after the horror he witnessed inside Evin Prison, a shattered and disillusioned Reza returned to America to dangerously become \"Wally,\" a spy for the CIA.\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"fjpur\" data-offset-key=\"9sm9n-0-0\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"9sm9n-0-0\" class=\"_1mf _1mj\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"9sm9n-0-0\"\u003e\u003cspan data-text=\"true\"\u003eIn the wake of an Iranian election that sparked global outrage, at a time when Iran's nuclear program holds the world's anxious attention, the revelations inside A Time to Betray could not be more powerful or timely. Now resigned from his secretive life to reclaim precious time with his loved ones, Reza Kahlili documents scenes from history with heart-wrenching clarity, as he supplies vital information from the Iran-Iraq War, the Marine barracks bombings in Beirut, the catastrophes of Pan Am Flight 103, the scandal of the Iran-Contra affair, and more . . . a chain of incredible events that culminates in a nation's fight for freedom that continues to this very day.\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089578930393,"sku":null,"price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/7713461_upscayl_4x_realesrgan-x4fast.png?v=1772698976"},{"product_id":"fall-of-byzantine-empire-to-the-ottomans-by-michael-angold","title":"fall of byzantine empire to the ottomans by Michael Angold","description":"\u003cp\u003eThe fall of Constantinople to the Ottomans in 1453 marked the end of a thousand years of the Christian Roman Empire. Thereafter, world civilisation began a process of radical change. The West came to identify itself as Europe; the Russians were set on the path of autocracy; the Ottomans were transformed into a world power while the Greeks were left exiles in their own land. The loss of Constantinople created a void. How that void was to be filled is the subject of this book.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eMichael Angold examines the context of late Byzantine civilisation and the cultural negotiation which allowed the city of Constantinople to survive for so long in the face of Ottoman power. He shows how the devastating impact of its fall lay at the centre of a series of interlocking historical patterns which marked this time of decisive change for the late medieval world.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eThis concise and original study will be essential reading for students and scholars of Byzantine and late medieval history, as well as anyone with an interest in this significant turning point in world history.\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089582108889,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_5d9863b3-c97d-4bb1-af11-b5fb71b53078.jpg?v=1772698975"},{"product_id":"sadbarg-parveen-shakir-صد-برگ-از-پروین-شاکر","title":"Sadbarg - Parveen Shakir | صد برگ از پروین شاکر","description":"\u003cp style=\"font-weight: 600;\"\u003eTitle: Sudbarg - صَد برگ\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-weight: 600;\"\u003eAuthor: Parveen Shakir\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-weight: 600;\"\u003eSubject: Urdu Literature\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-weight: 600;\"\u003eISBN: 9693537483\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-weight: 600;\"\u003eYear: 2025\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-weight: 600;\"\u003eLanguage: Urdu \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-weight: 600;\"\u003eNumber of Pages: 231 \u003c\/p\u003e","brand":"Sang e mell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089582371033,"sku":null,"price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_d875cf01-cffa-4d6b-9ab4-53646a91eb1c.jpg?v=1772698977"},{"product_id":"jehd-e-musalsal-zulfiqar-ahmad-cheema","title":"Jehd-e-Musalsal - Zulfiqar Ahmad Cheema جہدِ مسلسل","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eTitle: Jehd-e-Musalsal - جہدِ مسلسل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor: Zulfiqar Ahmad Cheema - ذوالفقار احمد چیمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eSubject: Autobiography\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eISBN: 9693537599\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLanguage: Urdu\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eYear of Publication: 2026\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eNumber of Pages: 336\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Sang e mell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089585582297,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_62804843-b804-4223-9fc3-ebba18d00d84.jpg?v=1772698979"},{"product_id":"tarikh-ehd-mugliaya-pro-m-sarwar-تاریخ-عہد-مغلیہ","title":"Tarikh Ehd Mugliaya Pro. M Sarwar تاریخ عہد مغلیہ","description":"\u003cp\u003eTarikh Ehd Mugliaya Pro. M Sarwar تاریخ عہد مغلیہ\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089585647833,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/tarikhehmugliya.jpg?v=1772698981"},{"product_id":"muntisher-awarq-e-lahore-منتشر-اوراق-لاہور-syed-faizan-naqvi","title":"Muntisher Awarq E Lahore منتشر اوراق لاہور  Syed Faizan Naqvi","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eلاہور! ایک شہر ہی نہیں، ایک عہد ہے، تہذیب، تاریخ، محبت، علم وادب اور روحانیت کا ایسا گہوارہ جس نے صدیوں سے دلوں کو گرمایا، آنکھوں کو چک دی، قلم کو روانی دی اور زبان کو مٹھاس عطا کی۔ اس کے کوچے، اس کی فضاء اس کی مٹی، اس کے بوسیدہ در و دیوار ، سب کے سب ایک تاریخ ہیں، ایک روایت ہیں، ایک احساس ہیں۔ لاہور، صرف ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک تہذ یہی تسلسل، ایک جمالیاتی تجربہ ، اور ایک تاریخی احساس ہے۔ اس کی گلیوں میں وقت کی سانسیں گونجتی ہیں، اس کے در و دیوار پر صدیوں کے افکار مثبت ہیں، اور اس کی فضا میں علم، ادب، تصوف، سیاست، مزاحمت اور محبت کی خوشبور چی بھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eزیر نظر کتاب منتشر اوراق لاہور \" ابھی یاد گار خوشبوؤں، ان مٹ نقوش اور ان چھپے ہوئے گوشوں کو یکجا کرنے کی ایک عظیم ادبی و فکری کاوش ہے۔ اس کتاب میں سو کے قریب اہل قلم، محققین، ادباء، مورخین اور لاہور شناس اور شخصیات کے مضامین شامل ہیں، جن کی تحریریں لاہور کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے، سمجھے اور محسوس کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ منتشر اوراق لاہور \" دراصل ان جذبوں، مشاہدوں ، یادوں اور تحقیق کا ایسا گل دستہ ہے جسے سو سے زائد اہل علم، فن، ادب، تاریخ اور عشق لاہور رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا اجتماعی مرقع ہے جو لاہور کی گم گشتہ روح کو صفحہ قرطاس پر زندہ کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eلاہور پر مشتمل یہ اوراق منتشر تھے جو کہ مختلف میگزین، اخبارات، رسالوں کا حصہ تھے ، زیادہ تر مضامین سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کے جریدے ماہنامہ احوال لاہور میں شائع ہوئے تھے ۔ اس کے علاوہ کچھ فیس بک سے لئے گئے اور کچھ احباب نے دستی لکھ کر حوالے کئے ۔ یہ منتشر اوراق اب ایک کتابی شکل میں ہیں ، اب ان میں ایک ربط ہے، کو اور بھی ایک تسلسل ہے، جو قاری کو لاہور کے ماضی، حال اور کبھی کبھار مستقبل کی جھلک بھی دکھاتا ہے۔ کسی صفحے پر تاریخ بولتی ہے، کسی پر معماری کا جمال ہے، کہیں بازاروں کی رونق ہے، کہیں گلیوں کی خامشی، اور کہیں کسی استاد، کسی درویش، کسی شاعر یا کسی مجاہد ملت کا تذکرہ ہے، جو لاہور کی پہچان بنا۔ اس کتاب کا سب سے حسین پہلو اس کی کثرت آرا میں وحدت کا\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپیغام ہے۔ یعنی سب کا موضوع ہی لاہور ہے ۔ مختلف موضوعات ہونے کے باوجو د سب ہی تحریروں میں لاہور سے عشق و محبت کا جذبہ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں مختلف مکاتب فکر ، نسلوں، طبقات اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے صرف لاہور کے لیے لکھا ہے، کہ اس شہر کا کمال یہی ہے کہ یہ سب کو اپنا لیتا ہے ، سب کو سمو لیتا ہے ۔ \"منتشر اوراق لاہور \" اہل لاہور ہی نہیں، بلکہ اُن تمام عاشقانِ لاہور کے لیے ایک تحفہ ہے، جو اس شہر کو صرف ایک مقام نہیں، بلکہ ایک محبت، ایک تجربہ ، ایک خواب سمجھتے ہیں۔ یہ \" اوراق \" اگر چہ منتشر ہیں، مگر ان کا مجموعی تاثر قاری کو ایک مربوط، زندہ متحرک لاہور کی جھلک دکھاتا ہے۔ ایک ایسا لاہور جو بیک وقت قدیم بھی ہے اور جدید بھی، محبت بھی ہے اور مزاحمت بھی، جمال بھی ہے اور کرب بھی۔ ہر مضمون اس شہر کی ایک پرت کو کھولتا ہے۔ یہ کتاب لاہور کے ان تمام پہلوؤں کی تصویر ہے جو تاریخ کی گرد میں دب کر دھندلے ہو چکے تھے ، یا جنہیں آج کی نسل نے محض سنا ہے، دیکھا نہیں۔ اس کتاب کا مقصد ان عکسوں کو دوبارہ روشن کرنا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمیں ان تمام اہل قلم حضرات کا ممنون ہوں کہ جنہوں نے اپنی یادوں، تحقیق، مشاہدے اور جذبات کو الفاظ کی صورت میں پیش کیا اور لاہور کی روح کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ دعا ہے کہ یہ کاوش نہ صرف پڑھنے والوں کے دل کو چھوئے بلکہ لاہور سے ہمارے رشتے کو مزید گہرا کرے۔ یہ کتاب ان تمام قارئین کے لیے ہے جو لاہور کو صرف پڑھتے یا دیکھتے ہی نہیں، بلکہ محسوس کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eوالسلام\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eسید فیضان عباس نقوی\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eلاہور کا کھوجی، ریسرچ اسکالر\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003ePages 648\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eISBN 9786277675195\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089585713369,"sku":null,"price":2250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/WhatsApp_Image_2025-12-18_at_6.28.02_PM.jpg?v=1772698983"},{"product_id":"glossary-constitution-of-pakistan-dr-khuram-shahzad-آئین-پاکستان-کی-فرہنگ","title":"Glossary Constitution Of Pakistan Dr. Khuram Shahzad آئین پاکستان کی فرہنگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eآئین کسی بھی ریاست کے لیے سیاسی، قانونی اور انتظامی نظام کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ قوم کی اجتماعی فکر اور تہذیبی سمت کا تعین اسی کی مدد سےہوتاہے۔یہ ایسی دستاویز ہے جو قوم کے ماضی کا ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی امنگوں اور مقاصد کی رہنمائی بھی کرتی ہے۔آئین کے انہی اوصاف کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنے آئین کی تفہیم کے لیے ایسی فرہنگیں تیار کی ہیں جن سے وہاں کے عام شہریوں کو جمہوری عمل میں شریک ہونے کا موقع میسر آتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eریاست ہائے متحدہ امریکہ کا 1787میں نافذ ہونے والاباضابطہ آئین ہو یا برطانیہ کا غیر تحریرشدہ\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eدستور؛ جرمنی میں بنیادی قانون کی حیثیت رکھنے والا\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \"Grundgesetz\" \u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eہو یا کینیڈا، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، اور نیوزی لینڈ کا آئینی متن، گویا دنیا کے تمام قابل ذکر ممالک آئین کی تفہیم کے لیے فرہنگ\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e (Glossary) \u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eتیار کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eپاکستان میں سرکاری سطح پر انگریزی-اردوقانونی فرہنگ تو مرتب ہو چکی ہے لیکن’آئین پاکستان‘ کی فرہنگ دستیاب نہیں تھی۔ پاکستان کا آئین جو 1973ء میں متفقہ طور پر منظور ہوا جو عوام کے حقوق، ریاستی\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eاداروں کے اختیارات اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں قانون سازی کے دائرۂ کارکا تعین کرتا ہے۔ اس اہم ترین دستاویز کی اصل زبان انگریزی ہے۔ مذکورہ متن کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے تاہم آئین پاکستان کو اردو کے بجائے انگریزی میں تحریر کیا گیا تھا، اس لیے ابلاغ کی وہ صورت جو انگریزی متن میںسامنے آتی ہے اردو ترجمے میں اس حوالے سے کمی کا احساس ہوتا ہے۔مثلاً\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e:\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eArticle 4. Right of Individuals to be Dealt With in Accordance With Law, etc.\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eکا ترجمہ اردو متن میں یوں درج ہے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e:\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e’’\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eافراد کا حق کہ ان سے قانون وغیرہ کے مطابق سلوک کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e‘‘\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eجبکہ اسے ہونا چاہیے تھا:\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e   \u003c\/span\u003eقانون وغیرہ کے مطابق سلوک کا افرادی حق\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاس نوعیت کے دوسرے تسامحات کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب تک مناسب ترجمہ نہ ہو\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eتب تک آئین پاکستان کو انگریزی زبان میں ہی پڑھنا چاہیےکیوں کہ انگریزی جملوں کی ساخت نسبتاً سادہ ہے، البتہ چند اصطلاحات اور الفاظ کی قانونی حیثیت کی بدولت یہ ضروری سمجھا گیا کہ ان کے لیے قریب\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eترین اردو الفاظ کا انتخاب کیا جائے۔ چناں چہ اس سلسلے میں آئین کے اردو ترجمے کو بنیاد بنایا گیا۔ البتہ عام اردو قاری کی سہولت کی خاطر چند اردو الفاظ کی مزید وضاحت قوسین میںدرج کی گئی ہے تا کہ انگریزی زبان میں آئینی متن کو پڑھنا آسان ہو سکے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاس فرہنگ میں آئینی دفعات کےزمرے میں استعمال ہونے والے انگریزی الفاظ کا جامع انتخاب کیا گیا ہے؛ ان کے اردو مترادفات سیاق و سباق کے مطابق دیے گئے ہیں؛ آئین کی اصل ساخت اور دفعات کا تسلسل برقرار رکھا گیا ہے اور ہر باب کے الفاظ الگ الگ اور منظم طریقے سے درج کیے گئے ہیں تاکہ انگریزی متن پڑھتے وقت اردو دان طبقے کا تسلسل برقرار رہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eامیدہے کہ یہ کاوش طلبا، محققین، اساتذہ ، سول سوسائٹی اور صحافیوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eکی تفہیم میں نہ صرف اضافے کا باعث بنے گی بلکہ سیاسی شعور کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003ePages 168\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089588891865,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/PAkistan_Ain.jpg?v=1772698984"},{"product_id":"gorish-nayyad-buray-admi-k-khatot-برے-آدمی-کے-خطوط","title":"Gorish Nayyad Buray Admi K Khatot برے آدمی کے خطوط","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eجیسا کہ اس کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے کہ یہ خطوط ایک بڑے آدمی نے لکھے ہیں۔ جو باتیں اب اس کتاب میں لکھ چکا ہوں وہی باتیں جب کبھی لوگوں سے کیا کرتا تھا تو وہ مجھے برا آدمی تصور کرتے تھے۔ ایک وقت آیا کہ میں نے بھی خود کو بُرا آدمی سمجھنا شروع کر دیا۔ جب خطوط کی یہ کتاب مکمل کر چکا تو ایک شام بے مثل دوست عامر وسیم مگسی میرے پاس آئے اُن سے کہا کتاب کا کوئی منفر د قسم کا نام بتائیں۔ فی الفور کہتے برے آدمی کے خطوط \" ، مجھے یہ نام بے حد پسند آیا۔ پھر رات گئے تک ہم اور بھی کئی ناموں پر غور کرتے رہے لیکن کوئی نام \"برے آدمی کے خطوط\" کی جگہ نہ لے سکا۔ لہٰذا یہی نام طے پایا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eان خطوط میں کچھ مطبوعہ ہیں کچھ غیر مطبوعہ ۔ ان مکتوبات کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں سماج کے ممنوعہ موضوعات پر لکھا گیا ہے۔ آپ ان خطوط کو مجھ سے پہلے لکھے گئے خطوط سے کسی قدر مختلف پائیں گے۔ سماج کے ننگے سچ پر مقدس غلاف چڑھانے کی بھونڈی کوشش سے اجتناب کیا ہے۔ غیر ضروری تفصیلات سے پر ہیز کیا گیا ہے۔ اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ کم سے کم لفظوں میں حرفِ مدعا بیان ہو جائے۔ میرا خیال ہے اس میں کامیاب ٹھہراہوں لیکن مجھے یہ دیکھنا ہے کہ پڑھنے والوں کا ردِ عمل کیا ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eگورش\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003ePages 280\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089588924633,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/594068533_3969575373206745_1201232019172007061_n.jpg?v=1772698985"},{"product_id":"غزہ-سے-ایک-خط-اور-دوسری-کہانیاں-letter-from-gaza-short-fiction-ghassan-kanafani-انعام-ندیم","title":"Letter From Gaza Short Fiction Ghassan Kanafani غزہ سے ایک خط اور دوسری کہانیاں |  انعام ندیم","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eتعارف\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eغزہ کے آسمان پر بمباری کی گونج اور بچوں کے خوف زدہ چہروں پر آنسوؤں کی نمی ابھی سوکھی نہیں کہ ہم ایک بار پھر غسان كنفانی کی تحریروں کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کنفانی کی کہانیاں وقت کے کسی لمحے میں مقید نہیں؛ وہ زندہ ہیں، سانس لیتی ہیں، اور ہر دھماکے، ہر تباہ شدہ اسکول، ہر بے یار و مدد گار پناہ گزین کی چیخ کے ساتھ از سر نو جنم لیتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eغسان كنفانی نہ صرف فلسطینی مزاحمت کا ایک درخشاں ادبی استعارہ ہیں بلکہ وہ عربی افسانے کو تاریخ، سیاست اور داخلی کرب کے جس دھارے پر لے کر چلے ، وہ آج بھی بے مثال ہے۔ ان کے افسانے کوئی نظریاتی منشور نہیں، بلکہ روز مرہ کے اُن کرداروں کا نوحہ ہیں جو اپنی سرزمین سے بے دخل ہونے کے بعد خواب اور بھوک کے در میان معلق رہتے ہیں۔ کنفانی نے فلسطینی وجود کے منتشر لمحات کو جس سادہ مگر اثر انگیز اسلوب میں بیان کیا، وہ اردو زبان کے قاری کے لیے بھی کسی نامانوس تجربے سے کم نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eاس کتاب میں شامل تراجم، در حقیقت، لمحہ موجود کا جواب ہیں۔ اس وقت جب غزہ کی گلیاں خاکستر ہو رہی ہیں، جب بچوں کے بہتے بلبے تلے دبے مل رہے ہیں، اور جب عالمی ضمیر ، حسب روایت، خاموشی کی چادر اوڑھے سویا ہوا ہے۔ ایسے میں کنفانی کی کہانیاں محض ادبی متون نہیں، بلکہ سچائی کی وہ گواہی بن جاتی ہیں جو نہ دبائی جا سکتی ہے نہ جھٹلائی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eان افسانوں کا اردو ترجمہ ایک طرف تو زبان کی حدوں کو پار کر کے فلسطینی تجربے کو اردو کے قاری کے قریب لاتا ہے، اور دوسری طرف اردو ادب میں ظلم، جلا وطنی، اور شناخت کے موضوعات پر جاری مکالمے کو ایک نئی جہت عطا کرتا ہے۔ یہ تراجم نہ صرف کنفانی کے اسلوب کی سادگی ، علامتی طاقت اور جذباتی گہرائی کو منتقل کرنے کی ایک کوشش ہیں بلکہ اردو زبان میں مزاحمت اور یادداشت کے تسلسل کا ایک حصہ بھی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eغسان كنفانی نے ایک بار کہا تھا، \"تم ایک آدمی کو مار سکتے ہو، لیکن اُس کہانی کو نہیں جو اُس نے سنائی ہو\"۔ اس کتاب میں وہی کہانیاں سانس لے رہی ہیں۔ زخم خوردہ، لیکن زندہ۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eانعام ندیم\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eجولائی 2025ء\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089588957401,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/gazasykhat.jpg?v=1772698986"},{"product_id":"the-case-for-india-ہندوستان-کا-مقدمہ","title":"The Case for India ہندوستان کا مقدمہ Will Durant","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eہندوستان کا مقدمہ\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمیں ہندوستان اس لیے گیا کہ اپنی آنکھوں کے سامنے اُن لوگوں کو دیکھ سکوں جن کی تہذیبی تاریخ کا میں مطالعہ ” تہذیب کی کہانی“ کے لیے کر رہا تھا۔ نہ مجھے توقع تھی کہ ہندوستانیوں سے کوئی گہری وابستگی ہو گی، اور نہ یہ گمان تھا کہ میں ہندوستانی سیاست کے طوفانی دھارے میں یوں بہہ جاؤں گا۔ میری سادہ سی خواہش بس یہ تھی کہ اپنے مواد میں کچھ اضافہ کروں، چند فن پاروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں، اور پھر واپس لوٹ کر اپنی تاریخی تحقیق میں مشغول ہو جاؤں ، اس عہد حاضر کو بالکل بھلا کر کے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمگر ہندوستان میں جو کچھ میں نے دیکھا، اس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ مطالعہ اور تصنیف، محض کھیل تماشے ہیں، جب کہ نوع انسانی کے پانچویں حصے پر مشتمل ایک قوم ایسی غربت اور جبر میں مبتلا ہے کہ اس کی مثال روئے زمین پر کہیں اور نہیں ملتی۔ میں دہل گیا۔ کبھی نہ سوچا تھا کہ کوئی حکومت اپنے رعایا کو اس انتہا درجے کی محرومی اور کسمپرسی میں گرا دے۔ میں وہاں سے اس عزم کے ساتھ لوٹا کہ میں صرف ماضی کے درخشاں ہندوستان ہی کو نہیں بلکہ زندہ ہندوستان کو بھی جانوں گا۔ اس بے مثال انقلاب کو سمجھنے کی کوشش کروں گا جو اذیتیں سہتا ہے مگر تشدد کو لوٹاتا نہیں۔ آج کے گاندھی کو پڑھوں گا جس طرح کل کے بدھ کو پڑھتا آیا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eاور جتنا میں پڑھتا گیا، اتنا ہی حیرت اور غصے میں ڈوبتا گیا کہ انگلستان نے ایک سو پچاس برس تک ہندوستان کا خون گویا شعوری اور منصوبہ بند طریقے سے چوسا ہے۔ رفتہ رفتہ مجھے یقین ہونے لگا کہ میں تاریخ کے سب سے بڑے جرم پر آنکھ رکھ بیٹھا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eچنانچہ میں قاری سے اجازت چاہتا ہوں کہ اپنی تحقیقی کاوشوں کو فی الحال چھوڑ کر اٹھوں اور ہندوستان کے حق میں اپنی بات کہوں۔ میں جانتا ہوں کہ الفاظ بندوقوں اور خون کے آگے بے بس ہیں۔ کہ محض سچائی اور شرافت سلطنتوں کی تلوار اور سونے کی چمک کے پہلو میں بے معنی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر کرہ ارض کے اُس پار ، آزادی کی جدوجہد میں مصروف کوئی ایک ہندوستانی بھی میری صدا سن لے اور ذرا سا سہارا پالے، تو یہ مہینوں کی محنت اور یہ مختصر کتاب میرے لیے شیرینی اور راحت کا سامان ہو گی۔ کیونکہ اس وقت مجھے دنیا میں اور کوئی کام اتنا عزیز نہیں جتنا کہ ہندوستان کے کام آنا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eول ڈیورانٹ\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیکم اکتوبر 1930ء\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003ePages 192\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089589022937,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/hindustankamukadma.jpg?v=1772698989"},{"product_id":"shab-arzan-شب-ارزاں","title":"Shab Arzan  شب ارزاں|  اسد اللہ میر الحسنی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eکیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ایک کہانی، جو کسی اجنبی زبان اور دور افتادہ سر زمین میں جنم لیتی ہے، کس طرح ہمارے دل کی اتھاہ گہرائیوں تک اتر جاتی ہے؟ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ کہانی ہمیں اپنی شناخت اور ہمارے ہونے کے معنی نئے زاویوں سے دکھا دیتی ہے۔ میرے لیے عربی افسانہ ہمیشہ اسی حیرت، مسرت اور تلاطم کا نام رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمجھ سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے : \" کیا واقعی عربی افسانے میں کچھ نیا ہے ؟\" میں مسکرا کر جواب دیتا ہوں: اگر صرف قصہ مقصود ہو تو شاید نہیں؛ لیکن اگر آپ زبان کے پردے میں فکر ، درد، خواب، بغاوت اور جستجو کی دھڑکن سننے کے متلاشی ہیں، تو عربی افسانہ آپ کو ضرور حیران کر دے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eجدید عربی افسانہ روایتی قصہ گوئی کی سرحدوں سے آگے نکل چکا ہے۔ یہاں علامت نگاری، تجریدیت، حقیقت اور اساطیر ایک منفرد ہم آہنگی کے ساتھ آپس میں گھل مل جاتے ہیں۔ یہاں آج کے انسان کے وجودی بحران، شناخت کی پیچیدگی ، ہجرت، جنگ، طبقاتی جبر ، عورت کی نفسیات اور مذہبی و روحانی اضطراب جیسے موضوعات کو نہایت فنکارانہ انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاس مجموعے میں آپ کو نجیب محفوظ کے تہہ دار کردار، غسان كنفانی کے فلسطینی بچوں کی ویرانی، محمود شقیر کی بیت المقدس میں رچی بسی امید اور تلخی، توفیق الحکیم کی تمثیلی معنویت، یوسف ادریس اور محمد تیمور کی حقیقت نگاری، زکریا تامر کی علامتی اور تجریدی زبان، اور منفلوطی کی سوز و گداز تحریر ہر ایک اپنی الگ شناخت اور رنگ کے ساتھ ملے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمیری کوشش یہی رہی ہے کہ اس انتخاب میں وہ افسانے شامل کیے جائیں جو نہ صرف ادبی معیار پر پورے اترتے ہوں، بلکہ جدید عربی معاشرت، فرد کی تنہائی، اجنبیت، احتجاج اور امید کی کیفیات کو بھی اجاگر کریں۔ میں نے زبان کے حسن، فکر کی گہرائی، موضوعات کی جدت اور اسلوب کی تازگی کو معیار بنایا ہے، تاکہ قاری کو ہر افسانے میں کوئی نیاز او یہ ملے ، کوئی نئی معنویت اُبھرے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمیرا یقین ہے کہ عربی افسانہ صرف عربوں کی کہانی نہیں، یہ پوری انسانیت کی کہانی ہے۔ یہ ہمارے اپنے سوالات، خوابوں اور تضادات کی بازگشت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے اردو قاری کے لیے بھی یہ افسانے اتنے ہی اہم ہیں؛ ہماری اپنی معاشرت بھی انہی سوالات، انہی تضادات اور انہی خوابوں سے گزر رہی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eعربی افسانہ ہمیں اپنی شناخت، اپنے درد اور اپنی امید کونئے زاویوں سے دیکھنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ ممکن ہے \"شب ارزاں \" میں آپ کو بھی اپنی زندگی کے وہ سوال مل جائیں، جن کی تلاش میں آپ مدتوں سر گرداں رہے ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eیہ کتاب میری ذاتی تلاش، میرا انتخاب ہے اور اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ عربی افسانہ آپ کو بھی اسی طرح حیران اور متاثر کرے، جس طرح اس نے مجھے کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاسد الله میر الحسنی\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089592201433,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/shab.jpg?v=1772698990"},{"product_id":"armaghan-e-marg-ارمغان-مرگ-translation-the-gift-of-death","title":"Armaghan-e-Marg  ارمغان مرگ  The Gift of Death Jacques Derrida","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e     \u003c\/span\u003eایک روحانی تنہائی کی داستان ہے ۔۔۔۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%;\"\u003eThe Gift of Death \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eایک مکاشفہ ، جو ہم سے ہماری نیندیں چھین لیتا ہے ، ہمارے سکون کو سوالوں میں ڈھال دیتا ہے۔ دریدا کی تحریر نہ تو صوفیانہ وجد ہے، نہ فلسفیانہ تصنیف، بلکہ ایک ایسا شعریاتی زخم ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی اکثر چپ کی زبان میں آتی ہے، قربانی اکثر ان دیکھی رہ جاتی ہے، اور محبت اکثر اس وقت معتبر ہوتی ہے جب اس کا اظہار ہی نہ کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیوں دریدا کی موت ہمیں زندگی سکھاتی ہے، اس کی خاموشی ہمیں نطق عطا کرتی ہے، اور اس کی تحریر ہمارے اندر ایک ایسی پیچ جگاتی ہے جو باہر سے نہیں، اندر سے سنائی دیتی ہے۔ یہ کتاب فقط ایک فکری تحفہ نہیں، بلکہ ایک روحانی زلزلہ ہے۔۔۔ جس میں قاری کی انازمین بوس ہو جاتی ہے ، اور اس کے ضمیر سے صدائیں ابھرتی ہیں: کیا تو نے واقعی کسی کے لیے کچھ کیا؟ اور اگر کیا، تو کس قیمت پر ؟