{"title":"Fyodor Dostoevsky","description":"","products":[{"product_id":"the-double-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Double by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eYakov Petrovich Golyadkin is an anxious and socially awkward clerk whose fragile world begins to unravel with the sudden appearance of his double, a charming, confident replica who infiltrates his life and slowly supplants him. As Golyadkin’s grip on reality loosens, he is drawn into a nightmarish spiral of paranoia, humiliation, and existential dread. Written early in Dostoyevsky’s career, The Double anticipates the psychological depth and thematic complexity of his later masterpieces. It is a haunting exploration of self-division, societal pressure, and the fragility of the human psyche, delivered with biting satire and surreal intensity.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089533481177,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100638.webp?v=1772698936"},{"product_id":"the-eternal-husband-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Eternal Husband by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eVelchaninov, a proud and self-assured bachelor, unexpectedly runs into Pavel Pavlovich Trusotsky, a peculiar man who deeply unsettles him. He soon recognizes him to be the husband of Natalia, a woman with whom Velchaninov once had a passionate affair. Natalia is now dead. One day, Trusotsky pays Velchaninov a surprise visit. Then he visits him again and again. These visits further unsettle Velchaninov. Soon, he begins to realize that Trusotsky’s return to his life is no coincidence and it may be ill-omened.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089533513945,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100652.webp?v=1772698937"},{"product_id":"the-meek-one-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Meek One by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eSet in the 19th-century Russia, The Meek One, also known as A Gentle Spirit, is a retrospective account of an ill-fated marriage of a pawn- broker and a teen girl, who, as suggested at the beginning of the narrative, is now dead. But, is her death so sudden as it appears from her husband’s account? Wasn’t she dying every day in a loveless marriage? A poignant exploration of human psychology and the intricacies of relationships, The Meek One is a timeless work of literature.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089536692441,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100546.webp?v=1772698944"},{"product_id":"the-gambler-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Gambler by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eAlexei Ivanovich, a passionate and impulsive young tutor, is an employee of a fallen Russian general. He falls madly in love with the general’s daughter, Polina, and agrees to gamble on her behalf—an act that propels him into the seductive, destructive world of chance and obsession. Inspired by Dostoyevsky’s own compulsive entanglement with roulette and loss, The Gambler is set in a fictional European spa town. It captures the volatility of human desire and the feverish highs and humiliating lows of gambling addiction. Both intensely personal and universally resonant, it stands as a taut and vivid portrait of the allure of risk and the psychological toll it exacts.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089536725209,"sku":null,"price":375.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9786275100607.webp?v=1772698939"},{"product_id":"the-brothers-karamazov-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The Brothers Karamazov by Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eFyodor Karamazov is found dead one night. An epicurean and a compulsory liar, he was not a good father either. Therefore, his death raises the question of parricide. It could be any of his sons, as all seem to have their own reasons to get rid of him. It could be anybody else too. But who? The Brothers Karamazov is a superb murder mystery. This is, however, just one of its qualities and merely the opening of an impassable labyrinth. Not only does Dostoyevsky skilfully initiate in it profound philosophical and theological debates, exploring themes such as the existence of God, free will, and the nature of evil but he also deeply examines the conflict between human freedom and divine authority. One of the best novels in history, The Brothers Karamazov is a rich and thought-provoking exploration of faith, doubt, and the human condition, leaving readers with profound questions about the essence of life and morality. Serialized in The Russian Messenger in 1879 and 1880, it was published in the book form a few months before Dostoyevsky s death in February 1881.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089536757977,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/66c197265e21e1723963174.jpg?v=1772698940"},{"product_id":"nihayat-afsos-naak-waqia-by-fyodor-dostoevsky-نہایت-افسوس-ناک-واقعہ-از-ظ-انصاری","title":"NIHAYAT AFSOS-NAAK WAQIA by FYODOR DOSTOEVSKY \/ نہایت افسوس ناک واقعہ از ظ انصاری","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’’نہایت افسوس ناک واقعہ‘‘ نامی چھوٹی سی کہانی (1862ء) میں دستوئیفسکی نے اسی زمانے کے مسائل یعنی ساتویں دہائی کے واقعات اور مسائل کو لیا ہے۔ دستوئیفسکی اس کو اس طرح شروع کرتے ہیں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یہ افسوس ناک واقعہ اس زمانے میں پیش آیا جب ہمارے وطن عزیز کا نوجیون بےپناہ جوش و خروش اور سادہ و پُرکار ہیجان کے ساتھ شروع ہوا.....‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کہانی میں اعتدال پرستوں پر طنز ہے۔ کہانی کے ہیرو، راجدھانی کے ’’ترقی پسند‘‘ جنرل پرالینسکی کے زندگی کے سطحی نظریے، خود پسندی اور مقبولیت کے لیے دوڑ دھوپ کو نمایاں طور پر پیش گیا ہے۔ ’’اونچے لوگوں‘‘ پر تیز طنز کے ساتھ ’’نہایت افسوس ناک واقعہ‘‘ میں، غریبوں، بھک منگوں، پیٹرزبرگ کے غریب محلوں کی زندگی اور انسانی تعلقات کے رکیک پہلوؤں کے المیے کو بھی عریاں کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089539936473,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/686835f61322d1751660022.jpg?v=1772698941"},{"product_id":"gambler-by-fyodor-dostoevsky-گیمبلر-از-ظ-انصاری","title":"GAMBLER by FYODOR DOSTOEVSKY \/ گیمبلر  از ظ انصاری","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089540002009,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/686616dce28401751520988.jpg?v=1772698942"},{"product_id":"chacha-ka-khawab-by-fyodor-dostoevsky-چچا-کا-خواب-مترجم-ظ-انصاری","title":"CHACHA KA KHAWAB  by FYODOR DOSTOEVSKY    \/ چچا کا خواب مترجم ظ انصاری","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Books Hut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089543180505,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/6865482b101c11751468075.jpg?v=1772698943"},{"product_id":"demons-novel-fyodor-dostoevsky-ابلیس-کے-پرستار","title":"The Demons Novel | Fyodor Dostoevsky | ابلیس کے پرستار","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xdj266r x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیہ ناول محض داستان نہیں بلکہ ایک نوحہ ہے۔ ایک زوال پذیر تہذیب کا مرشید، ایک بے قرار روں کی پکار اور ایک ایسی قوم کا نوحہ جو وشنی کی جستجو میں اندھیرے کو گلے لگا لیتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eدوستوئیفسکی نے ڈیمنز کو صرف لکھا نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے نچوڑا ہے ، جیسے اذیت کو خون کی روشنائی میں بدل کر قرطاس پر بہا دیا ہو۔ اس ناول کا پس منظر ایک ایسا روسی قصبہ ہے جو باہر سے ساکت ، مگر اندر سے بھڑکتا ہوا آتش فشاں ہے۔ ایسا منظر جہاں ہر چہرہ نقاب میں ہے اور ہر خیال بغاوت کی حدوں کو چھو رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپیوتر در خودینسکی ایک ایسا شیطانی مبلغ ہے جس کی زبان زہر اگلتی ہے ، اور نکولائی اسٹاور وگن ایک ایسا پر کشش انسان ہے جو اندر سے اس قدر کھو کھلا ہے کہ اس کی خاموشی سناٹے سے زیادہ ہولناک محسوس ہوتی ہے۔ یہ دونوں کردار محض انسان نہیں، بلکہ نظریات کے بھٹکے ہوئے آسیب ہیں وہی ویمنز \"جو انسان کی روح میں سرایت کر کے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eڈیمینز\" کی نثر میں ایک ایسی موسیقیت ہے جو ساز سے نہیں، آہ سے جنم لیتی ہے۔ اس میں چھے استعارے چہرے سے زیادہ دل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہر مکالمہ کسی ماتمی نوحے کی طرح لگتا ہے، اور ہر لمحہ ایک ایسا سوال بن جاتا ہے جس کا جواب صرف سنائے میں چھپا ہوتا ہے۔ کیریلوف کا جنون، شاتووف کی صداقت ، اور در خودینسکی کی سازشیں یہ سب ایسے خواب ہیں جن کی تعبیر صرف اذیت میں ملتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیہ ناول ایک آئینہ ہے، جس میں جھانکنے والا اپنے اندر کا وہ چہرہ دیکھتا ہے جو اجنبی بھی ہے اور سچا بھی۔ یہ چہرہ چیختا نہیں ، مگر دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eدوستوئیفسکی کی یہ تخلیق ایک ایسی قیامت کی پیش گوئی ہے جو ہتھیاروں سے نہیں، خیالات سے آتی ہے۔ ناول کی زبان صوفی کے وجد میں ڈوبے ہوئے کلام کی طرح ہے۔ کبھی روشن، کبھی پر اسرار، کبھی گمبھیر۔ یہاں ہر لفظ ایک خنجر ہے جو روح کو چیرتا ہے اور انسان کو اس کی چھپی ہوئی حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eیہاں ایمان اور الحاد کی جنگ ہے ، عشق اور عقل کا تصادم ، اور وجو د و عدم کی وہ ازلی کشمکش جو ہر انسان کے باطن میں صدیوں سے جاری ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eڈیمینز کوئی عام ناول نہیں بلکہ ایک ایسا لافانی رزمیہ ہے جو ہر دور میں نئے مفہوم کے ساتھ زندہ ہو جاتا ہے۔ دوستوئیفسکی نے صرف ایک کہانی نہیں دی، بلکہ ایک آئندہ کا اندیشہ ، ایک فکری اذان، اور ایک آئینہ دیا ہے۔ جس میں ہر پڑھنے والا خود کو نئے زاویے سے دیکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089709215961,"sku":null,"price":1375.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/DevilsbyFyodorDostoevsky1_280d2512-02b4-47bb-b618-233de4938659.jpg?v=1772699092"},{"product_id":"demons-by-fyodor-dostoyevsky","title":"Demons by\nfyodor dostoyevsky","description":"\u003cp\u003eSet in a provincial Russian town, Demons (also known as The Devils and The Possessed), follows a circle of revolutionaries led by Pyotr Verkhovensky, a cunning agitator who orchestrates a campaign of subversion. Using lies, blackmail, and violence, Pyotr seeks to incite rebellion, manipulating the troubled intellectual Stavrogin-a man torn between nihílism and a tormented conscience. As the group's influence grows, a series of increasingly disturbing events unfolds: secret meetings, political conspiracies, and senseless acts of destruction. The town descends into madness, its people either complicit or powerless. When a brutal murder shatters the already fraying social order, the conspirators' true motives begin to unravel. Now, with suspicion rising and the revolution veering out of control, Stavrogin must decide where he stands-before everything ignites. One of Dostoyevsky's most politically charged works, Demons is both a chilling warning and a masterful literary achievement that remains startlingly relevant in its portrayal of ideology run amok.