{"title":"Hassan Manzar","description":"","products":[{"product_id":"untitled-29oct_00-37","title":"العاصفہ از حسن منظر | Alasifa by Hasan manzar","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر حسن منظر کا تازہ ترین ناول ’’العاصفہ‘‘ پڑھا اور مبہوت ہو گیا۔ کتنے بے خبر ہیں ہم لوگ، خلیجی ممالک میں بہنے والی دولت کی گنگا تو دیکھتے ہیں لیکن جہل، کرب، بےچارگی اور بد نفسی کے اُس معاشرے سے قطعاً ناآشنا ہیں جس نے انسان سے اُس کی انسانیت چھین لی ہے۔ میرا ایک شعر ہے ؎\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہے پسِ دیوار منظر دیدنی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک دروازہ اِدھر بھی چاہیے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر صاحب نے ’’العاصفہ‘‘ کے ذریعے وہ دروازہ کھول دیا ہے۔ کیا مشاہدہ ہے زندگی کی پسپائی اور ذلت کا۔ ماحول، فضا اور کرداروں کا جو سچا اور حقیقت پسندانہ مرقع تیار کیا ہے وہ اُردو ناول میں ایک نئے طرزِ احساس اور نئے فکری رویے کی نشان دہی کرتا ہے۔ ’’العاصفہ‘‘ اُردو ناول کے فن میں قابلِ قدر اضافہ ہے اور اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو دیکھنے اور محسوس کرنے کی چیزیں ہیں انھیں ہم دولت کی چکا چوند میں دیکھ ہی نہیں سکتے۔ ڈاکٹر صاحب! ’’العاصفہ‘‘ آپ کا بڑا ادبی کارنامہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر اسلم فرخی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089654100185,"sku":null,"price":775.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_7c30d760-343d-4217-9c27-a166ea16470a.jpg?v=1772699043"},{"product_id":"داخلے-کا-دن-از-حسن-منظر-dakhly-ka-din-by-hassan-manzar","title":"داخلے کا دن از حسن منظر \/ dakhly ka din by Hassan manzar","description":"\u003cp\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48091869839577,"sku":null,"price":425.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_af0e0432-3f60-45c3-8121-a134dcb98a20.jpg?v=1772701593"},{"product_id":"insaan-ka-daish-by-hassan-manzar-انسان-کا-دیش-از-حسن-منظر","title":"INSAAN KA DAISH by Hassan Manzar | انسان کا دیش\n\nاز حسن منظر","description":"\u003cheader class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"header-fixed\"\u003e\n\u003cdiv class=\"pt-2\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/header\u003e\n\u003cdiv id=\"main\"\u003e\n\u003cdiv class=\"container-fluid\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-lg-9 col-xl-10 col-xs-12 panel\"\u003e\n\u003cdiv id=\"main-page\" class=\"container-md\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e’’... اب آپ کی کہانیاں پڑھ کر محسوس ہوا کہ اُن دوست نے آپ کی تعریف میں مبالغے کے بجائے کچھ کم گویائی سے کام لیا تھا۔‘‘\u003cbr\u003e(فیض احمد فیض)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eآپ کی کہانیوں کا مختلف مزاج اور لہجہ ہے۔ یہ انفرادیت نہ صرف موضوعات میں بلکہ اُسلوب اور ُبنت کاری میں بھی اپنی پہچان رکھتی ہے۔ اس دُھند اور گھٹن میں آپ کی یہ کہانیاں جینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔\u003cbr\u003e(رشید امجد)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eآپ کی کتاب صہبا نے بھیجی ہے۔ آپ بہت میٹھے لگے ہیں، اس لیے گھونٹ گھونٹ پی رہا ہوں۔\u003cbr\u003e(جوگندر پال)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eاُردو افسانہ نگاری کے موجودہ تناظر میں حسن منظر کا فن بہت جاذبِ توجہ ہے لیکن ان کے افسانے پڑھ کر عموماً ایسا لگتا ہے جیسے کہیں ایک آنچ کی کمی رہ گئی ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک آنچ کی کمی دراصل وہ ’’اَن کہی‘‘ رَمز ہے جو اِن کی کہانیوں کے بین السطور پنہاں ہوتی ہے اور جس کی بازیافت قاری کا حاصلِ مطالعہ۔