\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eرضوان کھوکھر\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%;\"\u003ePages 144\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089592234201,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/armghan.jpg?v=1772698991"},{"product_id":"zanjeerein-toote-gi-abid-mir-زنجیریں-ٹوٹیں-گی","title":"Zanjeerein Toote Gi Abid Mir زنجیریں ٹوٹیں گی","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپیش لفظ\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eتراجم میں نے دو قسم کے کیے، ایک صحافتی زندگی والے اور دوسرے شوقیہ ۔ یہ کتاب البتہ ان دونوں اقسام کا ملغوبہ ہے۔ بل کہ اس میں بعض تراجم میری طرف سے کیے گئے اور بعض تحریریں شوقیہ یک جاکی گئیں۔ لیکن یہ سب لگ بھگ صحافتی زمانے یعنی اکیسویں صدی کی اولین دہائی کی ہی یاد گار ہیں۔ یہ کتاب لگ بھگ سن 2011ء سے تیار پڑی ہوئی تھی۔ خدا جانے کس سبب سے چھپ نہیں سکی۔ تحریریں چوں کہ سدا بہار ہیں اس لیے یہ آج بھی تروتازہ ہیں۔ بل کہ بعض تحریروں کی ضرورت تو ہمارے آج کے معروض میں زیادہ اہم معلوم ہوتی ہے۔ کلاسیک ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم اس کلاسیک سے اپنے معروض کو شاید کچھ سمجھ سکیں، یہ تراجم و تحریریں بس اس نیت سے پیش ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eعابد مير\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089595412697,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/zanjir.jpg?v=1772698992"},{"product_id":"insan-aik-machine-انسان-ایک-مشین","title":"Insan Aik Machine  انسان ایک مشین Man a Machine Julien Offray de La Mettrie","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eنظریات\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e انسان ایک پیچیدہ مشین ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eلامتری کا سب سے متنازعہ نظریہ یہ تھا کہ انسان اور جانوروں میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ اس کے نزدیک ، ذہن اور شعور مادی عوامل اور جسمانی کیمیاوی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں، نہ کہ کسی غیر مادی روح \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eکا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eروح کا انکار\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eان کے مطابق، چوں کہ جانوروں میں روح نہیں، اسی طرح انسان کی بھی کوئی غیر مادی روحنہیں، بل کہ اس کا ذہن بھی محض دماغ کی حیاتیاتی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003eلذتیت  \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e ور اخلاقیات\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eلامتری کے مطابق، چوں کہ انسانی رویے اور افعال خالص جسمانی عوامل سے پیدا ہوتے ہیں، اس لیے زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\" dir=\"RTL\" lang=\"ER\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eخوشی \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eحاصل کرنا ہونا چاہیے ۔ ان کا ماننا تھا کہ جرم اور گناہ کے تصورات صرف معاشرتی تربیت کا نتیجہ ہیں، اور اصل میں وہ بے معنی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003ePages  168\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089595445465,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/insan.jpg?v=1772698993"},{"product_id":"religion-and-science-مذہب-اور-سائنس","title":"Albert Einstein Religion and Science مذہب اور سائنس","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپیش لفظ\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eآئن سٹائن کا شمار بیسویں صدی کے سب سے بڑے سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔ اُس کے نظریات نے جدید سائنس میں انقلاب برپا کر دیا، اور سائنس دانوں کا دنیا کو دیکھنے کا زاویہ بدل کر رکھ دیا۔ جدید طبیعیات کے میدان میں اُس کے کارہائے نمایاں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eزیر نظر کتاب مذہب اور سائنس کے تعلق کے بارے آئن سٹائن کی متفرق تحریروں کے تراجم پر مشتمل ہے۔ کتاب میں شامل مقالات اور اقتباسات آئن سٹائن کی متفرق تحریروں سے ماخوذ ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکتاب چار مقالات میں مشتمل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e9 نومبر 1930ء )\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003cspan dir=\"RTL\"\u003eمذہب اور سائنس(\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e19( مئی 1939 ء)\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003cspan dir=\"RTL\"\u003eمذہب اور سائنس\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e(جون 1948ء )\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003cspan dir=\"RTL\"\u003eکیا مذہب اور سائنس میں تصادم ممکن ہے؟\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e(آئن سٹائن کی\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eخود نوشت)\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eآئن سٹائن کے مذہبی نظریات\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکتاب کے شروع میں ، جس میں مذہب اور سائنس کی نوعیت، ان کے باہمی تعلق، مختلف سائنس دانوں کے خدا اور مذہب کے بارے میں نظریات پر روشنی ڈالی گئی ہے ، اور ان کا آئن سٹائن کے نظریات سے موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ مذہب اور سائنس کے تعلق کے موضوع پر لکھی گئی بعض اہم کتب کا مختصر تعارف بھی شامل مقدمہ ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eسائنسی میدان میں آئن سٹائن کے افکار سے ایک دنیا آگاہ ہے، تاہم اُس کے مذہبی نظریات کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں، اور اور اُردو زبان میں اس حوالے سے مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔ زیر نظر کتاب اس کمی کو پورا کرنے کی ایک کاوش ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکلیم \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eالہی\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e امجد\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمرید کے\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003ePages 120\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089595478233,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Albert_Einstein_Religion_and_Science.jpg?v=1772698995"},{"product_id":"مکالماتِ-اور-یلیس-makalmaat-e-aurelius","title":"Makalmaat-e-Aurelius Meditations Marcus Aurelius مکالماتِ اوریلیس","description":"\u003cp style=\"text-align: center;\" align=\"center\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eThe Meditations Marcus Aurelius \u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e مکالماتِ اوریلیس\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eجب تک فلسفی بادشاہ نہ ہو اور اس جہان کے حکمران حکمت و فلسفہ کی روحاور قوت سے سرشار نہ ہوں، جب تک سیاسی عظمت اور دانائی ایک ہی پیکر میں یکجانہ ہو جائیں، اس وقت تک نہ شہر اپنی بد حالی سے چھٹکارا پائیں گے اور نہ ہی بنی آدم کے دکھوں کا سلسلہ رُکے گا۔ اور میری رائے میں اسی دن ریاست کو زندگی کا امکان نصیب ہوگا، جب وہ حکمت کی روشنی دیکھے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس ریاست کے حکمران حکومت کرنے میں سب سے زیادہ بے رغبت ہوں، وہی ریاست بہترین اور سب سے پر سکون طریقے سے چلتی ہے؛ اور جس کے حاکم اقتدار کے سب سے زیادہ شائق ہوں، وہی ریاست سب سے بدترین ہوتی ہے۔۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003ePages 190\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089598689497,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/mukalmat.jpg?v=1772698997"},{"product_id":"قدیمی-تاریخ-شالا-مار-باغ-۱۹۲۲-منشی-محمد-دین-فوق-qademi-tarikh-shalimar-bagh-1922","title":"Qademi Tarikh Shalimar Bagh 1922 قدیمی تاریخ شالا مار باغ  ۱۹۲۲ | منشی محمد دین فوق","description":"\u003ch3 class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمیں نے لاہور پر باقاعدہ کام شاید 2007 میں شروع کیا تھا لیکن بہت جلد یہ مجھے محسوس ہوا کہ اس کام کو منتقی انجام اور مزید بڑھانے کے لئے کسی باقاعدہ پلیٹ فارم کی ضرورت ہے اسی غرض سے مختلف اداروں کے بیچ بھرپور کام کیا اور خوب کیا لیکن کچھ نظریاتی اور کچھ عملی تضاد اور فرق کے بعد ایک الگ سے پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس ہوئی ، جس کے لئے اپنے فاضل دوستوں عندلیب گل ، احمد حسن ، سید علی حیدر گیلانی وغیرہ کے مفید مشوروں کے بعد ادارہ لاہور شناسی اپریل 2012 میں وجود آگیا ۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eجس کے اغراض و مقاصد میں لاہور کی ان قدیم کتب کی دوبارہ اشاعت بھی جو کہ ناپید ہو چکی ہو یا پڑھنے والے یا تحقیق کرنے والوں کے لئے دستیاب نہ ہو ۔ پھر اس حوالے سے بہت سی کتب ہم نے دوبارہ شائع کیں بلکہ نئے لکھنے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجے میں دن بدن لاہور پر لکھنے کا مفید رواج فروغ پا رہا ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eزیر نظر کتاب منشی محمد دین فوق مرحوم نے شالامار باغ کی تاریخ پر پہلے یہ کتاب 1901 میں لکھی اس کی مقبولیت کے بعد 1922 میں دوبارہ شائع کی اس کتاب میں برصغیر میں جہاں جہاں شالامار باغ موجود ہے ان کی تاریخ اور ان کے نام اور تاریخ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے ۔ اس ناپید کتاب کو دوبارہ تیار و ترتیب و پروف کا اہم کام پروفیسر شعیب رضا نے انجام دیا ہے جو کہ اس سے قبل لاہور پر دو کتب اپڈیٹ کر چکے ہیں جسے ادارہ لاہور شناسی نے شایع کیا ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eیہ کتاب موجود دور تک ترتیب کے ساتھ اصل متن و مصنف کے تعارف کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے جو کہ چند دن تک دستیاب ہوگی ۔ امید کرتے ہیں لاہور والے اس کو پسند کریں اور ہماری حوصلہ افزائی فرمائیں گے ۔ انشاء اللہ 100 سو سال شالامار کی بدلتی ہوئی صورت حال اور بہت سے علاقوں کے شالامار کی تاریخ سے محسوز ہو سکیں گے ۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h3\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089601867993,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/ShaliMar.jpg?v=1772698998"},{"product_id":"gurmukhi-calligraphy-aestheticization-of-gurmukhi-script-ghulam-abbas","title":"Gurmukhi Calligraphy Aestheticization Of Gurmukhi Script Ghulam Abbas","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: justify;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e“Gurmukhi Calligraphy: Aestheticization of the Gurmukhi Script”\u003cbr\u003eThe Gurmukhi script, sacred to Sikh heritage and the language of the Sri Guru Granth Sahib, embodies a union of sound, form, and devotion. Originating under the guidance of Guru Nanak and the Sikh Gurus, it evolved from early Indic scripts such as Devanagari, Lahnda, Takri, and Sharada — not merely as a writing system but as a rachna, a divine creation designed to preserve the sacred word.\u003cbr\u003eThrough centuries of transformation, Gurmukhi adapted to new linguistic and cultural contexts, yet retained its spiritual essence. Today, it continues to inspire both traditional calligraphic practice and digital typography.\u003cbr\u003eThis book presents Gurmukhi as a visual and contemplative art form, where each curve, proportion, and circular motion of the qalam (reed pen) transforms script into image and text into meditation. The aestheticization of Gurmukhi thus reclaims its sacred presence — inviting the viewer to experience the written word as a bridge between the human and the Divine.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: justify;\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003eAbout Author\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: justify;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eGhulam Abbas is an Associate Professor at IISAT University, Gujranwala, Pakistan He holds a multifaceted academic background as he did BFA, and then MFA in Textile Design from the University of Peshawar, MA (Hons.) in Visual Art from National College of Arts, Lahore, and during his High School he learned the traditional art of Khattati (calligraphy). His areas of research are in calligraphy, history of Fashion, Muslim devotional arts and the popular visual Islamic culture of South Asia, which he formalized in his PhD (2014) on this subject from Jawaharlal Nehru University (JNU), New Delhi, India. He has been in touch with teaching and research for more than a couple of decades. He has taught different subjects related to fine art, design, art history, research methodology and cultural studies etc. at GIFT University, Gujranwala, and Superior University in Lahore. He has also presented papers at conferences both home and abroad, published papers and articles in newspapers and journals. He is the author of two books entitled \"Tazias of Chiniot\" and \"Milad Festival in Labore and Delhi: Popular Visual Islamic Culture of South Asia which came out in 2007 and 2023 respectively. He has also developed his interest in writing of short stories.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" style=\"text-align: justify;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eISBN 9789699147180\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089605112025,"sku":null,"price":1775.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/mukhi.jpg?v=1772699001"},{"product_id":"نفرت-کی-دریافت-اشفاق-لغاری-nafrat-ki-daryaft-ashfaq-lagari","title":"نفرت کی دریافت | اشفاق لغاری | Nafrat Ki Daryaft | Ashfaq Lagari","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں انسان کی عزت اور وقار محض اس کے کردار ہی سے نہیں بلکہ اس کی ڈیجیٹل شناخت سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ایک سافٹ وئیر کی مدد سے بنائی گئی تصویر، ایک گمراہ کن پوسٹ، یا بد نیتی پر مبنی الزام، یہ سب کسی بھی شخص کی زندگی کو تہس نہس کرنے کے لیے کافی ہیں۔ آن لائن کردار کشی اب محض ٹیکنالوجی سے جڑا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ سائبر کرائم ، انسانی حقوق، اور نفسیاتی صحت کا ایک سنجیدہ بحران بن چکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eپاکستان جیسے ملک میں ، جہاں سائبر تو ر قوانین ابھی یا تو مکمل طور پر مرتب نہیں ہوئے یا ان پر عمل درآمد کے حوالے سے ابہام پائے جاتے ہیں، اور پھر عدالتی نظام مختلف رکاوٹوں اور مسائل کا شکار ہے، وہاں آن لائن کردار کشی اور سائبر جرائم سب سے پیچیدہ اور خاموش تشدد کی صورتیں بن چکے ہیں۔ یہ کتاب ایسے ہی ایک تشدد کی گواہی ہے اور ایک شخص کی اس کے خلاف ثابت قدم جد و جہد کی داستان بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاشفاق لغاری جو ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی میں ملازم اور سندھ کے ادبی حلقوں میں جانا پہچانا نام ہیں ، اس وقت ایک اذیت ناک تجربے سے گزرے جب ان کی ایک جعلی تصویر سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی۔ اس تصویر میں انہیں یونیورسٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے ساتھ نیم برہنہ اور غیر اخلاقی حالت میں دکھایا گیا تھا۔ یہ سراسر جھوٹ تھا، لیکن اس کا اثر خوفناک حد تک حقیقی تھا جس نے اشفاق کی ذاتی ، سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی پر ایک کاری ضرب لگائی۔ اس شیطانی کھیل کا نشانے صرف اشفاق نہیں تھے بلکہ ادارے کے باقی افراد بھی زد میں تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاکثر لوگ ایسے حالات میں گھبرا جاتے ہیں اور خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اشفاق نے مزاحمت کا راستہ چنا۔ انہوں نے اس لڑائی کو محض قانونی مقدمہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک جذباتی اور نفسیاتی جدوجہد کے طور پر اپنایا، بالکل ویسے ہی جیسے جنسی تشدد کا شکار شخص اپنے وقار کی بحالی کے لیے لڑتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاس راہ میں انہیں بارہا تاخیر ، قانونی نظام کی بے حسی، اور بااثر ملزم کی طاقت اور روابط کا سامنا بھی رہا۔ وہ کئی بار تنہائی اور بے بسی کا شکار ہوئے۔ لیکن ان کے لیے ڈاکٹر فوزیہ سعید اور مختاراں مائی جیسی باہمت خواتین مثال تھیں جنہوں نے اپنے ساتھ روا ر کھے گئے جنسی مظالم کے جواب میں خاموش رہنے کے بجائے ان کے خلاف آواز اٹھائی، ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے عدالتی جنگ لڑی اور اس آپ بیتی کو کتابی شکل میں لوگوں تک بھی پہنچایا۔ ان با حوصلہ خواتین کی طرح اشفاق نے بھی اپنی جد و جہد کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ نتائج کی پر واہ کیے بغیر سچائی کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل انصاف ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089605275865,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/mafrat.jpg?v=1772699002"},{"product_id":"خودنوشت-mother-mary-comes-to-me-آزاد-عورت-آزاد-اڑان-arundhati-roy","title":"خودنوشت | Mother Mary Comes to Me | آزاد عورت ،،، آزاد اڑان | Arundhati Roy","description":"\u003cp style=\"text-align: center;\" align=\"center\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاروندھتی رائے کی خودنوشت\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاروندھتی رائے عالمی ادب میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہیں کہ وہ اپنے تخلیقی دورِ آغاز سے ہی سیاسی اور سماجی موضوعات کو اپنی فکر ونظر کا محورومرکز بنا کر ادبی شہ پارہ کی صورت میں پیش کرتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کا پہلا ناول ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘‘ کو نہ صرف عالمی شہرت کا حامل بُکر پرائز ملا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا یہ ناول عالمی ادب میں ایک ہاٹ کیک بن گیا۔ واضح ہو کہ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: FA;\" dir=\"RTL\" lang=\"FA\"\u003e۱۹۹۷\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eء میں شائع ہوا تھا اس کے بعد ان کا دوسرا ناول ’’دی منسٹری آف آٹ موس ہیپّی نیس‘‘ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: FA;\" dir=\"RTL\" lang=\"FA\"\u003e۲۰۱۷\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eء میں شائع ہوا اور اس کی بھی گونج عالمی ادب میں برسوں تک رہی ۔ اب ان کی یادیادشت پر مبنی جسے خود نوشت کے زمرے میں بھی رکھا جاسکتا ہے ’’مدر میری کمس ٹو می‘ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: FA;\" dir=\"RTL\" lang=\"FA\"\u003e۲۰۲۵\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eء میں منظر عام پر آیا ہے اور اس سوانحی تحریر نے علمی وادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیاہے اگرچہ اس میں انہوں نے اپنی والدہ ’’میری رائے‘‘ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو فکشن کا روپ دیا ہے اور ایک ماں اور بیٹی کے درمیان جو پاک رشتے ہوتے ہیں اس رشتے کی پیچیدگیوں اور فکری ونظری تضادات کو ایک منفرد اندازِ بیان میں تخلیقیت عطا کی ہے لیکن نہ جانے کیوں اس کتاب کے شائع ہوتے ہی نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی ایک خاص نظریاتی طبقے کے شدت پسندوں کی طرف سے متنازع بنایا جا رہاہے اور خاص کر کتاب کے کور پر ان کی سگریٹ نوشی کرتی تصویر پر نازیبا تبصرے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت ہندوستان میں ان تمام ادیب وشاعر اور انصاف پسند انہ اظہارِ خیال کے علمبرداروں کو نشانہ بنایا جا رہاہے اور انہیںغیر مہذبانہ القاب سے نوازا بھی جا رہاہے جو حقیقت بیانی کو اپنی فکر ونظر کا حصہ بنا تا ہے۔ایسے وقت میں اگر اروندھتی رائے پر جارحانہ تبصرہ کیا جا رہاہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔کیوں کہ اس سوانحی تحریر میں مصنفہ نے اپنے سماج کی روایتی قیود کو نہ صرف توڑنے کی کوشش کی ہے بلکہ معاشرے کی دقیانوسیت کے خلاف آوازِ بغاوت بھی بلند کی ہے۔انہوں نے اپنی ماں میری رائےؔ کو ایک خود مختار ، باغی فکر وذہن کی عورت قرار دیاہے اور اروندھتی رائے نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس کی شخصیت کی تشکیل میں اس کی ماں کے افکارونظریات و عملی کردار کا بنیادی رول ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اروندھتی رائے نے اپنے ناول اور دیگر مضامین میں بھی ہمیشہ پسماندہ اور محروم طبقے کے تئیں بیداری ٔ مہم کی علمبردار رہی ہیں اور بالخصوص آزادیٔ نسواں کی مبلّغ رہی ہیں۔اس تازہ ترین کتاب کا طرزِ بیان ، بیانیہ ہے اور آغاز تا انجام یعنی مصنفہ بچپن سے لے کر اب تک کے تلخ وشیریں تجربات ومشاہدات کو ایک تخلیقی شہ پارہ بنانے کی جو علمی کوشش کی ہے اس میں وہ کامیاب ہیں ۔ اس خود نوشت میں وہ صرف اپنی ذات کی نفسیاتی اور جذباتی پرتوں کو نہیں کھولتیں بلکہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ پورے معاشرے کی تصویر سامنے گردش کر رہی ہے۔ ان کی زندگی میں جس طرح کے مسائل اور مشکلات رہے ہیں جنوبی ہند میں عورتوں کی زندگی کس قدر دشوار کن ہوتی ہے اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں اور یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہندوستانی معاشرے میں جہاں صدیوں تک عورت کو قید وبند میں رکھا گیا وہاں ان کی ماں میریؔ رائے کس طرح اپنے لئے نئی راہ بناتی ہیں اور دوسروں کیلئے مثالی بن جاتی ہیں۔ان کی یادداشتوں پر مبنی یہ واقعاتی تحریر ایک نئے انداز کا تخلیقی تجربہ ہے جس میں انہوں نے منظر نگاری، مکالمہ ، بیانیہ اور جذباتی لہروں کو اپنے مخصوص اندازِ بیان میں پیش کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cbr\u003e \u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اروندھتی رائے کی نثر بھی شاعرانہ اور اوصاف سے بھرپور ہوتی ہے ، ایک خاص طرح کا بہائو ہوتا ہے جس میں بہتی ندی کی طرح سرگم کے سُر سنائی دیتے ہیں ۔ یہ خوبی ’’مدر میری کمس ٹو می‘‘ میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e  \u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eچوں کہ یہ خود نوشت ہندوستانی معاشرے کی آئینہ دار ہے اس لئے بعض مقام پر قاری کو یہ بات کھٹکتی ہے کہ مصنفہ نے اپنی ذاتی زندگی کی تفصیلات کو قدرے طوالت بخشی ہے ۔لیکن میرے خیال میں مصنفہ کے ذاتی تصورات ان جیسی لاکھوں خواتین کے محسوسات واحساسات کے آئینہ دار ہیں ۔اردو زبان وادب کے قارئین کے لئے یہ کتاب بہ ایں معنی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ اردو میں اب اس طرح کی احتجاجی و انقلابی فکر ونظر پر مبنی تحریریں اور بالخصوص خواتین کے ذریعہ کم ہی لکھی جا رہی ہے ۔اس کتاب میں نہ صرف انسانی رشتوں اور تعلقات کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے کے اسباق موجود ہیں بلکہ ماں کی شفقت اور بیٹی کی بغاوت دونوں ایک ایسی دنیا آباد کرتی ہے جو ذہن ودل کو جھنجھورتی بھی ہے اور خود احتسابی پر مجبور بھی کرتی ہے۔کتاب کے اوراق یہ شواہد پیش کرتے ہیں کہ مصنفہ نے اپنی ماں میریؔ رائے کو تعلیمی اصلاحات کی علمبردار اور ایک بہادر خاتون کے طورپر پیش کیاہے ساتھ ہی ساتھ ان کے فکری ونظری تضادات کو بھی بے باکانہ طورپر تحریر کیاہے ۔مختصر یہ کہ اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ اگر فنکار کا ذہن تخلیقیت کی آماجگاہ ہے اور فنِ اظہار پر وہ عبور رکھتا ہے تو اپنی ذاتی زندگی کے بیانیے کو بھی اعلیٰ ادب کا نمونہ بنا سکتا ہے اور اس میں انسانی معاشرے کے تمام تر نشیب وفراز کے ساتھ سیاسی اور سماجی بصیرت وبصارت کا اچھوتا نمونہ پیش کر سکتا ہے۔اس لئے اس کتاب میں ماں اور بیٹی کے درمیان محبت اور نفرت کے قوس وقزح صرف ایک خاندانی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک وجودی اور تخلیقی بحران بھی ہے۔ اس کتاب کو نسائی سیاست اور سماجی انصاف کی جدو جہد کا آئینہ قرار دیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089608782041,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/MotherMaryComestoMeF_22b41ff6-bef2-4de5-a0f0-4bfe17be87e0.jpg?v=1772699004"},{"product_id":"decolonization-and-the-decolonized-albert-memmi-نوآبادیاتی-کا-خاتمہ-اور-آزادی-کا-نیا-افق","title":"Decolonization and the Decolonized | Albert Memmi | نوآبادیاتی کا خاتمہ اور آزادی کا نیا افق","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Rockwell Condensed',serif; mso-bidi-font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eDecolonization and the Decolonized | Albert Memmi\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eنوآبادیاتی کا خاتمہ اور آزادی کا نیا افق\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eالبرٹ میمی\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eکتاب کی اشاعت کے ایک ہفتے بعد ، مجھے \u003cu\u003eریڈیو لیبر ٹیئر \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003eمیں ایک انٹرویو کے لیے مدعو کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eتاہم، نشریات کے ایک دن قبل مجھے فون آیا \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e۔آپ کی باتیں ہمارے سامعین کے لیے نامناسب ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eمیں نے اصرار کیا کہ کم از کم مجھے وضاحت کا موقع دیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eجواب تھا \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e: نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cu\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eلیبریشن\u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e نامی اخبار نے انٹرویو کے لیے ایک نوجوان صحافی بھیجا، جس نے پورا دن میرے ساتھ گزارا، لیکن یہ انٹرویو کبھی شائع نہیں ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eمیں نے اخبار کے ایڈیٹر کو ایک خط بھیجا، مگر اس نے جواب دینے کی بھی زحمت نہ کی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eجس اخبار کا نام \" آزادی تھا، اس کے ایڈیٹر میں خود آزادی کی جرات نہیں تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eتو سوال یہ ہے کہ میں نے کیا کہا ؟ میں نے کیا کیا ؟ کیا میں نے اعداد و شمار ، تاریخی واقعات، یا شخصیات کے بارے میں کوئی سنگین غلطی کی ؟ نہیں میں نے \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eہمیشہ کی طرح معتبر ترین ذرائع سے معلومات حاصل کیں، جیسے کہ میں نے اپنی سابقہ کتاب کو \u003cu\u003eلونائزر اینڈ دی کو لونائزڈ \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eدی\u003c\/u\u003e میں کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cu\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e(Radio Libertaire)\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cu\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e(Liberation)\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cu\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eThe Colonizer and the Colonized\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003ePages 208\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eISBN9786273002798 \u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089608814809,"sku":null,"price":675.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/set_1.jpg?v=1772699005"},{"product_id":"essays-francis-bacon-فرانسس-بیکن-کے-مضامین-فرانسس-بیکن","title":"Essays | Francis Bacon | فرانسس بیکن کے مضامین | فرانسس بیکن","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"center\" style=\"text-align: center;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eفرانس بیکن کے مضامین\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eسر فرانسس بیکن ایک ایسا ادبی آفتاب ہے جس کی فکری ضیاء قرون وسطی کی تیرگی میں عقل و دانش کی روشنی بکھیرتی چلی گئی، اور جس کے قلم سے نکلنے والے الفاظ حکمت و دانائی کے گوہر بن کر ادب کی پیشانی پر سجا دیے گئے۔ وہ نثر کا وہ جادو گر تھا جس نے سادہ لفظوں میں فکری کہکشاں بچھا دی، اور جس کے ہر جملے میں ایک تہہ دار کائنات سمٹی ہوئی ہے۔ اس کی تحریر نہ صرف عقل کو صیقل کرتی ہے بلکہ روح کے دریچوں کو بھی وا کرتی ہے۔ وہ اپنے اسلوب میں ایسا سحر رکھتا ہے کہ قاری کو جملوں کے پیچھے چلتے چلتے خود اپنی ذات کے گنجلک جنگلوں میں جھانکنا پڑتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eفرانس بیکن کی مضمون نگاری الفاظ کا وہ گلشن ہے جہاں ہر خیال ایک گل تر کی مانند مہک رہا ہے ، ہر نکتہ ایک نقر \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eئی نغمے کی طرح گونجتا ہے، اور ہر استدلال ایک آئینہ فہم ہے جو ذہن کی گرد کو صاف کرتا ہے۔ اس کی نثر میں نہ کوئی اضافی بوجھ ہے نہ کسی لفظ کی کاہلی، بلکہ ہر لفظ تراشا ہوا، ہر جملہ تولا ہوا، اور ہر خیال تر از دئے خرد میں پر کھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ بیکن کے مضامین وہ \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eنقر \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eئی \u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eدھارے ہیں جو انسانی فطرت کی پیچیدہ وادیوں سے گزر کر ایک وسیع و عمیق سمندر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جہاں افکار کی موجیں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتی ہیں، اور خیالات کی لہریں فہم و بصیرت کے ساحل سے ٹکراتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eاس کے مضامین زندگی کے اُن پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں جو ازل سے ابد تک ہر انسان کے تجربے کا حصہ رہے ہیں۔ موت ہو یا محبت، اقتدار ہو یا انکساری، دولت ہو یا\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eزیانت، سچائی ہو یا مصلحت بیکن ہر موضوع کو ایسے ہاتھ لگاتا ہے جیسے کوئی ماہر سنگ تراش سنگ خام سے مجسمہ حسن تخلیق کر رہا ہو ۔ وہ نہ صرف سوالات اٹھاتا ہے بلکہ ان کے اندر جھانک کر ان کی روح سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اس کے خیالات خرف میں لیٹے گوہر ہیں، جو قاری کو تدبر ، تعقل اور تفکر کی سیڑھیاں چڑھنے پر آمادہ کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eبیکن کا فلسفہ محض بلند خیالی کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک عملی بصیرت کا علمبردار ہے۔ وہ تخیل کی خیالی پروازوں کو عقل کی رسی سے باندھتا ہے ، اور نظریات کو تجربات کے صحن میں اتارتا ہے۔ اس کا قول \"علم طاقت ہے \" محض نعرہ نہیں بلکہ پوری ایک فکری تحریک کا لب لباب ہے۔ اس کے نزدیک علم محض فکری تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی فلاح، تمدنی ترقی اور معاشرتی تعمیر کا اصل وسیلہ ہے۔ وہ عقل کو انسان کار ہبر مانتا ہے ، اور جس کو اور اک کا پہلا زینہ قرار دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eبیکن کے فلسفیانہ تصورات نے نہ صرف ادب بلکہ سائنس کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کیا۔ وہ مشاہدے، تجربے اور استنتاج کو علم کی بنیاد تصور کرتا ہے۔ اس کی فکری عمارت افلاطون کی تجریدی فضاؤں میں نہیں بلکہ ارسطو کے منطقی خیمے کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔ وہ تصوف کی دھند کو چھانٹ کر ایک ایسی فکری شفافیت پیش کرتا ہے جو ہر ذی شعور کو سچائی کی جانب کھینچ لاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 15.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eتاہم اس کی یہی فکری حقیقت پسندی بعض ناقدین کی نظر میں سرد مصلحت اندیشی بن جاتی ہے۔ وہ اخلاقیات کو مفاد کے ترازو میں تولتا ہے، اور سچائی کو کبھی کبھی نفع و نقصان کے کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ بیکن کا اخلاقی تصور بعض اوقات وہ دشت ہے جہاں صداقت کا پانی کم اور مصلحت کی ریت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس کے مضامین میں وہ سنجیدہ تجزیہ ملتا ہے جو دل کی گہرائیوں کو جھنجھوڑنے کے بجائے ذہن کی پرتیں کھولتا ہے، اور اسی سبب بعض نقاد اسے ایک خشک دانشور اور غیر جذباتی فکری معمار قرار دیتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089611993305,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/farnazsisbecon_cfe9d3bc-1b82-4a69-91bb-60fe9b709cc7.jpg?v=1772699006"},{"product_id":"بھید-بھرے-کہانیاں-ناولٹ-از-اخلاق-احمد-bhaid-bharay-by-akhlaq-ahmad","title":"بھید بھرے کہانیاں ، ناولٹ از اخلاق احمد | Bhaid bharay by akhlaq ahmad","description":"\u003cp\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"City book press","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089612026073,"sku":null,"price":2400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_018a4ea6-f569-4d21-bfa0-f6d92cbe4a13.jpg?v=1772699007"},{"product_id":"کشمیر-کا-المیہ-از-عبدالحق-سہروردی-tragedy-of-kashmir-by-abdulhaq-suharwardi","title":"کشمیر کا المیہ از عبدالحق سہروردی | Tragedy of kashmir by abdulhaq suharwardi","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eاس کتاب میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں مسلم اکثریت کی حکومت ہونے کے با وجود کشمیر تقسیم ہند کے وقت یعنی 1947 ء میں پاکستان میں کیوں شامل نہ ہو سکا۔ اصل قصہ یہ ہے کہ شیخ عبد اللہ اور جواہر لال نہرو کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ اس کے پیچھے لارڈ ماؤنٹ بیٹن ، لیڈی مونٹ بیٹن اور نہرو پرمشتمل ایک سازشی گٹھ جوڑ کار فرما تھا۔مسٹر گاندھی بظاہر کشمیر کی سیاحت کے لیے گئے لیکن وہ مہاراجہ ہری سنگھ کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے پر ذہن تبدیل کرنے میں کام یاب رہے۔ مسلم اکثریت کے اضلاع گورداس پور اور بٹالہ کوانڈیا کے حوالے کر دیا گیا تا کہ وہ سڑک کے ذریعے ایسا رابطہ قائم کر سکے جو اس سے پہلے موجود نہیں تھا۔ کشمیری راہنماؤں کا المیہ یہ ہے کہ شیخ عبداللہ نے اپنی کوتاہ نظری کی بنا پر ہندوستان کے کشمیر پر قبضے کے جائز ہونے پر مہر ثبت کر دی ۔ لیکن آخر میں قبائلی عوام اور پونچھ کے سابق فوجیوں کی دلیرانہ جدو جہد ان علاقوں کو آزاد کرانے میں کام یاب رہی جنھیں آج ہم آزاد جموں و کشمیر کے نام سے جانتے ہیں، اور جس میں گلگت اور بلتستان بھی شامل ہیں ۔ پاکستانی قیادت کے عدم تعاون اور دو جنگ جو دوسروں نے لڑی میں پاکستان کی طرف سے سیز فائر کو تسلیم کرنا بہت مہنگا پڑا ۔ اس کتاب میں ان حقائق کا سراغ بھی ملتا ہے جن کی وجہ سے کشمیری جو سلطان شہاب الدین کے زمانے میں لڑا کا جنگجو اور دلیر ہوا کرتے تھے، وہ دو سو سال کے طویل سکھ عہد میں مسلسل قلم و جبر کے اتنے کمزور کسی طرح ہو گئے؟ تاہم 1930ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف مقامی سیاسی تحریک منظم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر کشمیر مسلم کانفرنس بھی وجود میں آئی ۔ کشمیری مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا جو بعد میں شیخ عبداللہ کی قیادت میں غیر مقبول نیشنل کانفرنس اور اور مقبول مسلم کا نفرنس ، جس کے پاس قیادت کا فقدان تھا، میں تقسیم ہوگئی ۔ اس کتاب سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کس طرح مسٹر نہرو نے شیخ عبداللہ کو ایک خاص مقصد کے لئے چنا اور اُس کی شخصیت کو کرشماتی اور دیو مالائی بتانے میں کس کس طرح اس کی مدد کی اور اُسے کشمیری لیڈر کے طور پر منوایا کہ جیسے وہ کشمیریوں کا نجات دہندہ ہو۔ اس کے ساتھ خصوصی تعلقات قائم کیے اور آخر کار اسے انڈیا کے ساتھ الحاق پر راضی کر لیا۔ اس کتاب سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ ریڈ کلف کمیشن کو شامل کر کے اس پیرائے میں سازشیں کرتے ہوئے مجوزہ حد بندیوں کو تبدیل کیا گیا اور کس طرح مسٹر نہرو نے اس ساری صورت حال کا بندو بست کیا۔ اس مرحلے پر یہ حقیقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ مسٹر جواہر لال نہرو خود بھی کشمیری تھے ۔ نہ صرف کشمیری بلکہ ہندو برہمن بھی تھے، لہذا اس کی تحریک اور اسے حاصل کرنے کا جذبہ ان کے دل میں موج زن تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ یہ خوشامدی بھارتی قیادت اور ملکہ کے انڈیا میں نمائندے کی زبردست چالاکی کاور چال بازی کا عملی نمونہ تھا\u003c\/p\u003e","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089612058841,"sku":null,"price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_52096bb2-ece2-4e4d-907d-fbbbcdb3f75b.jpg?v=1772699008"},{"product_id":"mitti-ki-sanjh-aur-rais-e-azam-by-tahira-iqbal-مٹی-کی-سانجھ-اور-رئیس-اعظم-از-طاہرہ-اقبال","title":"MITTI KI SANJH AUR RAIS-E-AZAM by Tahira iqbal | مٹی کی سانجھ اور رئیس اعظم از طاہرہ اقبال","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجدید فكشن میں طاہرہ اقبال كی شناخت اور انفرادیت مستحكم ہو چكی۔ وہ اُردو افسانوی ادب كو خوبصورت كہانیوں كے تین مجموعے ’’سنگ بستہ‘‘، ’’ریخت‘‘ اور ’’گنجی بار‘‘ دے چكی ہیں اور اب ’’مٹی كی سانجھ‘‘ اور ’’رئیس اعظم‘‘ جیسے دو بھرپور ناول، جو اُن كے پھیلتے اور وسیع تر ہوتے فنی اور فكری آفاق كی نشان دہی كرتے ہیں۔ طاہرہ اقبال كی انفرادیت ان كے اچھوتے اسلوب میں پوشیدہ ہے جو بےساختگی، تیكھے پن، پنجابیت اور دل كش تشبیہوں، استعاروں اور علامتوں سے مل كر بنا ہے۔حقیقت یہ ہے كہ انھوں نے فكشن كے مروجہ اسلوب كو الٹ پلٹ كر ركھ دیا ہے اور اپنے اظہار كے لیے ایك بالكل ہی نئی، انوكھی مگر خوبصورت تخلیقی زبان وضع كی ہے جو مروّجہ اُردو اورمقامی زبانوں كے تال میل سے معرضِ وجود میں آئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں كہ دونوں ناول وسطی پنجاب كی جاگیرداری معاشرت كا بھرپور مطالعہ پیش كرتے ہیں۔ ان میں اس دیہی وسیب كے قریباً سارے ہی رنگ اور زاویے سمٹ آئے ہیں۔ اب تك ہم جاگیرداری رہتل كے بارے میں روایتی اور سرسری انداز كی فلمیں اور ڈرامے دیكھتے رہے یا كبھی كبھار كوئی افسانہ پڑھنے كو مل جاتا جو جاگیرداری كے كسی ایك پہلو كو روشن كرتا۔ مگر طاہرہ اقبال نے اسے زور دار اسلوب كے ساتھ بھرپور طریقے سے لكھا اور اپنے فرسٹ ہینڈ نالج كو فكشن كی فنی شكل دی۔ مجھے یقین ہے كہ اپنے دلكش اسلوب، دیہی معاشرت كی پیش كش اور كردار نگاری كے حوالے سے یہ دونوں ناول اُردو ادب میں بہت بڑا اضافہ تصور كیے جائیں گے۔ (منشا یاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eطاہرہ اقبال جدید اُردو فکشن میں ایک مخصوص کلچر، زبان اور اسلوبِ حیات کی ترجمان بن کر سامنے آئی ہیں۔ ان کی کہانیاں پنجاب کی آب و ہوا، یہاں کی مٹی کی بُو باس، موسموں کے رنگ ڈھنگ اور سماجی زندگی کے اتار چڑھاؤ کی بہت قریب سے کھینچی ہوئی تصویریں ہیں۔ گنجی بار اور نیلی بار کے علاقوں کی تھمی ہوئی اور متحرک فضاؤں، ان میں رچی بسی آوازوں، گھلے ملے چہروں اور مسلسل رواں دواں کہانیوں کو طاہرہ اقبال نے زاویے بدل بدل کر دیکھا، محسوس کیا اور بیان کیا ہے۔ ’’مٹی کی سانجھ‘‘ اور ’’رئیسِ اعظم‘‘ کا موضوع اور ماجرا بھی اسی علاقے اور اس کی قدیم اور جدید زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ گہرے پکے رنگوں کی امین اس دھرتی کے انگ انگ کا احوال یہاں کھلتا ہے اور ایک تازہ تاثر کے ساتھ اپنی پہچان کراتا ہے۔زبان و بیان اور اسلوبیاتی پیش کش میں طاہرہ اقبال کی گرفت خاصی مضبوط ہے۔ (رشید امجد)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089615237337,"sku":null,"price":875.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_e7e2e3e9-f871-49c3-9086-8080fd21b761.jpg?v=1772699009"},{"product_id":"girdaab-e-hairat-by-anees-ishfaq-گرداب-حیرت-از-انیس-اشفاق","title":"GIRDAAB-E-HAIRAT by anees ishfaq | گرداب حیرت از انیس اشفاق","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eانیس اشفاق کا تعلق تہذیبی شہر لکھنؤ سے ہے۔ انھوں نے اپنی تعلیم اوّل تا آخر اسی شہر سے حاصل کی اور 1983ء میں وہ یہیں کی دانش گاہ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو میں لیکچرر کے مستقل عہدے پر فائز ہوئے۔ کوئی 32 برس درس و تدریس کی خدمات انجام دینے کے بعد 2012ء میں وہ پروفیسر اور صدر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔ انیس اشفاق اہم اور نامور ادیبوں کی علمی صحبتوں میں جوان ہوئے اور انہی صحبتوں نے ان کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ تخلیق، تنقید اور تحقیق سے متعلق اب تک ان کی 25 کتابیں اور 300سے زائد مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ اُن کی مشہور تنقیدی کتابوں میں ’’اُردو غزل میں علامت نگاری‘‘، ’’ادب کی باتیں‘‘، ’’بحث و تنقید‘‘، ’’ غزل کا نیا علامتی نظام‘‘ اور ’’غالب دنیائے معانی کا مطالعہ‘‘ شامل ہیں۔ ’’گردابِ حیرت‘‘ سے قبل انھوں نے چار بہت اہم ناول ’’دکھیارے‘‘ (2014ء)، ’’خواب سراب‘‘ (2017ء)، ’’پری ناز اور پرندے‘‘ (2018ء) اور ’’ھیچ‘‘ (2024ء) سپرد قلم کیے ہیں۔ ان چاروں ناولوں کو بر صغیر میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے ’’کتبے پڑھنے والے‘‘ کو بھی خاصی شہرت ملی ہے۔ 2016ء میں شائع کراچی سے متعلق اُن کے سفرنامے ’’درِ شہرِ دوستداراں‘‘ کو بھی پاک و ہند میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ 2019ء میں ان کا شعری مجموعہ ’’ ایک نیزہ خونِ دل‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ انیس اشفاق نے مشہور ادیبوں سے متعلق مونو گراف بھی لکھے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کتاب ’’نیّر مسعود: ہمہ رنگ ہمہ داں‘‘ کو ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا۔ ان کی دو کتابیں ’’میرے لڑکپن کا لکھنؤ‘‘ اور ’’خاکے‘‘ اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ انیس اشفاق نے بہت سے قومی اور عالمی ادبی اجتماعات میں شرکت کی ہے۔ وہ بہت سے باوقار ادبی اداروں کے رکن ہیں اور انھیں ملک اور بیرونِ ملک کئی اہم ادبی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089618514137,"sku":null,"price":975.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_4778c991-db26-42f3-a8f9-ea2be41b914d.jpg?v=1772699014"},{"product_id":"a-grain-of-wheat-by-nagugi-wa-thiong-ایک-دانہ-گندم-کا-از-نگوگی-وا-تھیونگ","title":"A grain of wheat by nagugi wa thiong | ایک دانہ گندم کا از نگوگی وا تھیونگ","description":"\u003cp\u003eناول A Grain of Wheat کینیا کے مشہور ادیب نگوگی وا تھیانگو کا ایک طاقتور اور فکر انگیز افسانوی شاہکار ہے۔ یہ کہانی برطانوی نوآبادیاتی دور کے آخری دنوں اور آزادی کی جدوجہد کے پس منظر میں آگے بڑھتی ہے۔ ناول میں وفاداری، قربانی، غداری، محبت اور آزادی کی قیمت جیسے اہم موضوعات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکہانی مختلف کرداروں کے ذریعے یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح آزادی کی تحریک نے عام لوگوں کی زندگیوں، رشتوں اور اعتماد کو بدل کر رکھ دیا۔ خاص طور پر مرکزی کردار کی اندرونی کشمکش اور ایک خفیہ غداری کا راز پورے ناول میں سنسنی اور جذبات کو گہرا بناتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e*ایک دانہ گندم (ناول)*\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eنگوگی واتھیونگو\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eترجمہ: قربان چنا\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقیمت: 1500\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089621790937,"sku":null,"price":1175.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_928b304f-2517-4edc-a9da-4c539d93b07c.jpg?v=1772699016"},{"product_id":"مزہب-کیوں-ضروری-ہے-از-ہسٹن-سمتھ-why-religion-mateers-by-huston-smith","title":"مزہب کیوں ضروری ہے از ہسٹن سمتھ | Why religion mateers by huston smith","description":"\u003cp\u003eمذہب کیوں اہم ہے معروف مصنف اور مذہبی اسکالر ہسٹن اسمتھ کی ایک فکرانگیز اور بصیرت افروز کتاب ہے جس میں وہ جدید دور کے بڑے سوالات کا گہرا تجزیہ کرتے ہیں۔ اسمتھ دلیل دیتے ہیں کہ سائنس، ترقی اور ٹیکنالوجی کے باوجود انسان کی روحانی بھوک اب بھی باقی ہے — اور اسے سیراب کرنے کے لیے مذہب ناگزیر ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکتاب میں بتایا گیا ہے کہ مادیت پرستی اور جدید طرزِ فکر نے انسان کو سہولت تو دی ہے، لیکن زندگی کا مقصد، اخلاقی رہنمائی اور روح کی پیاس بجھانے کی صلاحیت صرف مذہب کے پاس ہے۔ اسمتھ واضح کرتے ہیں کہ دنیا کے بڑے مذاہب انسان کو نہ صرف معنویت دیتے ہیں بلکہ اسے ایک وسیع تر کائناتی حقیقت سے جوڑتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ کتاب ہر اس شخص کے لیے اہم ہے جو جاننا چاہتا ہے کہ جدید دنیا میں مذہب کا کردار کیوں ابھی تک زندہ، مؤثر اور انسانی زندگی کے لیے بنیادی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e*مذہب کیوں اہم ہے*\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\"دور الحاد میں انسان کی روح کا مقدر\"\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eہسٹن اسمتھ\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eترجمہ: ناصر فاروق\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقیمت: 1500\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089621823705,"sku":null,"price":1175.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_75e2a34a-eb86-4a65-8c0c-02850e1a7ebc.jpg?v=1772699017"},{"product_id":"secret-history-of-the-world-دنیا-کی-خفیہ-تاریخ","title":"Secret history of the world | دنیا کی خفیہ تاریخ","description":"\u003cp\u003e“دی سیکرٹ ہسٹری آف دی ورلڈ” ایک ایسی غیر معمولی کتاب ہے جو دنیا کی پوشیدہ تاریخ، خفیہ جماعتوں، روحانی روایات اور انسانی تہذیب کے پسِ پردہ کام کرنے والی طاقتوں کے بارے میں چونکا دینے والا زاویہ پیش کرتی ہے۔ جوناتھن بلیک قارئین کو بتاتے ہیں کہ کس طرح قدیم زمانوں سے لے کر آج تک مختلف رازداں گروہ، فلسفی، صوفی اور حکمت دان انسانی شعور اور دنیا کے دھارے کو متاثر کرتے رہے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ کتاب مذہب، اساطیر، جادو، روحانیت اور تاریخ کے درمیان ایسے ربط دکھاتی ہے جس سے دنیا کو دیکھنے کا بالکل نیا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حیرت، تجسس اور گہرائی سے بھرپور یہ کتاب اُن قارئین کے لیے ہے جو عام تاریخ سے ہٹ کر کچھ زیادہ جاننا چاہتے ہیں—وہ راز جو کتابوں میں نہیں ملتے، مگر تہذیبوں کی جڑوں میں چھپے ہوئے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e*دنیا کی خفیہ تاریخ*\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجوناتھن بلیک\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقیمت: 2500\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمترجم: تاج بہادر تاج\u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089625002201,"sku":null,"price":1875.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_6b07b0cd-df08-436e-bd07-bec520cd8506.jpg?v=1772699018"}],"url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/collections\/new-arrival.oembed?page=6","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}