\u003c\/p\u003e\n\u003chr\u003e\n\u003ch2 class=\"text-heading theme-link-yellow mt-0 mb-1\"\u003eAbout the Author\u003c\/h2\u003e\n\u003cp\u003eFyodor Mikhailovich Dostoyevsky was born in Moscow on November 11, 1821. He is known for his profound understanding of human psychology and his ability to bring forth the darkest realms of human nature. Dostoyevsky inspired a number of modern movements including Existentialism, literary criticism and many schools of psychology and theology. He influenced a number of modern philosophers and writers including Anton Chekov, George Orwell and Jean-Paul Sartre. He is best known for his novels Notes from Underground (1864), Crime and Punishment (1866), The Idiot (serialized from 1868 to 1869), The Possessed or otherwise known as Demons (serialised from 1871 to 1872) and The Brothers Karamazov (serialised from 1879 to 1880). Dostoyevsky died on February 9, 1881 at the age of 59, in Saint Petersburg, Russia\u003c\/p\u003e","brand":"Bookshut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089755713753,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_6dda3a64-b849-4962-8602-5a301be6c322.jpg?v=1772699157"},{"product_id":"the-house-of-the-dead-by-fyodor-dostoyevsky","title":"The House Of the Dead by\nfyodor dostoyevsky","description":"\u003cp\u003eNarrated through the fictional lens of Alexander Petrovich Goryanchikov, a nobleman sentenced for the murder of his wife, The House of the Dead is a semi-autobiographical novel based on Fyodor Dostoyevsky's harrowing experience as a political prisoner in a Siberian labour camp. As Goryanchikov adapts to his new environment, he observes and reflects on the diverse backgrounds and personalities of his fellow inmates. Although there are murderers, thieves, and other criminals among them, most reveal a human side that helps him maintain his faith in humanity. Structured as a series of episodic recollections, rich in character studies and moral questioning, the novel blends realism with philosophical inquiry, offering a profound critique of the penal system and an enduring meditation on the human condition. First published in 1861, it marks a pivotal point in Dostoyevsky's literary development.\u003c\/p\u003e\n\u003chr\u003e\n\u003ch2 class=\"text-heading theme-link-yellow mt-0 mb-1\"\u003eAbout the Author\u003c\/h2\u003e\n\u003cp\u003eFyodor Mikhailovich Dostoyevsky was born in Moscow on November 11, 1821. He is known for his profound understanding of human psychology and his ability to bring forth the darkest realms of human nature. Dostoyevsky inspired a number of modern movements including Existentialism, literary criticism and many schools of psychology and theology. He influenced a number of modern philosophers and writers including Anton Chekov, George Orwell and Jean-Paul Sartre. He is best known for his novels Notes from Underground (1864), Crime and Punishment (1866), The Idiot (serialized from 1868 to 1869), The Possessed or otherwise known as Demons (serialised from 1871 to 1872) and The Brothers Karamazov (serialised from 1879 to 1880). Dostoyevsky died on February 9, 1881 at the age of 59, in Saint Petersburg, Russia.\u003c\/p\u003e","brand":"Bookshut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089755746521,"sku":null,"price":599.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_5d462e15-ac26-44b1-bbba-b25727b0e01c.jpg?v=1772699158"},{"product_id":"the-idiot-by-fyodor-dostoyevsk","title":"The Idiot by\nfyodor dostoyevsk","description":"\u003cp\u003ePrince Lev Myshkin is a kind and compassionate man whose sincerity and honesty has set him apart in a world driven by ambition, greed and deception. Returning to Russia after treatment for epilepsy in Switzerland, he meets two women-Nastasya Filippovna, a beautiful, self-destructive woman haunted by her past and Aglaya Epanchin, a spirited and idealistic young aristocrat. Caught between them, he becomes entangled in a web of love, jealousy and manipulation. As tensions mount and passions erupt, his goodness begins to clash fatally with the corruption around him.Drawn deeper into the lives of those who both revere and exploit him, he faces an impossible choice that can destroy everything-and everyone-he cares for. Through Myshkin's tragic journey, Dostoyevsky examines the tension between goodness and societal corruption, questioning whether true purity can survive in a world full of moral ambiguity. With its richly drawn characters, psychological depth and philosophical insight, The Idiot stands as one of Dostoyevsky's most moving and thought-provoking works, offering a timeless meditation on what it means to live with compassion in an often unforgiving world.\u003c\/p\u003e\n\u003chr\u003e\n\u003ch2 class=\"text-heading theme-link-yellow mt-0 mb-1\"\u003eAbout the Author\u003c\/h2\u003e\n\u003cp\u003eFyodor Mikhailovich Dostoyevsky was born in Moscow on November 11, 1821. He is known for his profound understanding of human psychology and his ability to bring forth the darkest realms of human nature. Dostoyevsky inspired a number of modern movements including Existentialism, literary criticism and many schools of psychology and theology. He influenced a number of modern philosophers and writers including Anton Chekov, George Orwell and Jean-Paul Sartre. He is best known for his novels Notes from Underground (1864), Crime and Punishment (1866), The Idiot (serialized from 1868 to 1869), The Possessed or otherwise known as Demons (serialised from 1871 to 1872) and The Brothers Karamazov (serialised from 1879 to 1880). Dostoyevsky died on February 9, 1881 at the age of 59, in Saint Petersburg, Russia.