\u003cbr\u003e(ڈاکٹر محمد عمر میمن )\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eجب کوئی پاکستان سے جانے والا قرۃ العین حیدر صاحبہ سے ملتا ہے اور پوچھنے پر بتاتا ہے، حیدرآباد سندھ سے آیا ہے تو وہ کہتی ہیں، ’’حسن منظر صاحب کے شہر سے!‘‘\u003cbr\u003e(جامی چانڈیو)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eآج کے لکھنے والوں کو کہانی لکھنے کا فن آپ سے سیکھنا چاہیے۔ بےحد دلچسپ اور بےحد خوبصورت کہانیاں ہیں۔\u003cbr\u003e(شارب ردولوی)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eحسن منظر کی کہانیوں نے روزِ اوّل سے فکر کی متانت اور تکنیک کی پُرکار سادگی سے چونکا دیا تھا۔ حسن منظر افسانہ کے نحیف پیکر میں بڑے سنگین، کثیرالجہت اور آج کے چبھتے ہوئے موضوعات سمونے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ بھی پورے معاشرتی تناظر میں۔ یہی نہیں وہ ان موضوعات کا احاطہ نفسیاتی اور فلسفیانہ دونوں سطحوں پر ایک ساتھ کرتے ہیں، اس کے لیے وہ کبھی فینٹسی کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ اکثر افسانوں میں ان کا تخلیقی رویہ افسانہ کے بجائے ناول کے تخلیقی عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔ یعنی یہ کہ وہ بڑے وسیع تناظر میں کہانی کا تار و پود تیار کرتے ہیں۔ معمولی لیکن معنی خیز جزئیات کو کہیں نظرانداز نہیں کرتے اور کئی طرح کے کردار ان کی گرفت میں رہتے ہیں جن کے تضاد اور ترکیب سے وہ افسانے میں دلچسپی کی لہریں پیدا کرتے ہیں۔ یہ تجربہ اپنی جگہ اہم سہی لیکن اس کے نتیجے میں ان کے اکثر افسانوں میں تعمیر اور تراش کی وہ دلکشی اور نکیلاپن نہیں آ پاتا جسے اکثر قارئین افسانے میں تلاش کرتے ہیں، تکنیک کے اعتبار سے وہ کہیں دستاویزی اور صحافتی انداز برتتے ہیں اور کہیں بیانیہ میں انسانی فطرت کے داخلی نگارخانوں کی سیر کراتے ہیں۔\u003cbr\u003e(ڈاکٹر قمر رئیس)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eحسن منظر کو دیکھنے دکھانے کا فن خوب آتا ہے۔ اس کا افسانہ بصارت اور بصیرت کی آمیزش سے پیدا ہوتا ہے۔ بصارت زندگی کے حسن و قبح کو کیمرے کی سچائی کے ساتھ دیکھتی ہے اور بصیرت ایکسرے کے تجزیاتی عمل سے اس کی تصدیق کرتی ہے۔ انسانی فطرت اور نفسیات کا کوئی پہلو اس کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہوتا۔ اس کے افسانے ایک ایسے سیلانی کے سفر کی روداد سناتے ہیں جو اپنی فکر کا چراغ لے کر اس انسان کی تلاش میں نکلا ہے جو زندہ ہو اور دوسروں کے زندہ رہنے کے حق کو تسلیم کرتا ہو۔ اس نے دُنیا کی خاک چھانی ہے اور ملک ملک کی خاک سے سونے کے ذرّے جمع کیے ہیں۔ یہی سنہری ذرّے اس کے افسانوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اُردو افسانے میں حسن منظر کی آواز مانوس اور جاندار ہونے کے ساتھ ساتھ نئی بھی ہے اور منفرد بھی۔ اس کے افسانے بیدار ی کے خواب ہیں جو آپ اپنی تعبیر ہوتے ہیں۔\u003cbr\u003e(الیاس عشقی)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eاگر آپ ان فہرستوں کو شک کی نظر سے دیکھیں جو ہمارے افسانے کے مُبصّر، کسی مخصوص ادبی گروہ کے زیرِاثر یا بعض رائج الوقت اسالیب سے مرعوب ہو کر بناتے ہیں تو حسن منظر کی افسانہ نگاری سے ربط قائم کرنا مشکل نہیں اور یہ رابطہ یقیناً ایک ایسے افسانہ نگار سے ہو گا جس کی واقعیت میں حساسیت کی گہری سطحیں بھی ہیں، جس کا مشاہداتی دائرہ وسیع ہے کہ اس دائرے میں مختلف خِطّوں کے کرداروں سے تعارف ہو سکتا ہے جس کے ہاں انسانی دُکھ سُکھ کی پہچان کے کئی رنگ ہیں اور جس کے افسانوی لہجے میں مختلف نسلی اور لسانی گروہوں کی بولی کے ذائقے بھی ملتے ہیں اور جو اِنسانی مسائل اور اِنسانی رشتوں کو ’’خبر‘‘ کی سطح کے پار دیکھنے کا گُر بھی جانتا ہے۔