{"title":"ALI AKBAR NATIQ","description":"","products":[{"product_id":"kamari-wala-by-علی-اکبر-ناطق","title":"Kamari Wala By  علی اکبر ناطق","description":"\u003ch1 class=\"h2 product-single__title\"\u003eKamari Wala By \u003c\/h1\u003e\n\u003cdiv class=\"product-block\"\u003e\n\u003cdiv class=\"rte\"\u003e\u003cspan\u003e: علی اکبر ناطق\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"ilm o irfan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48091480490201,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/komariwala-720x_1.jpg?v=1772700987"},{"product_id":"naulakhi-kothi-نولکھی-کوٹھی","title":"NAULAKHI KOTHI by ALI AKBAR NATIQ","description":"\u003ch1 class=\"h2 product-single__title\"\u003eNAULAKHI KOTHI - نولکھی کوٹھی\u003c\/h1\u003e","brand":"ilm o irfan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48091678998745,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/20240105-152514_720x_b216bca4-1078-43d3-9f22-6f7a156a38ee.jpg?v=1772701168"},{"product_id":"kofa-ka-musafir-by-ali-akbar-natiq-کوفہ-کا-مسافر-از-علی-اکبر-ناطق","title":"Kofa kay musafir by Ali Akbar Natiq | کوفہ کے مسافر از علی اکبر ناطق","description":"\u003cp\u003eمَیں نے ناول( کوفہ کے مسافر )کیوں لکھا ؟\u003cbr\u003eیہ ۱۹۸۴ کا زمانہ تھا ۔ مَیں اُس وقت چھ سات سال کا تھا ۔ میرے والد صاحب روزگار کے سلسلے میں عراق گئے ہوئے تھے ۔ ہمارا کچا گھر تھا ۔جس کے دو کوٹھے تھے ۔ ہمارے پاس اُن دنوں دو بھینسیں تھیں ۔ایک کوٹھے میں بھینسیں باندھتے تھے اور دوسرے مَیں ہم چار بہن بھائی اور میری والدہ رہتے تھے ۔ میری دادی اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہتی تھی ۔ یہ گھر بھی دراصل ہمارا ہی تھا فقط کوٹھا الگ تھا ۔ مَیں اپنی دادی کے ساتھ اُسی کی چارپائی پر سوتا تھا ۔ جب تک مجھے نیند نہ آتی دادی کربلا کی کہانیاں اور مختار کا بدلا لینے کے واقعات سناتی ۔ جب مَیں سو جاتا تو خود کو خواب کی حالت میں اُنھیں جنگوں میں موجود پاتا ۔ چنانچہ میرے دل و دماغ میں کربلا رچ بس گئی ۔ پھر یوں ہوا کہ والد صاحب کا جب بھی عراق سے خط آتا ،اُس میں کربلا ، کوفہ ، نجف ، سامرا ، کاظمین ،اور اِسی طرح مختلف مقدسات کی تصویریں ہوتیں ۔ جنھیں ہر وقت مَیں سینے سے لگائے پھرتا ۔اور جی چاہتا اڑ کر یہاں پہنچ جائوں اور کبھی وآپس نہ آئوں ۔ مجھے یہ تمام جگھیں اور واقعات ایسے لگتے جیسے یہ اِس دنیا سے پرے کسی دوسری دنیا کے ہوں اور مجھے اپنے والد پر رشک آتا تھا جو وہاں گھوم رہا تھا ۔ جب والد صاحب واپس آئے تو مَیں آٹھویں کلاس میں تھا اور یہ ۱۹۸۸ کا سِن تھا ۔ مَیں نے تب والد صاحب سے اُن علاقوں کے بارے میں تفصیل سے جاننا اور پوچھنا شروع کر دیا ۔ پھر آئمہ طاہرین کے بارے میں معلومات سُنتا رہا جو بہت دردناک اور تڑپا دینے والی تھیں ۔ یوں میرا اُن سے قرب بڑھتا چلا گیا اور میرے اندر ایک کسک پیدا ہوتی چلی گئی کہ آخر اُمت نے اُن کے ساتھ یہ ظلم کیوں کیا ؟ \u003cbr\u003eتب مَیں نے لائبریوں سے لے کر خاص وہ کتابیں پڑھنا شروع کیں جنھیں تاریِخ اسلام کہا جاتا تھا ۔ یہ سینکڑوں کتابیں تھیں ۔ جیسے جیسے کتابیں پڑھتا چلا گیا ، میرا مطالعہ مجھے بتانے لگا کہ ہر لکھی ہوئی بات سچ نہیں ہے اور ہر بات جھوٹ بھی نہیں ہے ، لہذا مجھ میں روایت اور درایت کو پرکھنے کی قوت پیدا ہونے لگی ۔ ان چیزوں نے مجھے عجیب کیفیت میں مبتلا کر دیا ۔ جو کچھ میری سلیبس کی کتابوں میں لکھا تھا اُن میں سے اکثر تاریخی اعتبار سے بالکل لغو اور اور واہیات معلوم ہوا ۔ تب آہستہ آہستہ مجھے معلوم ہوا کہ لکھنے والوں نے زیادہ تر اپنی نفسانی خواہشات کو مدِ نظر رکھ کر لکھا ہے ۔ تاریخ و سیر و انساب و الرجال کی کتابوں سے لے کر جغرافیہ تک اکثر متضاد باتیں درج ہیں ۔ اور یہ سب کچھ پہلے خلیفہ کے دور سے شروع ہو کر بنی اُمیہ، بنی عباس اور پھر عثمانیوں کے ہزار سالہ دور تک چلتا رہا ۔ بادشاہوں نے اپنے ظلم و تشدد اور جبر کو جائز قرار دینے کے لیے سرکاری مورخین کے ذریعہ اہلِ بیت کے کردار کو بھی داغدار کرنے کی کوشش کی اور سرکاری مفتیوں اور مولویوں کے ذریعے دین کے امرونہی کا چہرہ دھندلا دیا ۔ اِس حالت کو دیکھ کر میری جستجو اور تجسس بڑھتا چلا گیا ۔\u003cbr\u003eپھر جب مَیں خود عراق میں گیا تو مجھے محسوس ہوا ہمارے لکھنے والوں نے کوفہ کے حوالے سے بھی بہت زیادہ غلط بیانی سے کام لیا ہے اور جو کچھ لکھا گیا ہے یا لکھا جا رہا ہے اُسے یا تو سابقہ کے نقشِ قدم پر ہی رکھ کر لکھا جا رہا ہے اور تحقیق کی ذرا کوشش نہیں کی گئی یا ٹھیک سے لکھا نہیں جا رہا اور اتنا خشک عبارت میں ہے کہ پڑھنے والے اُسے پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے ۔ \u003cbr\u003eچنانچہ مَیں نے ارادہ کیا مَیں اِسے ناول کے طور پر لکھوں ۔ واقعات تاریخی طور پر دروست ہوں ، آسان فہم ہوں اور خاص و عام کو کم از کم کربلا کے بارے میں درست معلومات دیتے ہوں ۔ \u003cbr\u003eیہ کام بہت مشکل اور صبر آزما تھا ۔ بچپن کا مطالعہ تو ایک طرف پچھلے چھ سال میں کم و بیش ساڑھے چار سو کتابوں کا مطالعہ کیا ،اور بعض اوقات ایک لائن لکھنے کے لیے پانچ پانچ سو صفحات کی پوری کتاب پڑھنا پڑھی ۔ \u003cbr\u003eاب جب آپ اِسے پڑھیں گے تو حیرت و استعجاب میں پڑ جائیں گے کہ اہلِ بیت پر صرف قتل و غارت گری کا ظلم نہیں ہوا ،اُن پر قلمی ظلم و ستم بھی کیا گیا ۔ مثلاً یہاں صرف ایک مثال دیتا ہوں ، \u003cbr\u003e یہ بات کی جاتی ہے کہ جب امام کربلا پہنچے اور اُن پر گھیرا تنگ ہو گیا تو اُنھوں نے عمرو بن سعد سے تین شرطیں پیش کیں اورکہا اول مجھے جہاد کے لیے کافروں کی سرحدوں پر بھیج دیں ، دوئم مدینہ اور مکہ وآپس جانے دیں ،سوئم مجھے شام میں یزید کے پاس بھیج دیں تاکہ مَیں وہاں اُن کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا ۔ اور اُس نے یہ لکھ کر ابنِ زیاد کو بھیج دیں ۔\u003cbr\u003eیہ اتنی بڑی بکواس ہے کہ اِس کا تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اِن میں سے حسینؑ نے ایک بھی جملہ نہیں کہا ۔ بلکہ سرے سے یہ شرط والا واقعہ پیش ہی نہیں آیا ۔ \u003cbr\u003eیہ اور اسی طرح کی مزید کئی باتیں ۔ خیر ناول میں بہت زیادہ چیزیں ہیں ۔ مجھے مولا نے اتنی قدرت عطا کی ہے اور یہ بھی انھی کا صدقہ ہے کہ آپ اِس ناول میں باقاعدہ تمام واقعات کو اپنی آنکھوں سے وقوع ہوتا دیکھ لیں گے ۔ آپ کے تمام سوال اور تمام جواب اِسی میں موجود ہیں ۔ \u003cbr\u003eیہ ۸۲۵ صفحات کا ناول ہے \u003cbr\u003eکل ناول کو پریس میں دینے جا رہا ہوں ۔\u003cbr\u003eعلی اکبر ناطق\u003c\/p\u003e","brand":"ilm o irfan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48092291006681,"sku":null,"price":2100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/FB-IMG_1725948438082.jpg?v=1772701951"},{"product_id":"abaad-huay-barbaad-huay-by-ali-akbar-natiq-آباد-ہوئے-برباد-ہوئے-از-علی-اکبر-ناطق","title":"ABAAD HUAY BARBAAD HUAY By ali Akbar Natiq| آباد ہوئے برباد ہوئے\nاز علی اکبر ناطق","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ ایک شان دار اور بے مثال خودنوشت ہے جس میں کھرا سچ ہے، ایک ایسا سچ جس کی لپیٹ میں علی اکبر ناطق کے آباؤ اجداد، اُس کی اپنی ذات اور زمانہ بھی آتا ہے۔ اس کی نثر پنجاب کی دھرتی کی طرح زرخیز اور پُرمایہ ہے۔ اس داستانِ حیات میں فکشن اور کہانی جیسی دل فریب دل چسپی ہے۔ یہ خودنوشت رنگین قصّوں کی من موہنی مالا ہے، البتہ یہ فقط واقعہ نگاری نہیں، واقعات کی تہ میں، تہ در تہ میں گنجینۂ معانی مخفی ہے۔ اس گنجینے تک فقط صاحبِ نظر رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ خودگزشت اِس دَور کی کہانی ہے، یہ رُودادِ حیات ہر ہر دور کی بے مثال حکایت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو پڑھنا رُوح کو سرشار کر دینے والا تجربہ ہے کہ یہ اُردو اَدب میں اپنی نوع کی واحد خودنوشت ہے، ایک امر ہوجانے والی لازوال تخلیق!