\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089755812057,"sku":null,"price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rn-image_picker_lib_temp_30f3c30a-314a-43ea-b182-ab3a13b510fa.jpg?v=1772699161"},{"product_id":"white-nights-fyodor-dostoevsky-چاندنی-راتوں-کا-دکھ","title":"White Nights | Fyodor Dostoevsky | چاندنی راتوں کا دکھ","description":"\u003cp style=\"text-align: center;\" align=\"center\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eچاندنی راتوں کا دکھ\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e|\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eWhite Nights\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: center;\" align=\"center\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمصنف: فیودور دوستوئیفسکی\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eچاندنی راتوں کا دکھ، روسی ادبیات کے عہد ساز مصنف فیودور دوستوئیفسکی کا ایسا شاہکار ہے جو انسانی جذبات، تنہائی، اور خوابوں کی روشنی و تاریکی کا نہایت لطیف مگر پُراثر بیانیہ پیش کرتا ہے۔ یہ مختصر مگر نہایت گہرا ناول اُن قاریوں کے لیے ہے جو لفظوں میں دل کی دھڑکنیں محسوس کرتے ہیں اور جو کہانی میں اپنی ذات کو تلاش کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eیہ کہانی ایک ایسے نوجوان کی ہے جس کی زندگی تنہائی کے سایوں میں لپٹی ہوئی ہے، اور جو رات کے سناٹے اور چاندنی کی چمک میں اپنے خیالوں کا محل تعمیر کرتا ہے۔ ناستینکا کی صورت اسے ایک ہم دم ملتا ہے، ایک اجنبی جس کے دکھ اس کے اپنے دکھوں سے جا ملتے ہیں۔ چند راتوں کی یہ ملاقاتیں، جنہیں محبت کا رنگ ملنے لگتا ہے، رفتہ رفتہ ایک خواب جیسی دنیا میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمگر ہر خواب کی طرح یہ خواب بھی بکھر جاتا ہے۔ ناستینکا اپنے محبوب کے لوٹ آنے پر اُسی کے ساتھ چلی جاتی ہے۔ ہمارا مرکزی کردار، شکستہ دل مگر پُرعظمت ظرف کے ساتھ، ناستینکا کے لیے نیک خواہشات کے سوا کچھ نہیں رکھتا۔ کہانی کا کلائمکس ایسا پرسوز منظر ہے جو قاری کے دل میں گہری اداسی اور ایک غیر متوقع سی مسکراہٹ چھوڑ جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eبحیثیت مترجم، اس شاہکار کو اردو میں منتقل کرنا میرے لیے ایک غیر معمولی تخلیقی اور جذباتی تجربہ رہا۔ دوستوئیفسکی کے اسلوب، اس کی زبان کی تہہ داری، اور جذبات کی سچائی کو اردو کے قالب میں ڈھالنا ایک فن تھا، جس کے لیے میں نے نہ صرف زبان کی خوبصورتی کا خیال رکھا بلکہ مصنف کی روح کو بھی برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eچاندنی راتوں کا دکھ محض ایک مختصر محبت کی کہانی نہیں، بلکہ یہ اُن لمحات کا مرقع ہے جن میں انسان جیتا ضرور ہے، مگر صرف ایک پل کے لیے۔ یہی وہ ایک پل ہوتا ہے جو ساری زندگی کا سرمایہ بن جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eیہ ترجمہ اُن دلوں کے لیے ہے جو پڑھنے سے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ اُن کے لیے ہے جو محبت کو صرف جذبہ نہیں، ایک تخلیقی اذیت سمجھتے ہیں وہ اذیت جو روح کو بیدار کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 13.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eعلی احمد چودھری\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eصفحات \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: FA;\" dir=\"RTL\" lang=\"FA\"\u003e۸۸\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48089756303577,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Whitenight2_bb0e87ae-2144-4f6c-80d7-4ae7db1a170c.jpg?v=1772699175"},{"product_id":"fiudard-fiski-kay-bay-misal-novlet-فیودردستوفسکی-کے-بے-مثال-ناولٹ-by-فیودر-دستوفسکی","title":"Fiudard Fiski kay bay misal novlet\nفیودردستوفسکی کے بے مثال ناولٹ by فیودر دستوفسکی","description":"\u003ctable\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eAuthor\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eفیودر دستوفسکی     \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eSubject\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eNovlet\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eISBN\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e0\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eYear\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e2014\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eLanguage\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eUrdu\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003ePages\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e430\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Al hamad pulication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48090019889369,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/InShot-20240907_171851460_ac0a062c-382e-4982-a4bd-400c91b93b59.jpg?v=1772699616"},{"product_id":"jurm-o-saza-جرم-و-سزا-by-فیودر-دستوفسکی","title":"Jurm o Saza\nجرم و سزا by فیودر دستوفسکی","description":"\u003ctable\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eAuthor\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eفیودر دستوفسکی     \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eSubject\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eNovlet\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eISBN\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e0\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eYear\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e0\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eLanguage\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eUrdu\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003ePages\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e645\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Al hamad pulication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48090024083673,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/InShot-20240907_171629624.jpg?v=1772699620"},{"product_id":"the-meek-one-fyodor-dostoyevsky-فیودردستوئیفسکی-نرم-دل","title":"The Meek One  | Fyodor Dostoyevsky |  فیودردستوئیفسکی | نرم دل","description":"\u003cdiv class=\"BookPageTitleSection\"\u003e\n\u003cdiv class=\"BookPageTitleSection__title\"\u003e\n\u003ch4 aria-label=\"Book title: The Meek One\" data-testid=\"bookTitle\" class=\"Text Text__title1\"\u003eThe Meek One Book By \u003cspan\u003eFyodor Dostoyevsky.