{"title":"Altaf Fatima","description":"","products":[{"product_id":"خواب-گر-khwab-gar-author-altaf-fatima","title":"خواب گر\n\nKhwab Gar\n\nAuthor: Altaf Fatima","description":"\u003ctable class=\"table table-bordered\"\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eISBN\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e978-969-652-074-0\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eNo. of Pages\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e272\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eFormat\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHardcover\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003ePublishing Date\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e2016\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eLanguage\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eUrdu\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 col-sm-12 no-padding no-margin\"\u003e\n\u003cp\u003eالطاف فاطمہ 10جون 1927ءکو لکھنومیں پیدا ہوئیں۔وہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں، ریڈیو پاکستان کے لیے براڈ کاسٹنگ بھی کرتی رہیں۔ الطاف فاطمہ، پاکستان کی معروف ادیبہ ہیں۔ان کا تخیل بھرپور، نثرمسحور کن، کردار نگاری جان دار، منظر کشی اور جزیات نگاری طلسماتی حد تک دلآویز ہے جس باعث ان کی تحریریں پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لیے رکھتی ہیں۔\u003cbr\u003e ”نشانِ محفل“ ان کا پہلا ناول ہے ،یہ شاہکار ناول انہوں نے اپنے زمانہ¿ طالب علمی میں تحریر کیا تھا۔ ان کا یادگار ناول ”دستک نہ دو“ نصاب کا حصہ ہے۔ قلم کی روانی اور ادب کے ساتھ تعلق داری برقرار ہے، ادبی جریدوں میں ان کی تحریریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ انہوں نے عالمی ادب پاروں کے اردو تراجم بھی کیے۔ہارپر لی کے شہرہ آفاق ناول To Kill a Mocking Bird کا اردو ترجمہ ”نغمے کا قتل“ کے نام سے کرچکی ہیں جسے اردو ترجمے میں ایک مثال کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ بنگالی، مراٹھی، تامل، گجراتی اور ہندی افسانے؛ لاطینی امریکی خواتین اور جاپانی خواتین کے افسانوں اور ایلسا مارسٹن کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق کہانیوں کو بھی اردو کے پیرہن میں ڈھال چکی ہیں۔\u003cbr\u003e”خواب گر“ جھیل سدپارہ کے اردگرد آباد حسین پہاڑی بستیوں اور ان کے سادہ و پُرخلوص باسیوں کے طرزِزندگی کی عکاسی کرتا ایک منفرد تجربہ ہے۔ کسی صورت سفرنامہ نہ ہونے کے باوجود، آپ دھند اور کہرے میں، برف زاروں میں دھنسے، ٹیڑھی میڑھی پہاڑی پگڈنڈیوں پر، الطاف فاطمہ کے قلم کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے پہلے بامِ دنیا یعنی بلتستان اور سکردو کی بلندیوں سے اتر کر لداخ اور سکم کے درّوں پر پیدل رواں،شملہ اور پھر میدانوں میں لاہور جیسے شہروں میں پہنچ کر رزق کی تلاش میں بھٹکتے ان بلتی مسافروں کی داستان جو سال ہا سال گھر کی شکل دیکھنے کو ترستے، اپنی زمین سے دُور لیکن اپنی جڑوں سے پیوست رہتے۔ ایک خواب کی تعبیر کے منتظر ”خواب گر“ کے رتجگوں کی کہانی۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48093870719193,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Khwab_Gar-250x380.jpg?v=1772703816"},{"product_id":"دید-وادید-افسانے-deed-wadeed-afsanay-author-altaf-fatima","title":"دید وادید\n\nافسانے\n\nDeed Wadeed\n\nAfsanay\n\nAuthor: Altaf Fatima","description":"\u003ctable class=\"table table-bordered\"\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eISBN\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e978-969-652-104-4\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eNo. of Pages\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e328\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eFormat\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHardbound\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003ePublishing Date\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e2017\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eLanguage\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eUrdu\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 col-sm-12 no-padding no-margin\"\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e”دید وادید“ ممتاز پاکستانی ادیبہ الطاف فاطمہ کے لازوال افسانوں کا مجموعہ ہے۔ جیتے جاگتے محسوس ہونے والے کرداروں اور دل گداز کہانیوں کی خالق الطاف فاطمہ کا تخیل بھرپور، نثرمسحور کن، کردار نگاری جان دار، منظرکشی اور جزیات نگاری طلسماتی حد تک دلآویز ہے جس باعث ان کی تحریریں پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لیے رکھتی ہیں۔الطاف فاطمہ 10جون 1927ءکو لکھنؤ میں پیدا ہوئیں۔ان کے اجداد کا وطن خیرآباد تھاجو 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد ریاست پٹیالہ میں آباد ہوگئے۔والد فضل امین، علی گڑھ سے فارغ التحصیل اور ریاست جاورہ کے چیف سیکریٹری تھے۔علامہ فضل حق خیرآبادی اورہندوستان کی کسی بھی زبان میں لکھے جانے والے پہلے ناول ”نشتر“ کے خالق حسین شاہ کا علمی و ادبی کام انہیں وراثت میں ملاکہ دونوں کا تعلق ان کے خاندان سے تھا۔ اردو کے منفرد افسانہ نگار سید رفیق حسین ان کے سگے ماموں تھے۔ اس قدر زرخیز ادبی وراثت کی حامل الطاف فاطمہ کی لازوال تحریریں یقینا اس قابل ہیں کہ اردوزبان و ادب انہیں فخر سے دنیا کے سامنے پیش کرسکے۔\u003cbr\u003e1947ءمیں الطاف فاطمہ خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے لاہورآئیں۔ یونیورسٹی اورینٹل کالج سے ایم اے اردو اور بی ایڈ کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔دورانِ تعلیم ہی باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا، ”نشانِ محفل“ ان کا پہلا ناول ہے ،یہ شاہکار ناول انہوں نے اپنے زمانۂ طالب علمی میں تحریر کیا تھا۔ ان کا یادگار ناول ”دستک نہ دو“ نصاب کا حصہ ہے جس کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے اور پاکستان ٹیلی ویژن سے اس کی ڈرامائی تشکیل بھی نشر ہوچکی ہے۔ ریڈیو کے لیے فیچرز بھی لکھتی رہیں۔ انہوں نے عالمی ادب پاروں کے اردو تراجم بھی کیے۔ ہارپر لی کے شہرہ آفاق ناول To Kill a Mocking Bird کا اردو ترجمہ ”نغمے کا قتل“ کے نام سے کرچکی ہیں جسے اردو ترجمے میں ایک مثال کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ بنگالی، مراٹھی، تامل، گجراتی اور ہندی افسانے؛ لاطینی امریکی خواتین اور جاپانی خواتین کے افسانوں اور ایلسا مارسٹن کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق کہانیوں کو بھی اردو کے پیرہن میں ڈھال چکی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48093871341785,"sku":null,"price":1180.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Deed_Wadeed-250x380.jpg?v=1772703823"},{"product_id":"گواہی-آخرِ-شب-کی-کچھ-افسانے-کچھ-یادیں-gawahi-akhir-e-shab-ki-kuch-afsanay-kuch-yadein-author-altaf-fatima","title":"گواہی آخرِ شب کی\n\nکچھ افسانے، کچھ یادیں\n\nGawahi Akhir e Shab Ki\n\nKuch Afsanay, Kuch Yadein\n\nAuthor: Altaf Fatima","description":"\u003ctable class=\"table table-bordered\"\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eISBN\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e978-969-652-140-2\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eNo. of Pages\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e448\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eFormat\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eHardbound\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003ePublishing Date\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e2018\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003eLanguage\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003eUrdu\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 col-sm-12 no-padding no-margin\"\u003e\n\u003cp\u003e”گواہی آخر ِ شب کی“ ممتاز پاکستانی ادیبہ الطاف فاطمہ کے لازوال افسانوں اور اُن کی یادوں کے بے بہا خزینے سے چند انمول موتیوں کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں افسانوں کے علاوہ،اُن کی والدہ سیدہ ممتاز جہاں بیگم، ان کے ماموں منفرد افسانہ نگار سید رفیق حسین ، اختر حسین رائے پوری، شاہد احمد دہلوی اور چند دیگر شخصیات سے متعلق ان کی یادیں بھی شامل ہیں۔\u003cbr\u003eجیتے جاگتے محسوس ہونے والے کرداروں اور دل گداز کہانیوں کی خالق الطاف فاطمہ کا تخیل بھرپور، نثرمسحور کن، کردار نگاری جان دار، منظرکشی اور جزیات نگاری طلسماتی حد تک دلآویز ہے جس باعث ان کی تحریریں پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لیے رکھتی ہیں۔ان کے اجداد کا وطن خیرآباد تھاجو 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد ریاست پٹیالہ میں آباد ہوگئے۔والد فضل امین، علی گڑھ سے فارغ التحصیل اور ریاست جاورہ کے چیف سیکریٹری تھے۔دیوانِ غالب کے مرتب اور انگریزوں سے حبس ِ دوام کی سزا پانے والے علامہ فضل حق خیرآبادی اورہندوستان کی کسی بھی زبان میں لکھے جانے والے پہلے ناول ”نشتر“ کے خالق حسین شاہ کا علمی و ادبی کام انہیں وراثت میں ملاکہ دونوں کا تعلق اُن کے خاندان سے تھا۔ منفرد افسانہ نگار سید رفیق حسین ان کے سگے ماموں تھے۔اس قدر زرخیز ادبی وراثت کی حامل الطاف فاطمہ کی لازوال تحریریں یقینا اس قابل ہیں کہ اردوزبان و ادب انہیں فخر سے دنیا کے سامنے پیش کرسکے۔ اپنا پہلا ناول ”نشانِ محفل“ انہوں نے زمانہ طالب علمی ہی میں تحریر کیا۔ ریڈیو کے لیے لاتعداد فیچرز لکھے۔ عالمی ادب پاروں کے اردو تراجم بھی کیے۔ آخر لمحے تک قلم ان کے ہاتھ میں رہا۔ پروفیسر الطاف فاطمہ درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور اپنا تعارف انہیں بحیثیت استاد کروانا ہی پسند رہا۔الطاف فاطمہ 10جون 1927ءکو لکھنؤ میں پیدا ہوئیں۔ زیرنظر کتاب ”گواہی آخر ِ شب کی“ اشاعتی مرحلے میں تھی اور وہ اس کی اشاعت میں خصوصی دلچسپی لے رہی تھیں جب29نومبر 2018ءکو وہ اپنے اگلے سفر پر روانہ ہوئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"jamhori publication","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48093881270489,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/Gawahi_Akhir_e_Shab_Ki-250x380.jpg?v=1772703834"}],"url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/collections\/altaf-fatima.oembed","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}