\u003cbr\u003e(ڈاکٹر سہیل احمد خان )\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eحسن منظر کے افسانے پڑھ کر سب سے پہلا خیال یہ آتا ہے کہ مدتوں بعد کسی افسانہ نگار نے سماجی زندگی کی حقیقی تصویرکشی بڑی جراَت کے ساتھ کی ہے۔ ان کے افسانوں نے نہ صرف اُردو افسانوی ادب میں معیاری تخلیقات کا اضافہ کیا ہے بلکہ مختصر افسانہ نگاری کا وہ اعتبار بھی بحال کیا ہے جو مصلحت کوشی اور منافقت کے ہاتھوں مجروح ہو چکا تھا۔ حسن منظر نے اپنے افسانوں میں جزیات نگاری کو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے، جس سے ان کی کہانیوں میںدلچسپی کا عنصر بھی اُبھرا ہے اور معنویت بھی پیدا ہوئی ہے۔ اپنے افسانوں میں انھوں نے نہ تو محض روایت پسندی سے کام لیا ہے اور نہ روایت شکنی کو اپنایا ہے کیونکہ ان کے پیش نظر سب سے اہم مقصد اپنے موضوعات کو ان کی تمام جزیات و تفصیلات کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پُراثر انداز میں اپنے قاری تک پہنچا کر اس کے شعور کی تشکیل کرنا ہے۔\u003cbr\u003e(خالد وہاب)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eملکوں ملکوں، شہروں شہروں گھوم پھر کر اپنی کہانیاں حاصل کرنے والے حسن منظر اُردو افسانے میں ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ موضوعات کے تنوع، بدلتے ہوئے منظرنامے، تنقیدی انداز کی حامل واقعیت اور لب و لہجے کا امتیاز ان کی وہ خصوصیات ہیں جو اُن کو دوسرے افسانہ نگارون سے الگ کر دیتی ہیں، جس کا نقش مصنّف کے معروضی نقطۂ نظر اور گہری انسان دوسری کی وجہ سے اور بھی نُمایاں ہو جاتا ہے۔\u003cbr\u003e(ڈاکٹر آصف فرخی)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48093899489497,"sku":null,"price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/FB_IMG_1690475177767.jpg?v=1772703934"},{"product_id":"guzre-din-by-hasan-manzar-گزرے-دن-از-حسن-منظر","title":"Guzre Din by Hasan Manzar | گزرے دن از حسن منظر","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاس وقت ہمارے دو سینئر ناول نگار اور دو ’’بزرگ‘‘ شاعر ہیں جن کی کتب انھی کے تجویز کردہ املا اور تزئین کاری سے شائع ہوں، ان کے انگریزی میں تراجم ہوں تو وہ ادب کے نوبیل انعام کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ ان میں سیّد حسن منظر نمایاں ترین ہیں، اس لیے کہ شاید ہی کوئی اور ناول نگار ہو جو صحائفِ الہامی سے شناسائی رکھتا ہو مگر برہمنیت کا شکار نہ ہو۔ جو طب اور نفسیات کا ڈاکٹر ہو مگر مشکل علاقوں اور لوگوں میں کام کرتا رہا ہو۔ برص اور جذام کے مرض کو چھوت سمجھنے والوں کے درمیان مریض کے اپنے بدن پر دوائی کا لیپ کرکے وہاں کے لوگوں کے وہم کو دُور کرتا رہا ہو۔ وہ پریم چند سے محبّت کرتا ہو مگر اس کا سیکولر اور ترقّی پسند ہونا اسے نائیجیریا کے مسلمان رہنما (ابوبکر تفاوا بلیوا) کے خلاف فوجی بغاوت اور ہلاکت کا نوحہ لکھنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ دورانِ ملازمت چوروں اور قبضہ گیروں نے اس کو مال اسباب سے محروم کیا مگر انسانی اقدار سے بے تعلّق نہیں ہونے دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ گزرے دن‘‘ ایک تخلیق کار کی ہی آپ بیتی نہیں، ایک فرض شناس معالج، انسانوں، زبانوں، نسلوں اور عادتوں کی رنگا رنگی یا بوقلمونی کو سمجھنے میں صرف مشاہدے اور تجربے کو کافی خیال نہیں کرتا، اس کے لیے تاریخی اور تہذیبی ماخذات تلاش کرتا، ان کا مطالعہ کرتا اور تجزیہ کرتا دکھائی دیتا ہے، پاکستان کے مشکل منظر نامے سے تقابل بین