\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h4\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003ch2 style=\"text-align: right;\" align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاس مختصر کہانی میں دوستوفسکی نے بڑی مہارت سے مایوسی، لالچ، ہیرا پھیری اور خودکشی کی عکاسی کی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/h2\u003e\n\u003ch5\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eISBN 9786273002354\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\" dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003ePages 80\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/h5\u003e","brand":"Fiction House ( New Arrival )","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48090081755353,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/narmdil_d4262a6e-f65b-46e6-8682-ea31826a9e9a.jpg?v=1772699653"},{"product_id":"ایک-پاگل-کی-ڈائری-notes-from-the-underground-فیودر-دستوئیفسکی-fyodor-dostoevsky","title":"ایک پاگل کی ڈائری | Notes From The Underground | فیودر دستوئیفسکی |  Fyodor Dostoevsky","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\" data-mce-style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\" data-mce-style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eنام : ایک پاگل کی ڈائری\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\" data-mce-style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cb\u003eNotes From The Underground\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\" data-mce-style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\" data-mce-style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\" data-mce-style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\" data-mce-style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\" data-mce-style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eفیودر دستوئیفسکی\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\" data-mce-style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cb\u003eFyodor Dostoevsky\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\" data-mce-style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\" data-mce-style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\" data-mce-style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eتعارف نگار\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\" data-mce-style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\" data-mce-style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eیہ کتاب دوستوئیفسکی کا ایک ناول ہے جو خیال اور آفاقی باتوں پر مبنی ہے ۔ ایک کہانی جو ایک پاگل اور نفسیاتی ذہن کے مالک ایک شخض کی کہانی ہے ۔ اس کہانی میں اس نے جو کچھ لکھا وہ ایک بیمار ذہن کی عکاسی کرتا ہے\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\" data-mce-style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction house","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48091806826713,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/pagal_Admi_ki_Diary.jpg?v=1772701551"},{"product_id":"jurm-o-saza-fyodor-dostoevsky","title":"Jurm O Saza | Z.Ansari","description":"\u003cp\u003eJurm O Saza | Z.Ansari\u003c\/p\u003e","brand":"ilm o irfan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48092374040793,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/50DiscountOfffer_10.png?v=1772702080"},{"product_id":"the-karamazov-brothers-fyodor-dostoyevsky","title":"The Brothers Karamazov | Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cem class=\"eujQNb\" data-complete=\"true\" data-processed=\"true\"\u003eThe Brothers Karamazov\u003c\/em\u003e\u003cspan\u003e is the final novel by Russian author Fyodor Dostoevsky, published serially from 1879 to 1880. Acclaimed as a masterpiece of world literature, it is \u003c\/span\u003e\u003cmark class=\"HxTRcb\" data-complete=\"true\" data-sae=\"\"\u003ea complex philosophical and psychological drama that explores themes of God, free will, and morality through the story of a debauched father and his three very different sons\u003c\/mark\u003e\u003cspan\u003e.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c!----\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48092632318169,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/albertcamus_6.jpg?v=1772702313"},{"product_id":"the-idiot-fyodor-dostoyevsky","title":"The Idiot Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cem class=\"eujQNb\" data-complete=\"true\" data-processed=\"true\"\u003eThe Idiot\u003c\/em\u003e\u003cspan\u003e is \u003c\/span\u003e\u003cmark class=\"HxTRcb\" data-complete=\"true\" data-sae=\"\"\u003ea novel by Fyodor Dostoyevsky, published serially in 1868–1869\u003c\/mark\u003e\u003cspan\u003e. It chronicles the journey of the kind and naive Prince Myshkin, a man of \"positive goodness and beauty,\" as he returns to Russian society after being in a Swiss sanatorium for epilepsy. He becomes entangled in a love triangle with the \"fallen woman\" Nastasya Filippovna and the passionate merchant Parfyon Rogozhin, leading to tragic consequences for all involved.