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعرفان جاوید\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003ePrice: 1500\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003ePage: 400\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48093986914521,"sku":null,"price":1350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/9789696624844.jpg?v=1772704180"},{"product_id":"نولکھی-کوٹھی-nau-lakhi-kothi-ali-akbar-natiq","title":"نولکھی کوٹھی | NAU LAKHI KOTHI  | ALI AKBAR NATIQ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor:\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.bookcorner.com.pk\/author\/ali-akbar-natiq\" class=\"pointer link-dark-blue\"\u003eALI AKBAR NATIQ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 448\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003eCategories:\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.bookcorner.com.pk\/categories\/urdu-literature\" class=\"text-dark-blue author-name\"\u003eURDU LITERATURE\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.bookcorner.com.pk\/categories\/novel\" class=\"text-dark-blue author-name\"\u003eNOVEL\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eناول \" نولکھی کوٹھی \"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف: علی اکبر ناطق\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" تقسیم ہند پر لکھے گئے بہت سے ناولوں کے برعکس نولکھی کوٹھی کی کہانی ہندو مسلم دشمنی نہیں، کچھ اور ہے۔ یہ انگریز دور کے پنجاب میں شروع ہوتی ہے اور تقسیم کے فسادات کی جھلک دکھاتی ہوئی ضیا دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے۔ اس کا علاقہ غیر منقسم پنجاب کا وسط یعنی فیروز پور کی تحصیل جلال آباد ہے جو اب بھارت کا حصہ ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eناطق کا کہنا ہے کہ ناول کے آدھے سے زیادہ کردار حقیقی شخصیات پر مبنی ہیں۔ کچھ شخصیات اپنے اصلی نام کے ساتھ ناول میں موجود ہیں۔ ناول \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eکو انجام تک پہنچانے کے لیے آخر میں ناطق خود بھی سامنے آجاتے ہیں۔!!!\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095051022553,"sku":null,"price":1275.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rozamaraadab_3.png?v=1772705160"},{"product_id":"فقیر-بستی-میں-تھا-akbar-ali-natiq","title":"فقیر بستی میں تھا | Akbar Ali Natiq","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eموضوع تھا، میر اور مولانا آزاد کے زمانے کی دلی - مقام، آئی بی اے، کراچی، اور اظہار خیال کیا، معروف فکشن نگار، شاعر اور نثر نگار، علی اکبر ناطق نے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eہم بھی وہیں موجود تھے۔ دو گھنٹے کی بھرپور گفت گو تھی۔ ان کی نظمیں بھی سنیں۔ \"فقیر بستی میں تھا\" پر دست خط بھی لے لیے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eگفت گو کا حاصل میر کے ہاں تمثیل اور رعایت کے استعمال کا، مثالوں سے سجا، احوال رہا۔ میر کی زندگی، ان کی خودپسندی - جس کے وہ حق دار بھی تھے - زیر بحث آئی۔ اور پھر بات ہوئی آزاد پر، اس کی باکمال نثر اور نصاب میں نظر \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eانداز کیے جانے پر۔ سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔ جی خوش ہوا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاچھا، گزشتہ دنوں ہم نے ڈیجیٹل انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا، تو جناب علی اکبر ناطق کو بھی زحمت دی، زندگی کی رفتار تیز، مگر انھوں نے وقت نکالا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eممتاز ادیب، کالم نگار اور صاحب فن شخصیات کے یہ انٹرویوز جلد، وقفے وقفے سے احباب شیئر کیے جائیں گے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eفقیر بستی میں تھا | Akbar Ali Natiq\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095051088089,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rozamaraadab_6.png?v=1772705162"},{"product_id":"قائم-دین-علی-اکبر-ناطق-qaim-deen","title":"قائم