السطور موجود ہے اور کچھ ملال بھی ہوتا ہے کہ اس کے وسیع طبی اور تمدنی تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے ہمارے اربابِ اختیار نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس صورتِ حال کا مداوا ’’بک کارنر جہلم‘‘ کے امر شاہد اور گگن شاہد عمدہ طباعت اور یادگار تصویروں کے ساتھ ’’گزرے دن‘‘ کی اشاعت سے کر رہے ہیں جن کے لکھنے میں ان کی راتوں کا اضطراب بھی شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر انوار احمد)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48093899587801,"sku":null,"price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/FB_IMG_1690475170275.jpg?v=1772703936"},{"product_id":"dhani-bakhsh-ke-betay-by-hassan-manzar-دھنی-بخش-کے-بیٹے-از-حسن-منظر","title":"DHANI BAKHSH KE BETAY by Hassan Manzar | دھنی بخش کے بیٹے\nاز حسن منظر","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر حسن منظر کے ناول ’’دھنی بخش کے بیٹے‘‘ پر اگر اُن کا نام نہ بھی لکھا ہو تو میں کسی توقف کے بغیر پہچان لوں گا کہ اس کا مصنف حسن منظر کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ ان کے موضوعات اُردو کے تمام افسانہ نگاروں سے الگ ہیں۔ جتنا بھی حسن منظر نے لکھ دیا اتنا سچ شاید آج کوئی افسانہ نگار نہیں لکھ رہا۔ وہ سجاد ظہیر سے داد لے چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(انور سدید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسن منظر نے جو ناول لکھے ان کی ایک کتاب ’’دھنی بخش کے بیٹے‘‘ جو مجھے بڑی اہم یوں معلوم ہوتی ہے کہ سندھ کے دیہات کے پس منظر میں اتنی تفصیل اور اتنی گہرائی کے ساتھ شاید ہی کوئی کتاب آئی ہو اور مجھے یقین ہے کہ حسن منظر کے اس ناول کو جب یہاں زیادہ لوگ پڑھیں گے تو انھیں لگے گا کہ اس میں جو ایک کشمکش اور جدّوجہد ہے اس سے کچھ مماثلت محسوس ہو گی تو اس طرح کا ناول سامنے آیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر آصف فرخی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسن منظر کے ناول تاریخ، مذہب، بشریات اور نفسیات کے مواد سے تعمیر ہوتے ہیں اس لیے انھیں بہت توجہ سے پڑھنا چاہیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر انوار احمد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ ایک طرح سے بر صغیر پاک و ہند کی بھی کہانی ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی ’’ نال‘‘ تو ایک ہی جگہ گڑی ہے۔ ہندوستانی تاریخ کے ساتھ ساتھ تقسیم کے درد کے سماجی، معاشرتی، سیاسی پہلوؤں کو بھی اس ناول میں اُجاگر کیا گیا ہے بلکہ ایک ناقدانہ نظر بھی ڈالی گئی ہے اور بڑی صاف گوئی سے۔ یہ ناول دونوں ملکوں کی فرقہ وارانہ سوچ کو بھی آئینہ دکھاتا ہے۔ اس ناول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ضخیم ہوتے ہوئے بھی زبان کی چاشنی، روانی اور دلچسپ انداز بیان قاری کو ایک ہی بیٹھک میں ختم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ناول کا ہر کردار زندگی سے بھرپور لگتا ہے۔ لگتا ہے وہ ہمارے آس پاس کا جانا پہچانا چہرہ ہے، ابھی کہیں سے نمودار ہوگا اور ہم سے اپنی دُکھ بھری کہانی بیان کرنے لگے گا۔ یہی خصوصیت اس ناول کو اپنی پہچان بنانے کے لیے کافی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شلپائن پبلشر، دہلی - ناشر ہندی ایڈیشن\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48093899751641,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/FB_IMG_1690475090287.jpg?v=1772703937"}],"url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/collections\/hassan-manzar.oembed","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}