\u003c\/span\u003e\u003cspan data-wiz-rootname=\"ohfaMd\" class=\"\" data-complete=\"true\" data-processed=\"true\"\u003e\u003cspan class=\"vKEkVd\" data-animation-atomic=\"\" data-complete=\"true\" data-sae=\"\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48092635496665,"sku":null,"price":1599.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/albert_camus_9.jpg?v=1772702314"},{"product_id":"the-meek-one-fyodor-dostoyevsky","title":"The Meek One | Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eIn this short story, \u003c\/span\u003e\u003cem\u003eDostoyevsky\u003c\/em\u003e\u003cspan\u003e masterfully depicts desperation, greed, manipulation and suicide.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c!----\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48092959932633,"sku":null,"price":280.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/albert_camus_5.jpg?v=1772702790"},{"product_id":"white-nights-fyodor-dostoyevsky","title":"White Nights | Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003e\"White Nights\" is a short story by Fyodor Dostoevsky, originally published in 1848, early in the writer's career. Like many of Dostoevsky's stories, \"White Nights\" is told in the first person by a nameless narrator. The narrator is a young man living in Saint Petersburg who suffers from loneliness.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c!----\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48092963143897,"sku":null,"price":280.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/albert_camus_4.jpg?v=1772702791"},{"product_id":"karamazof-bradraan-by-fyodor-dostoyevsky-کرامازوف-برادران-از-فیودر-دوستوفیسکی","title":"Karamazof Bradraan by Fyodor Dostoyevsky| کرامازوف برادران از فیودر دوستوفیسکی","description":"\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’کرامازوف برادران‘‘(1880ء) دستوئیفسکی کا آخری ناول ہے، جسے دُنیا کے ہر نقاد نے عظیم ترین ناولوں میں شمار کیا ہے۔ ناول کا ہیرو الیوشا رُوسی قوم، رُوسی مذہب اور مذہبیت کی اعلیٰ ترین پیداوار ہے اور اسے اپنی سرزمین اور ماحول سے بہت گہرا اور سچا لگائو ہے۔ اس کی سیرت اور وہ اصول جن پر وہ تعمیر کی گئی ہے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دستوئیفسکی بغاوت، انکار اور شک کے تمام مراحل طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچ گیا تھا۔ اس کا ناول وہ طوفان برپا کر دیتا ہے، جس سے پرانی دُنیا بگڑتی اور نئی دنیا بنتی ہے۔ 1958ء میں ہالی ووڈ نے اس ناول پر فلم بھی بنائی جس میں یوئل برینر نے میٹسا کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ ناول دستوئیفسکی کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا، لیکن اپنی اس موت سے پہلے بھی دستوئیفسکی ایک بار موت کا مزہ چکھ چکا تھا اور تجربہ اتنا انوکھا اور دُور رَس نتائج کا حامل تھا کہ اس کے اثرات دستوئیفسکی کے شاہکار ناولوں پر واضح طور سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دستوئیفسکی کو اُردو میں منتقل کرنا بطور خاص مشکل کام ہے لیکن کسی کو ہمت تو کرنی تھی۔ یہ سوچ کر مایہ ناز ادیب، ماہرِلسانیات اور مترجم شاہد حمید نے اس عظیم ناول کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ انھوں نے اِس ضخیم ناول کے ترجمے پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصہ صرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب وروز محنت کی۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اپنے عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن اُن سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو رُوس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آ گئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اِس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول اُن کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری، جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد حمید اُردو کے مایہ ناز ادیب، ماہرِ لسانیات اور مترجم ہیں۔ وہ 1928ء میں جالندھر کے ایک گاؤں پَرجیاں کلاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول ننگل انبیا میں حاصل کی۔ 1947ء میں فسادات کے دوران پاکستان ہجرت کی۔ لاہور آ کر اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں خواجہ منظور حسین اور ڈاکٹر محمد صادق قابلِ ذکر ہیں۔ مشہور نقّاد مظفر علی سیّد فرسٹ ایئر سے سِکستھ ایئر تک شاہد حمید کے کلاس فیلو رہے۔ شاہد حمید نے دورانِ تعلیم بطور صحافی ’’روزنامہ آفاق‘‘ میں کام کیا، پھر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ ایمرسن کالج ملتان، گورنمنٹ کالج ساہیوال اور گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ 1988ء میں ریٹائر ہوئے۔ ادب سے دلچسپی بہت پُرانی ہے، لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ تیسرے درجے کی طبع زاد تحریروں سے عالمی کلاسک کا ترجمہ زبان و ادب کی بدرجہا بہتر خدمت ہے۔ یہ سوچ کر زمانۂ طالبِ علمی ہی میں ڈیل کارنیگی کی ہر دل عزیز کتاب ’’پریشان ہونا چھوڑئیے، جینا سیکھیے‘‘ کا اُردو ترجمہ کیا، پھر لیو طالسطائی کے عظیم ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بِیڑا اُٹھایا اور کئی سال کی محنتِ شاقہ کے بعد اس کام کو مکمل کیا۔ اس ترجمے پر انھیں بہت داد ملی۔ انھوں نے ایڈورڈ سعید کی نہایت اہم تصنیف ’’مسئلۂ فلسطین‘‘ کا ترجمہ بھی کیا۔ ایڈورڈ سعید کی پیچیدہ نثر سے انصاف کرنا مشکل تھا لیکن یہ مرحلہ بھی شاہد حمید نے کامیابی سے طے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے جین آسٹن کے ناول ’’تکبّر اور تعصّب‘‘، ہیمنگوے کی ’’بوڑھا اور سمندر‘‘، غسّان کنفانی کی ’’دُھوپ میں لوگ‘‘ اور جوسٹین گارڈر کی بین الاقوامی بیسٹ سیلر ’’سوفی کی دُنیا‘‘ کا ترجمہ کیا۔ مراکش کے ادیب محمد مرابط کے افسانوں کا انتخاب ’’بڑا آئینہ‘‘ بھی ترجمہ کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ دستوئیفسکی کے ناول ’’کرامازوف برادران‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کو دنیا بھر میں دستوئیفسکی کی سب سے باکمال تصنیف سمجھا گیا ہے۔ اس کی اُردو میں دستیابی ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انھوں نے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ان ضخیم ناولوں کے تراجم پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصّہ صَرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب و روز محنت کی۔ انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے معروف نقّاد شمیم حنفی نے کہا تھا، ’’یقین کرنا مشکل ہے کہ ہزاروں صفحوں پر پھیلا ہوا یہ غیر معمولی کام ایک اکیلی ذات کا کرشمہ ہے۔‘‘ ممتاز فکشن نگار نیّر مسعود نے محمد سلیم الرحمٰن کے نام خط میں شاہد حمید کو حیرت خیز آدمی قرار دیا۔ نامور شاعر افتخار عارف نے ’’کرامازوف برادران‘‘ کی جدید طباعت دیکھ کر کہا، ’’دستوئیفسکی کا شمار دُنیا کے عظیم ترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ طالسطائی، گورکی، جین آسٹن، مارکیز، یوسا کی صف میں بھی وہ نمایان نظر آتے ہیں۔ دُنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ان کے تراجم کیے گئے ہیں۔ اُردو ترجمہ شاہد حمید مرحوم نے کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اُردو تراجم کی تاریخ میں یہ ترجمہ بہ لحاظ صحتِ متن اور رُوسی زبان کی فضا کو برقرار رکھنے کی ہنروری کے سبب تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ بک کارنر جہلم کے عزیزم گگن شاہد اور امر شاہد نے اس کتاب کو شائع کر کے بڑا کام کیا ہے۔ اِس عالمی اہمیت کے ناول کی اشاعتِ جدید ایک واقعے سے کم نہیں۔‘‘ شاہد حمید نے اپنی خودنوشت ’’گئے دنوں کی مسافت‘‘ کے نام سے تحریر کی تھی اور دو ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل انگریزی اردو لغت بھی تیار کی ہے، جو زیرِطبع ہے۔ ان کا انتقال 29 جنوری 2018ء کو ہوا اور ڈیفنس لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسرورق مصور:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوسیلی پیروف (1834ء-1882ء): 1870ء کی دہائی کے ابتدائی عرصے میں پیروف کی مصوری نے رُوس کی عظیم ثقافت کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ 1872ء میں اس نے دستوئیفسکی کی یہ تصویر مکمل کی۔ یہ دستوئیفسکی کا ادبی کام تھا جس نے پیروف کو اس طرح متاثر کیا کہ اس نے انیسویں صدی کے رُوس کی پریشان حال سیاسی، سماجی اور روحانی فضا میں انسانی نفسیات کی گتھیاں سلجھائیں۔ اس جدید طباعت کے سرورق پر دی گئیں دونوں تصاویر پیروف ہی کے موئے قلم کے شاہکار ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages: 1417\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48093973512409,"sku":null,"price":2800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9789696623076_d36f32e1-acb2-4300-be4a-e09e9b500e1a.jpg?v=1772704170"},{"product_id":"جرم-و-سزا-jurm-o-saza-fyodor-dostoevsky","title":"جرم و سزا | Jurm o Saza | Fyodor Dostoevsky","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\" class=\"jxuftiz4 jwegzro5 hl4rid49 icdlwmnq qjfq86k5\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan class=\"gvxzyvdx aeinzg81 t7p7dqev gh25dzvf exr7barw rq8durfe luz166fr tes86rjd pbevjfx6\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cb data-mce-fragment=\"1\"\u003eجرم و سزا\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003ch4 style=\"text-align: right;\" class=\"jxuftiz4 jwegzro5 hl4rid49 icdlwmnq qjfq86k5 ihx95mk1\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cspan class=\"gvxzyvdx aeinzg81 t7p7dqev gh25dzvf exr7barw rq8durfe luz166fr tes86rjd pbevjfx6\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cb data-mce-fragment=\"1\"\u003eفیودور دستوئیفسکی کے شہرہ آفاق ناول کا ترجمہ \" جرم و سزا\" کے نام سے حاضر ہے۔ جرم و سزا کا شمار دنیا کے عطیم ناولوں میں ہوتا ہے۔ ناول انیسویں صدی کے روس کے بارے میں ہے۔ اس عہد کی اہم سماجی اتھل پتھل اور اخلاقی تہس نہس کی عکاسی کی گئی ہے۔ زمانے کے سارے مصائب، درد \u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan class=\"gvxzyvdx aeinzg81 t7p7dqev gh25dzvf exr7barw rq8durfe luz166fr tes86rjd pbevjfx6\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cb data-mce-fragment=\"1\"\u003eاور زخموں کو ناول میں سمو دیا گیا ہے۔\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h4\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan class=\"gvxzyvdx aeinzg81 t7p7dqev gh25dzvf exr7barw rq8durfe luz166fr tes86rjd pbevjfx6\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cb data-mce-fragment=\"1\"\u003eجرم و سزا | Jurm o Saza | Fyodor Dostoevsky \u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48094419747033,"sku":"9789695627266","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/CrimeandPunishment.jpg?v=1772704462"},{"product_id":"زلتوں-کے-مارے-لوگ","title":"زلتوں کے مارے لوگ | Zilto K Maray Log","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eفیودردستوئیفسکی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eفیودر دستوئیفسکی 1821کوماسکو `روس' میں پیدا ہوا ۔ باپ ایک اسپتال میں سرکاری ملازم تھا ۔اس کا خاندان زندگی بھر معاشی بدحالی کا شکار ہوا۔ اسکول کی ابتدائی تعلیم کے بعد وہ پیٹرز برگ انجینئرنگ کالج میں داخل ہوا۔یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے فوج میں ملازمت کر لی۔1843 میں اس نے فوج سے استعفی دے دیا اور ناول نویسی کی طرف مائل ہوگئے اور اسی کو اپنا زریعہ معاش بنا لیا۔وہ نو عمری میں ہی انقلابی بن گیا تھا۔اس عرصے میں وہ ایک ایسی تنظیم سے وابستہ ہو گئے جو مزدوروں \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eکسانوں کو زمینداروں کو غلامی سے آزاد کروانا چاہتی تھی۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eزارنکولیس اول نے 1849 کو اس تنظیم پر پابندی لگا دی اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔پندرہ نوجوانوں کو سزائے موت سنائی گئی جن دستوئیفسکی بھی شامل تھا۔لیکن سزا کے عمل درآمد کے موقعے پر اس کے تین ساتھیوں کو گولی مار دی گئی اور بقیہ نوجوانوں کی جان بخشی کرکے سائبیریا میں قید بامشقت کیلئے بھیج دیا گیا ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eدستوئیفسکی نے سائبیریا میں چار سال قید با مشقت میں گزارے ۔ سائبیریا کی قید سے وہ اس شرط پر رہا کیا گیا وہ اپنی خدمات فوج کیلئے وقف کردے ۔1859 میں وہ تمام الزامات سے بری کر دیا گیا اور اسے پیٹرزبرگ جانے کی اجازت دے دی گئی ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eدستوئیفسکی نے شاندار ادب تخلیق کیا جس نے عالمی سطح پر ادبی حلقوں میں دھوم مچا دی۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاٹھارہ سو چھیالیس میں پہلا ناولٹ “بچارے لوگ “ شایع ہوا۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاٹھارہ سو ساٹھ میں “زلتوں کے مارے لوگ “ شایع ہوا\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاٹھارہ سو اکاسٹھ میں اپنے بھائی میخائل کی شرکت میں ایک ماہوار رسالہ “زمانہ “ جاری کیا۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاٹھارہ سو باسٹھ میں “ نہایت افسوس ناک واقعہ “ ناولٹ شایع ہوا۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاٹھارہ سو چونسٹھ میں “ پاتال کے مراسلات “ شایع ہوئی جس میں پہلی بار انسانی شعور پر بحث ہوئی۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاٹھارہ سو پینسٹھ میں دستوئیفسکی کو افلاس کے ہاتھوں تنگ آ کر روس واپس جانا پڑا۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاٹھارہ چیاسٹھ میں “جواری “ ناولٹ اور “جرم و سزا” ناول شائع ہوئے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاٹھارہ سو اناسی کو عظیم ناول “ برادرزکرما ژوف “ شایع ہوئی۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eدستوئیفسکی روس کا عظیم ناول نگار جس نے عالمی ادب پر شدید اثرات مرتب کئے دنیا کے عظیم ناولوں کی تاریخ دستوئیفسکی کے “ برادرز کرما ژوف “ اور “ جرم و سزا” کے بغیر نا مکمل سمجھی جاتی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48094499078361,"sku":"9789695628218","price":1175.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Layer-211-1-scaled.jpg?v=1772704545"},{"product_id":"ایڈیٹ","title":"ایڈیٹ | Idiot","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمیری خواہش ہے کہ یہاں کوئی ہو، کم از کم ایک آدمی تو ہو، جس سے میں ہر موضوع پر اس طرح بات کرسکوں جیسے خود سے کرتا ہوں۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eفیو دور دوستو وسکی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eدی ایڈیٹ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003ch2 data-ved=\"2ahUKEwjr8pLK2YH6AhWXHOwKHdX0DOkQ3B0oAXoECGoQDw\" data-attrid=\"title\" data-local-attribute=\"d3bn\" class=\"qrShPb kno-ecr-pt PZPZlf q8U8x\"\u003e\u003cspan\u003eThe Idiot\u003c\/span\u003e\u003c\/h2\u003e\n\u003cdiv data-attrid=\"subtitle\" class=\"wwUB2c PZPZlf\"\u003e\u003cspan data-ved=\"2ahUKEwjr8pLK2YH6AhWXHOwKHdX0DOkQ2kooAnoECGoQEA\"\u003eNovel by Fyodor Dostoevsky\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48094553964761,"sku":"9789695625070","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/DaleCargnig_1_f1f1e0cd-c67e-42ae-a3ef-57440d19d556.png?v=1772704636"},{"product_id":"crime-and-punishment-fyodor-dostoyevsky","title":"Crime And Punishment \/Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cem class=\"eujQNb\" data-complete=\"true\" data-processed=\"true\"\u003eCrime and Punishment,\u003c\/em\u003e\u003cspan\u003e by Fyodor Dostoyevsky, is \u003c\/span\u003e\u003cmark class=\"HxTRcb\" data-complete=\"true\" data-sae=\"\"\u003ea classic of world literature and existential thought that explores the psychological and moral dilemmas of a young man who commits murder\u003c\/mark\u003e\u003cspan\u003e. The novel, first published in 1866, delves into themes of alienation, guilt, nihilism, and the potential for redemption.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095046074585,"sku":null,"price":775.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9789699903878.webp?v=1772705057"},{"product_id":"notes-from-underground-fyodor-dostoyevsky","title":"Notes From Underground | Fyodor Dostoyevsky","description":"\u003cp\u003e\u003cem class=\"eujQNb\" data-complete=\"true\" data-processed=\"true\"\u003eNotes from Underground\u003c\/em\u003e\u003cspan\u003e is a novella by Fyodor Dostoevsky, first published in 1864, and is considered a foundational work of existentialist literature. The story is presented as the fragmented, rambling, and self-contradictory \"confessions\" of a nameless, embittered narrator referred to as the \"Underground Man\". The novel is \u003c\/span\u003e\u003cmark class=\"HxTRcb\" data-complete=\"true\" data-sae=\"\"\u003ea scathing attack on 19th-century social utopianism and rationalism and a profound exploration of human psychology\u003c\/mark\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095046140121,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9789699903915.webp?v=1772705058"},{"product_id":"بے-چارے-لوگ-poor-folks-fyodor-dostoevsky","title":"بے چارے لوگ | POOR FOLKS | Fyodor Dostoevsky","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eناول ’بے چارے لوگ‘ (POOR FOLKS) \u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنف کا نام: فیودرمیخائلو وچ دستوئیفسکی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eزُبان: روسی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاشاعت: 1846ء\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمترجم: ظ۔ انصاری 1978ء\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095047811289,"sku":null,"price":380.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/c86b3b60d6443b21f3f9ebaa6fa50eaf.png?v=1772705097"}],"url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/collections\/fyodor-dostoevsky.oembed","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}