دین |  علی اکبر ناطق | Qaim Deen","description":"\u003cdiv class=\"\" dir=\"auto\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x1iorvi4 x1pi30zi x1swvt13 x1l90r2v\" data-ad-comet-preview=\"message\" data-ad-preview=\"message\" id=\":r1i2:\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x78zum5 xdt5ytf xz62fqu x16ldp7u\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xu06os2 x1ok221b\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cdiv class=\"\" dir=\"auto\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x1iorvi4 x1pi30zi x1swvt13 x1l90r2v\" data-ad-comet-preview=\"message\" data-ad-preview=\"message\" id=\":r1i2:\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x78zum5 xdt5ytf xz62fqu x16ldp7u\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xu06os2 x1ok221b\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eعلی اکبر ناطق سے میرا پہلا تعارف نولکھی کوٹھی کے ذریعے ہوا جس کا تبصرہ آپ کو اسی پیج پر مل جائے گا۔۔۔نولکھی کوٹھی نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں نے نا طق صاحب کی تمام کتابیں خرید لی۔۔۔اور آج میں نے ناطق صاحب کی افسانوں کی کتاب قائم دین بک شیلف سے اٹھائی اور اس کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔۔۔قائم دین 15 افسانوں کا خوبصورت مجموعہ ہے۔۔۔افسانوں کی اس کتاب کو پہلے آکسفورڈ اردو میں چھپ چکا ہے اس کے بعد بھی دوبارہ اسی ادارے سے شائع ہوئی پھر \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eاسے علی مدیح ہاشمی نے انگریزی میں ترجمہ کیا۔۔۔تب یہ انڈیا کے ادارے پینگوئین سے چھپی۔۔۔پھر اس کتاب کے حقوق ناطق صاحب نے ایک ادارے کو دیئے اور وہ اس کتاب کو چھاپتے رہے پھر یہ کتاب سفر کرتے ہوئے بک کارنر جہلم سے چھپی تو ناطق صاحب کو سابقہ تمام ایڈیشن سے یہ ایڈیشن زیادہ خوبصورت لگا جو میرے ہاتھ میں ہے کیونکہ امر شاہد اور گگن شاہد صاحب کتابوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔یعنی اس کتاب نے کافی داد حاصل کی۔۔۔ویسے تو میں طویل اور رخیم ناول پڑھنے کا عادی ہوں مگر اس مرتبہ ناطق صاحب کی کتاب دیکھی تو دل مچلا کے چلو ناطق صاحب کے افسانے پڑھتے ہیں۔۔۔میری لائبریری میں بہت سی افسانوں کی کتابیں پڑھی ہیں جن میں منٹو صاحب عصمت چغتائی صاحبہ بلونت سنگھ قدرت اللہ شہاب صاحب خدیجہ مستور صاحبہ اور بڑے بڑے افسانہ نگار شامل ہیں۔۔۔یعنی کہ یہ پہلی افسانوں کی کتاب ہے جس کا میں نے مطالعہ کیا ہے۔۔۔کتاب میں پہلا افسانہ اچھو بازیگر ہے جس میں آپ کو حسد بغض کے ساتھ اپنے بچپن کی اصل تصویر نظر آئے گی۔۔۔کم از کم میں نے تو اپنے اسکول دور کے زمانے میں جب پرائمری کے بعد ہائی سکنڈری سکول میں داخلہ لیا تھا تو یہ واقعات اردگرد رونما ہوتے دیکھے تھے اوپر سے ناطق صاحب کی منظر نگاری۔۔دوسرا افسانہ بے چارگی ہے جو واقعی بے چارگی کے موضوع پر ہے جس میں سیاست غیرت بازار حسن اور سبق کا زبردست ٹڑکا آپ کو پڑھنے کو ملے گا۔۔۔تیسرا افسانہ قائم دین ان 15 افسانوں کی جان ہے جس میں ناطق صاحب نے دیہاتی زندگی کی شاندار منظر نگاری کی ہے جس سے آپ کو ایسا ہی لگتا ہے جیسے آپ اسی ماحول کا حصہ ہوں اور سب کچھ آپ کے سامنے ہو رہا ہوں ویسے بھی دیہات کھیت کھلیان ناطق صاحب کے قلم کا خاص موضوع رہے ہیں میں ویسے بھی نولکھی کوٹھی پڑھنے کے بعد ناطق صاحب کے قلم کا دل سے قائل ہوا ہوں وہ اپنے قلم کے کیمرے کے ذریعے اتنی زبردست منظرنگاری کرتے ہیں کہ کوئی فلم ڈائریکٹر بھی ایسی عکاسی نہیں کر سکتا ہے۔۔۔قائم دین دل کو موہ لینے والا ایک شاہکار افسانہ ہے جس نے مجھے اردگرد سے بالکل بیگانہ کر دیا تھا۔۔۔قائم دین میں آپ کو دیہات کا ہر رنگ پڑھنے کو ملے گا اور خاصکر قمے کا کردار تو آپ کو بہت متاثر کرے گا۔۔۔وہ قائم دین عرف قما جو گاؤں کا ہیرو تھا گاؤں کے لوگوں کا مددگار تھا اس پر حالات نے کیسے پلٹا کھایا آپ غم گین ضرور ہوں گے۔۔۔کتاب کا چوتھا افسانہ جودھ پور کی حد ہے یہ افسانہ ہر دیہات کی کہانی ہے جو کچھ زمینداروں وڈیروں کے گھروں میں ہوتاہے یعنی زن زر اور زمین وہی اس افسانے کا موضوع ہے یہ افسانہ غفور بوندھو کا ہے جو تھا تو ایک بڑے زمیندار کا نواسا مگر طلاق شدہ ماں کے ساتھ نانے کے گھر آیا تو نانے کی زندگی میں تو خوب عیش اٹھائی مگر نانے کی زندگی کی بتی گل ہونے کے بعد زمیندار مامے اور اس کے بیٹے کے ظلم سہتا رہا مگر ات خدا دا ویر۔۔۔کریمأں نے اس کی زندگی میں ہلچل مچا دی۔۔۔کتاب کا پانچواں افسانہ کمی بھائی ہے جو کمیوں اور زمینداروں کی جنگ ہے اور ناطق سر نے اس افسانے میں یہ بھی بتایا ہے کہ جو کمی چاپلوسی میں زمینداروں کا ساتھ دیتے ہیں وہ بھی کمی ہی رہتے ہیں۔۔۔افسانہ کافی سبق آموز اور عبرت انگیز تھا۔۔۔چھٹا افسانہ معمار کے ہاتھ ہے جو ان افسانوں کا جھومر ہے ایک کاریگر کا بیٹا اصغر جو سعودی عرب میں کام کے سلسلے میں جاتا ہے اور پھر اسے کیا کیا تکلیفیں سہنی پڑتی ہیں یہ آپ کو اس افسانے میں پڑھنے کو ملے گا اس کے علاوہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا پر کیف سفر نامہ بھی آپ کو اس افسانے میں پڑھنے کو ملے گا۔۔۔مجھ پر ایک عجیب سرور طاری تھا۔۔۔افسانے کے آخر میں میں کافی غمگین ہو گیا تھا دوسرے ملکوں میں کام کرنے والوں کو کیا کیا مشکلات سہنی پڑتی ہیں اور کام ملتا بھی ہے کہ نہیں یہ اس افسانے کے موضوعات ہیں۔۔ساتواں افسانہ مولوی کی کرامت ہے جو مزاح سے بھرپور ایک خوبصورت افسانہ ہے افسانے میں ایک مولوی صاحب کی ہر بد دعا تو قبول ہو جاتی تھی مگر دعا قبول نہیں ہوتی تھی لیکن پھر ایک کتے کی وجہ سے ان کی بد دعا میں بھی اثر ختم ہونا شروع ہو گیا اور پھر مولوی صاحب نے ایک عجیب کام کیا جو آپ کو ہنسائے گا بھی اور حیرت میں بھی مبتلا کرے گا۔۔۔آٹھواں افسانہ مومن والا کا سفر ہے یہ افسانہ بھی مزاح سے بھرپور ہے اور افسانے کے دو کردار نذیراں اور لال دین ایسے کردار آپ کو ہر گاؤں میں نظر آئیں گے اور آخر پر تو آپ اپنی ہنسی روک ہی نہیں پائیں گے۔۔۔۔افسانہ پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میں بھی کبھی ہچکولے کھاتے ہوئے ٹانگے میں بیٹھا ہوں اور کبھی ندی میں نہا رہا ہوں۔۔۔نواں افسانہ نرینہ اولاد ایک غمگین افسانہ ہے بابا کانا ٹائم پاس جیسا کردار دیہاتوں یا قصبوں کے گلی محلوں میں اکثر نظر آتا ہے ایسا ہی ایک کردار بچپن میں میں نے اپنے محلے میں بھی دیکھا تھا۔۔۔دسواں افسانہ شہابو خلیفہ کاشک بھی دیہات کا ہی ایک رنگ ہے اور اس افسانے کا موضوع وہ دیہاتی لوگ ہیں جو کتوں کی لڑائی کے شوقین ہوتے ہیں ناطق صاحب کا یہ افسانہ بھی مزاح سے بھرپور سماجی افسانہ ہے جسے پڑھتے ہوئے آپ بار بار مسکرائیں گے۔۔۔۔گیارہواں افسانہ شاہ مدار کی پازیبیں کبوتر بازوں اور مرغوں کی لڑائی کروانے والے لوگوں کا افسانہ ہے جو ایک ہلکا پھلکا افسانہ تھا۔۔۔بارواں افسانہ شاعری کا ایک خوبصورت افسانہ تھا یا یوں کہیے کہ چودھریوں کے منہ پر چپیڑ تھی۔۔۔جو خود کو باعزت تو کہتے ہیں مگر مطلب کے وقت اپنی عورتیں بھی آگے کر دیتے ہیں۔۔۔افسانے کی کہانی ایک سکھ کی کہانی ہے جو تقسیم کے وقت اپنی مسلمان معشوقہ کے لیے مسلمان ہو جاتا ہے ۔۔۔۔میں نے دیکھا ہے کہ تقسیم ہند نے جو نفرت کا بیج بویا ہے وہ دن با دن پھیلتا اور پھیلتا جا رہا ہے اور یہ نفرت ہماری نسلوں کو تباہ کر رہی ہے۔۔۔۔دوسری بات جو میں نے شدت سے محسوس کی ہے کہ سیکھو ں نے اسلام تو ضرور قبول کیا مگر اندر سے سیکھ ہی رہے بلکہ مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے مسلمانوں میں ذات پات کی پھوٹ ڈال دیں اور آج تک جدید دور ہونے کے باوجود ساتھ پاک کا یہ ناسور دیہات بلکہ شہروں میں بہت زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے جو کم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتا جا رہا ہے انسان کا انسان ہونا سب سے اچھی بات ہے کیونکہ اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے مگر کچھ شیطانوں نے ذات پات کے چکر میں انسانوں کو کم تر بنا دیا ہے اور کی تو اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگتے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ خدا تو خدا ہے اور وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں زمین پر ہمیں انسان بن کر رہنا چاہیے نہ اپنے مرتبے سے بڑھنا چاہیے اور نہ ہی کسی کو مرتبے سے گرانا چاہیے ۔۔۔تیرہواں افسانہ تابوت بھی ہلکا پھلکا افسانہ تھا۔۔۔چودہواں افسانہ واٹر کا دوست تقسیم ہند کے بعد کے زمانے کے کالج لائف کا افسانہ ہے۔۔۔اس افسانے کو پڑھنے کے بعد ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ گورے چلے تو گئے مگر ہمارے سرکاری ادارے ان کے غلام ہی رہے بلکہ آج کے دور میں بھی انگریز ہی ہم پر حکمرانی کر رہا ہے کافی سنجیدہ افسانہ تھا یہ جس نے ہمیں یہ بتایا کہ گورے آج بھی ہمارے حکمران ہیں۔۔۔۔پندرہواں افسانہ شیدے نے پگڑی باندھ لی بھی اونچے سنگھاسن پر بیٹھے چودھریوں کا ہی ایک اور شرمناک رنگ ہے جو آپ کو حیرت میں مبتلا کر دے گا ۔۔۔آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قائم دین 15 افسانوں کے پھولوں کا وہ گلدستہ ہے جس کا ہر پھول خوشبودار اور مہک آیا ہوا ہے ناطق صاحب کے قلم کا زیادہ تر موضوع گاؤں کے کھیت کھلیان چوراہے پکڈنڈیاں ہیں جو ایک خوشگوار احساس دلاتا ہے ناطق صاحب کا دعوی ہے کہ ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے اگر آپ کو مجھ سےیعنی علی اکبر ناطق سے محبت نہ ہو جائے تو میں جو ٹھا۔۔۔اور یہ بات ان کی سو فیصد سچ بھی ہے مگر مجھے تو ناطق صاحب سے دلی محبت اس وقت ہی ہوگئی تھی جب میں نے نولکھی کوٹھی ناول پڑھا تھا رہی سہی کسر اس افسانوں کی کتاب نے پوری کر دیا ۔۔۔یہ افسانوں کی کتاب کم اورضیخیم کہانیوں کی کتاب زیادہ لگتی ہے کیونکہ ہر افسانہ ایک ضخیم ناول کی حیثیت رکھتا ہے آپ کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x1n2onr6\" id=\":r1i3:\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x1n2onr6\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x1ey2m1c xds687c xg01cxk x47corl x10l6tqk x17qophe x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h\" data-visualcompletion=\"ignore\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095051120857,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rozamaraadab_1.png?v=1772705162"},{"product_id":"شاہ-محمد-کا-ٹانگہ-علی-اکبر-ناطِق-ali-akbr-natiq","title":"شاہ محمد کا ٹانگہ | علی اکبر ناطِق | Ali Akbr Natiq","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eشاہ محمد کا ٹانگہ (مکمل افسانہ)\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eعلی اکبر ناطِق\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمَیں دیر تک بوسیدہ دیوار سے لگا، ٹانگے کے ڈھانچے کو دیکھتا رہا، جس کا ایک حصّہ زمین میں دھنس چکا تھا اور دوسرا سُوکھے پیڑ کے ساتھ سہارا لیے کھڑا تھا، جس کی ٹُنڈ مُنڈ شاخوں پر بیٹھا کوا کائیں کائیں کر رہا تھا۔ کچھ راہ گیر سلام دُعا کے لیے رُکے لیکن میری توجہ نہ پا کر آگے بڑھ گئے۔ مجھے اُس لکڑی کے پہیے اور بمبو کے ڈھانچے نے کھینچ کر تیس سال پیچھے لے جا پھینکا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eلَے \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eبھئی جوان! شاہ محمد نے چھانٹے کی لکڑی ٹانگے کے پہیے سے ٹکراتے ہوئے بات شروع کی، اُن دنوں مَیں ممبئی میں تھا اور جوانی مجھ پر پھوٹی پڑتی تھی اور خون تازہ تھا۔ بس وہ کار جاپان سے بن کر نئی نئی ہندوستان پہنچی کہ مَیں نے خرید لی (اِس بات کے دوران اُس نے چھانٹا پھر گھومتے ہوئے پہیے کے ساتھ لگا دیا، جس کی رگڑ سے گڑررر گڑررر کی آواز پیدا ہوئی اور گھوڑا مزید تیز ہو گیا) اور لگا ممبئی کی سڑکوں پر دوڑانے۔ میاں جوانی اندھا خون ہوتا ہے، ٹیلے گڑھے نہیں دیکھتا، رگوں میں شراب کی طرح دوڑتا ہے اور میری کوئی جوانی تھی؟ شہابی رنگ تھا اور کٹاری سی مونچھیں، پھر گاڑی کا ہاتھ آ جانا قیامت ہو گیا، سوار ہو کر سڑک پر آتا تو لوگ کناروں سے جا لگتے، کہتے بھائی! اوٹیں لے لو، شاہ محمد قضا پر سوار چلا آتا ہے۔ اُن دنوں کار پر سواری بٹھانا شرم کی بات تھی اِس لیے اکیلا ہی گھومتا۔ ممبئی کے ہجوم کا تو آپ کو پتا ہی ہے، لیکن مَیں نے کہا، شاہ محمد بات جب ہے، جب تُو گاڑی بھری سڑک پر ہوا کی طرح چلائے۔ پھر تھوڑے ہی دنوں میں سرکس والوں کو پچھاڑنے لگا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتو کیا آپ سرکس میں کام کرنے لگے تھے؟ مَیں نے حیران ہو کر سوال کیا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاو میرے بھتیجے! شاہ محمد نے گھوڑے کو چھانٹا مار کر مزید تیز کر دیا، سرکس والی بات تو میں مثال دینے کے لیے کر رہا ہوں۔ میرا اُن مداریوں سے کیا تعلق؟ وہ بچارے تو پیٹ بھرنے کے لیے یہ دَھندا کرتے ہیں، روزی روٹی کی تھوڑ اُن کو موت کے رسوں پر چلاتی ہے۔ اِدھر تجھے تو پتا نہیں، پر اللّٰہ بخشے تیرا دادا میرے باپ کو جانتا تھا۔ ہم پُرکھوں سے نواب تھے۔ لاکھوں ہی روپے اِن ہاتھوں سے کھیل تماشوں میں جھونک دیے۔ خیر چھوڑ اِن باتوں کو، بات جاپانی کار کی ہو رہی تھی۔ ممبئی کی سڑکوں پر دوڑاتے دوڑاتے پورا سپرٹ ہو گیا اور حد یہ ہوئی کہ چلتے ہوئے بڑے ٹرالروں کے نیچے سے گزارنے لگا۔ یوں ایک چھپاکے سے چلتے ٹرالر کے درمیان سے نکل جاتا، جیسے بھوت اُڑ جائے۔ ممبئی میں میری مثالیں بن گئیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاب میرے کان کھڑے ہوئے۔ مَیں نے شدید حیرانی سے پوچھا، وہ کیسے چاچا شاہ محمد؟\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eہاہا، شاہ محمد نے مونچھ پر ہاتھ پھیر کر گھوڑے کو برابر تھپکی دی اور بولا، جوان یہ بات تیری سمجھ میں نہیں آ سکتی، بس تُو چپ کر کے سُنتا جا۔ ایک دن عجیب قصّہ ہوا، مَیں کار میں جا رہا تھا، قدرت خدا کی دیکھو، وہ واحد دِن تھا جب میری رفتار ہلکی تھی۔ کیا دیکھتا ہوں، سڑک کنارے ایک آدمی نڈھال اور بُرے حال میں زخمی بھاگا جا رہا ہے۔ محسوس ہوتا تھا، ابھی گِرا۔ اُس کے پیچھے پولیس ہوٹر مارتی چڑھی آ رہی تھی۔ مَیں نے سوچا، بچارا مارا جائے گا، کچھ خدا ترسی کر دے۔ اُسی لمحے مَیں نے کار اُس کے پاس لے جا کر کھڑی کی اور کہا بھئی جلد بیٹھ جا۔ لَو جی، اِدھر وہ گاڑی میں بیٹھا، اُدھر مَیں نے ریس دبا دی۔ اب پیچھے پولیس اور اُس کی ہوٹریں اور آگے مَیں۔ وہ بندہ بہت گھبرایا کہ ابھی پکڑے جائیں گے۔ اب اُس بھڑبھوسیے کو کون بتائے کہ وہ کس کے ساتھ بیٹھا ہے؟ مَیں تو جانتا تھا، بیچاری ممبئی پولیس کی کیا اوقات ہے، سو سال ٹریننگیں لے پھر بھی میری ہوا کو نہ پہنچے۔ ٹکے ٹکے کے سپاہی روٹی روزی کی مصیبتوں میں پھنسے، چور تھوڑی پکڑتے ہیں؟ بچاروں نے رزق کا پھندا لگایا ہوتا ہے، ہمارا کیا مقابلہ کریں گے۔ اب ممبئی کی سڑکیں تھیں، ہماری کار تھی اور پولیس کی دس گاڑیاں۔ مَیں نے چلتے ہوئے پوچھا، بھائی کیا لفڑا کر کے بھاگے ہو، کہ اِتنے غنڈے پیچھے لگا لیے؟ تحمل سے بولا، سیٹھ بھیم داس کھتری کی تجوری لوٹی ہے، کھتری کے چاقو بھی لگ گیا ہے، اب بُرا پھنسا ہوں، پکڑا گیا تو سیدھا پھانسی گھاٹ فلائی ہو گی۔ میرے تو ہوش کی ایسی تیسی پھر گئی۔ او تیرے مُردوں کی خیر۔ بھیم داس کھتری کروڑوں کا مالک۔ پورے ممبئی میں اُسی کے سُود کا سکہ چلتا تھا۔ اُس کی تجوری لوٹنے کا مطلب تھا راتوں رات سیٹھ بن جانا۔ مَیں نے پوچھا، مگر تم تو خالی ہاتھ ہو؟ بولا، ابھی چندرا کھیم کے پُل نیچے پھینک آیا ہوں، بس ایک دفعہ اِن لفنگوں سے جان چھڑا دو، تمھیں مالا مال کر دوں گا۔ مجھے غصہ تو بہت آیا کہ یہ کون ہوتا ہے ہم نوابوں کو مالا مال کرنے والا؟ مگر اُس کی ناسمجھی دیکھ کر غصہ پی گیا، البتہ ریس پر پاؤں کا دباؤ مزید بڑھ گیا، جس کی وجہ سے کار اب چلتی نہ تھی گویا اُڑتی تھی۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاتنے میں ایک بکریوں کا ریوڑ سڑک سے گزرنے لگا اور شاہ محمد کو گھوڑے کی لگام کھینچنا پڑی، اس کے ساتھ اُس کی داستان بھی رُک گئی، وہ بدمزگی سے بولا، یار یہ اَیالی لوگ بھی خدا جانتا ہے، زلزلے کی گھڑی پیدا ہوتے ہیں۔ جہاں سے گزرتے ہیں ہر چیز کا ناس پھیر دیتے ہیں۔ سڑکیں تو اِن کے باپ کی ہوتی ہیں، جو اپنے نام لکھوا لیتے ہیں۔ دیکھ، کس سکون سے کاپا کاندھے پر رکھے اکڑتا جا رہا ہے، جیسے نادر شاہ کا سالا ہو۔۔۔ ایالی کو آواز دیتے ہوئے، او بھائی جلدی کر، گھوڑا بدکتا ہے، بھیڑوں کو جلدی ہانک لے، اُف خدا وندا کیسا شیطانی آنت کا ریوڑ ہے؟ ایالی نے شاہ محمد کی آواز سُنی ہی نہیں، اُسی بُردباری سے سڑک کے درمیان چلتا رہا۔ شاہ محمد پر یہ دورانیہ صدیوں پہ محیط ہو گیا مگر انتظار کے سوا کیا کر سکتا تھا؟ قصّہ سننے کی بے چینی مجھے بھی تھی لیکن میری طبیعت میں ذرا اطمینان تھا۔ خدا خدا کر کے ٹانگے کے گزرنے کا رستہ بنا تو شاہ محمد نے شکر کا کلمہ پڑھا اور دوبارہ گھوڑے کو چابک دکھایا۔ گھوڑے نے چال پکڑی تو مَیں نے کہا، چاچا پھر آگے کیا ہوا؟\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیار اِس ایالی نے بات کا مزہ ہی ہَوا کر دیا۔ خیر، تو بھائی مَیں کہہ رہا تھا، مجھے اُس دمڑی گیر کی بات پر بہت غصہ آیا لیکن یہ سمجھ کر پی گیا کہ نا سمجھ ہے، جانے دو۔ گاڑی، پتا نہیں کتنے میل کی سپیڈ پر تھی، میٹر کی سوئی پر تو مَیں نے نظر نہ کی، البتہ پہیے کبھی زمین پر لگتے تھے، کبھی نہیں، عین اُسی لمحے ہمارے سامنے بہتّر (۷۲) اِنچ کے پہیوں والے دو ٹرک آ گئے۔ ایک دائیں سے، ایک بائیں سے۔ اب کیا تھا، پیچھے پولیس، آگے دو ٹرک اور سڑک تنگ۔ مَیں نے کہا، لے بھئی شاہ محمد یہی وقت ہے عزت بچانے کا، اب پرائی مصیبت سر پر لی ہے تو اِسے بھگت اور کھیل جا جان پر۔ لو جی، مَیں نے فوراً ہی فیصلہ کیا۔ اُسے کہا، کاکا مضبوط ہو جا اور پھرتی سے کار کو ایک ٹرک کے نیچے سے گزار کر سڑک کے دوسری طرف ہو گیا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eٹرک کے نیچے سے؟ چلتے ٹرک کے نیچے سے؟ اُف میرے اللّٰہ، مجھ پر گویا حیرانی کا دورہ پڑ گیا۔ اگر کچلے جاتے تو پھر؟\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eہاہاہاہاہا، زور کا قہقہہ، بیٹا اِسی کا نام تو ہشیاری اور کاری گری ہے۔ شاہ محمد نے سینہ فخر سے پھلاتے ہوئے کہا، اِن کاموں میں پلک جھپکنے کا حساب رکھنا پڑتا ہے، لمحے بھر کی غلطی ہوئی نہیں کہ بندہ اللّٰہ ہُو ہو جاتا ہے۔ بہرحال آگے سُن، دیکھا تو آگے سڑک ہی نہیں تھی، لمبی اور گہری کھائی تھی۔ بیلیا! یہاں بھی مری حاضر دماغی کام آئی، مَیں نے ایک منٹ کے ہزارویں حصے میں ہینڈل کو دوسری طرف گھما دیا۔ بس یہ سمجھ لو، اُس وقت میری پھرتی سلیمان پیغمبر کے وزیر سے بھی زیادہ تھی۔ میری اِس تیزی سے یہ ہوا کہ گاڑی ایک طرف کے دو پہیوں پر ہو گئی۔ اب وہ کھائی سے تو بچ گئی لیکن سکوٹر کی طرح دو پہیوں پر ہی دوڑتی گئی، بھائی وہاں تو اچھا خاصا تماشا بن گیا۔ ممبئی کی خلقت بھاگ کر سڑک کے کنارے جمع ہو گئی۔ مَیں نے سوچا، ہماری تو جان پر بنی ہے اور اِنہیں دیکھنے کو کھیل مِل گیا۔ اب گاڑی کی رفتار اتنی تھی کہ بچارے میٹر کی سوئی کے بس سے باہر ہو گئی، اگر اُسی وقت چار پہیوں پر کرتا تو اُلٹ جاتی۔ مَیں نے سوچا، اِسے اِسی طرح جانے دو۔ وہ بھڑوا ایک دفعہ بولا، بھائی اِسے سیدھی کر لو ورنہ مَر جائیں گے۔ مَیں نے فوراً ڈانٹ دیا، نالائق چُپ رہ، جس کام کا پتا نہیں، درمیان میں نہیں ٹوکتے۔ کار کو تین میل تک اسی طرح دو پہیوں پر رکھا اور بھوت کی طرح نکل گیا۔ جوان، کیا زمانے تھے اور ایک یہ دن ہیں، ایالی رستہ نہیں دیتے۔ شاہ محمد کی بات جاری تھی کہ گاؤں آ گیا۔ وہ میری طرف دیکھے بغیر بولا، لے بئی جوان باقی قصّہ کل پر۔ مَیں چھلانگ مار کر ٹانگے سے نیچے اُتر گیا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095051186393,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rozamaraadab_2.png?v=1772705164"},{"product_id":"ھیت-شعر-علی-اکبر-ناطق-ali-akbr-natiq","title":"ھیت شعر |  علی اکبر ناطق | Ali Akbr Natiq","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eھیت شعر |  علی اکبر ناطق | Ali Akbr Natiq\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eشعر اقبال کی جمالیاتی ساخت اور فکر نظام\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48095051251929,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0801\/9902\/4857\/files\/rozamaraadab_5.png?v=1772705165"}],"url":"https:\/\/bookdiscovery.store\/collections\/ali-akbar-natiq.oembed","provider":"Bookdiscovery","version":"1.0","type":"link"}